دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سیرت جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

سیرت جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
عنوان: سیرت جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
تحریر: محمد کامران رضا
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء احمدآباد، گجرات

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کسی بھی شخصیت کی شہرت و پہچان میں اس کے خاندان کا پسِ منظر شامل ہوتا ہے، لیکن یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ بعض افراد اپنے خاندان سے قطعِ نظر، صرف اور صرف اپنے فضل و کمال، علم و عمل کی بنیاد پر پوری دنیا میں عزت و شہرت کے حامل بن جاتے ہیں۔ اللہ پاک ہر دور میں ایسے افراد پیدا فرماتا ہے جو محض اپنی جدوجہد، شوق و لگن، علم و حکمت اور فکر و تدبر کا آفتاب بن کر عوام و خواص سبھی کے لیے مرجع و ماوٰی ثابت ہوتے ہیں۔ ایسی شخصیات بہت کم ہوتی ہیں جو علم و حکمت، تحقیق و تدقیق، تلاش و جستجو کے ساتھ ساتھ خلوص و للّٰہیت، اخلاق و اطوار، شفقت و رأفت، تواضع اور سادگی کے پیکر ہوں، تاہم دنیا کبھی بھی اہلِ اللہ اور اہلِ صفا سے خالی نہیں رہی۔

ماضی قریب میں شہرِ مراد آباد کے مشہور قصبہ ”بھوج پور“ میں ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت پیدا ہوئی جسے بچپن میں لوگ ”عبد العزیز“ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ بعد میں وہ علم و حکمت اور زہد و تقویٰ کا پیکر بن کر دنیا میں چمکے۔ اربابِ علم و دانش نے اس پیکرِ علم و عمل کو ”حافظِ ملت“، ”استادُ العلماء“ اور ”جلالۃُ العلم“ جیسے عظیم القاب سے نوازا۔

آپ گوناگوں صفات کے حامل تھے، حسنِ اخلاق کا یہ عالم تھا کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا اعتراف کرتے تھے۔ حافظِ ملت وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین کی خدمت و حفاظت میں بسر فرمایا۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ میدانِ تقریر و تحریر، تبلیغ و ارشاد، تنظیم و تدبیر، اور بالخصوص تعلیم و تدریس و مناظرہ میں شہسوارِ وقت نظر آتے ہیں۔

حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ جب مبارک پور تشریف لائے تو اس وقت سنیت کے خزاں رسیدہ چمن میں ایک بہار آگئی۔ پورے مبارک پور میں علمی ہلچل پیدا ہوگئی اور وہ شہرت و عروج کی بلند ترین منزل پر پہنچ گیا۔ سارے ہندوستان میں مبارک پور کا چرچا ہونے لگا۔ حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جدوجہد، محنت و لگن سے ایک چھوٹے سے مدرسے کو اہلِ سنت کا عظیم قلعہ بنا دیا، جسے آج دنیا اہلِ سنت کے عظیم الشان علمی و روحانی مرکز ”الجامعۃ الاشرفیہ“ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ ہماری خوش بختی اور سعادت ہے کہ ہمیں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی حیاتِ مبارکہ کے تابناک پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔

ولادت

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۳۱۲ھ بمطابق ۱۸۹۴ء میں قصبہ بھوج پور، ضلع مراد آباد (یوپی، ہند) میں بروز پیر صبح کے وقت ہوئی۔

نام و نسب

آپ کا نامِ نامی: عبد العزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبد الرحیم علیہم الرحمۃ و الرضوان

کنیت: ابو الفیض

مشہور القاب: حافظِ ملت، استادُ العلماء، جلالۃُ العلم، محدث مراد آبادی، استاذ الاساتذہ، منبعِ فیض و برکات، شیخ الحدیث والتفسیر، بانی الجامعۃ الاشرفیہ وغیرہ۔

حافظِ ملت کا خاندان

حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد احکامِ شرع کے پابند، باعمل حافظ اور عاشقِ قرآن تھے۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے قرآن پاک کی تلاوت زبان پر جاری رہتی۔ آپ ”بڑے حافظ جی“ کے لقب سے مشہور تھے۔

حافظِ ملت فرماتے ہیں کہ ایک بار والد ماجد کو حیدر آباد میں ماہِ رمضان میں تراویح سنانے کے لیے مدعو کیا گیا۔ مدینہ مسجد میں ۲۷ شبینہ ہوا۔ دوسرے حافظوں کو آپ کے سامنے پڑھنے کی جرأت نہ ہوئی۔ پورا قرآن مجید والد ماجد نے ہی ختم کیا۔ اس وقت والد صاحب کی عمر ۷۰ سال تھی۔

بچوں کی عمر سات سال ہوتے ہی آپ انہیں نماز اور روزے کی تاکید کرتے تھے۔ کوئی ملنے آتا تو خوب مہمان نوازی کرتے۔ اگر مہمان نماز کا پابند ہوتا تو رات ٹھہراتے، ورنہ صرف کھانا کھلا کر رخصت کر دیتے۔ جب حج و زیارت سے مشرف ہوئے اور واپسی پر اخراجات ختم ہو گئے تو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا، بلکہ محنت مزدوری کر کے اخراجات جمع کیے اور نو ماہ بعد واپس تشریف لائے۔ تقریباً ۱۰۰ سال کی عمر پاکر اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۵۴]

والدہ ماجدہ بھی صوم و صلوٰۃ کی بڑی پابند تھیں۔ باوجود غربت کے اپنے پڑوسی کا اس قدر خیال رکھتی تھیں کہ اپنا کھانا اکثر ایک بیوہ پڑوسن کو کھلا دیتیں اور خود بھوکی رہ جاتیں۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۵۵]

برادران:

  1. حافظ عبد الرشید
  2. مولانا حکیم عبد الغفور
  3. عبد الشکور

شادی و خانہ آبادی

حافظِ ملت فرماتے ہیں: میرا نکاح میرے ماموں کی بیٹی سے ہوا تھا جو اپنے زمانے کی ولیہ تھیں۔ اس سے چار بچے ہوئے مگر بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ آخری بچے کی ولادت ہی میں مرحومہ کا انتقال ہو گیا۔ مجھے اس کی جدائی کا عظیم صدمہ ہوا۔ پھر میں نے ارادہ کر لیا کہ اب دوسرا نکاح نہیں کروں گا۔ مگر والد صاحب کے اصرار کی وجہ سے دوسرے نکاح کے لیے راضی ہو گیا۔ دوسرے نکاح سے تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہوئیں۔ ایک لڑکا ۱۵ دن کی عمر میں، ایک بڑی لڑکی کا بھی انتقال ہو گیا۔ دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں جو باصلاحیت ہیں۔

اولاد

  1. حضرت علامہ عبد الحفیظ صاحب قبلہ (جانشینِ حافظِ ملت و سربراہِ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ)
  2. حافظ عبد القادر صاحب قبلہ
  3. دو صاحبزادیاں [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۵۶]

ابتدائی تعلیم و تربیت

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم، ناظرہ اور حفظِ قرآن پاک کی تکمیل والد ماجد حافظ غلام نور علیہ الرحمہ سے کی۔ اس کے علاوہ اردو کی چار جماعتیں اپنے وطن بھوج پور میں پڑھیں۔ فارسی کی ابتدائی کتب بھوج پور اور پیپل سانہ (ضلع مراد آباد) سے پڑھ کر گھریلو مسائل کی وجہ سے سلسلہ تعلیم موقوف ہو گیا اور بھوج پور میں ہی مدرسہ حفظ القرآن میں تدریس اور بڑی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ [مختصر سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۲۲]

سلسلہ تعلیم دوبارہ جاری

پھر کچھ عرصے بعد حالات بدلے اور والد ماجد کی خواہش اور دادا جان کی پیش گوئی پوری ہونے کا سامان کچھ یوں ہوا کہ علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید مولانا حکیم محمد شریف حیدر آبادی علیہ الرحمہ علاج کے سلسلے میں بھوج پور تشریف لانے لگے۔ جب بھی تشریف لاتے تو حضور حافظِ ملت کی اقتدا میں نماز ادا کرتے۔ ایک دن کہنے لگے: ”آپ قرآن تو بہت عمدہ پڑھتے ہیں، اگر آپ علمِ طب پڑھنا چاہیں تو میں پڑھا دوں گا۔“ والد صاحب سے اجازت لے کر مراد آباد تشریف لے گئے۔ حکیم صاحب نے گلستاں میں امتحان لیا، عربی میں طب پڑھانے کا مشورہ دیا اور میزان شروع کرائی۔ ۱۵ دن میں میزان و منشعب ختم کر دیا۔ نحو میر اور صرف میر بھی چند روز میں ختم ہو گئیں۔ حکیم صاحب نے فرمایا: ”میری مصروفیات زیادہ ہیں، اب آپ جامعہ نعیمیہ میں داخلہ لے لیجیے۔“ چنانچہ ۲۷ سال کی عمر میں جامعہ نعیمیہ میں داخلہ لے لیا اور تین سال تعلیم حاصل کی۔

صدر الشریعہ کی صحبت کیسے ملی

۱۳۴۲ھ میں آل انڈیا سنی کانفرنس مراد آباد میں منعقد ہوئی۔ حضور حافظِ ملت نے موقع دیکھ کر صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں درخواست کی تو فرمایا: ”ماہِ شوال سے اجمیر شریف تشریف لائیں، مدرسہ معینیہ میں داخلہ دلوا کر تعلیمی سلسلہ شروع کرا دوں گا۔“ [مختصر سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۲۴]

مراد آباد سے اجمیر شریف کا سفر

مراد آباد سے چند ہم سبق دوستوں کے ساتھ اجمیر کے لیے نکلے۔ زادِ راہ کی قلت تھی۔ ٹرین میں دو آنے کے چنے خریدے۔ اکثر خراب نکلتے۔ دوسرے روز تقریباً ۱۰ بجے اجمیر پہنچے۔ شدید بھوک کے باوجود بغیر کسی کمزوری کے جامعہ معینیہ پہنچے۔ ایک کمرے میں سامان رکھا، استنجاء سے فارغ ہوئے تو بھوک چمک گئی۔ باہر طاق میں خشک روٹیاں پڑی تھیں، کھائیں اور شکر ادا کیا۔ داخلہ ہو گیا مگر کھانے پینے کا انتظام دو ماہ بعد ہوا۔ مجلسِ شوریٰ نے ایک ایک روپیہ ماہانہ وظیفہ منظور کیا۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۵۹]

پیارے اسلامی بھائیو! حضور حافظِ ملت اور آپ کے ہم سبق دوستوں نے بھوک و تکلیف سہہ کر علم کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ طلبہ کرام کو اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے کہ زمانۂ طالب علمی کی مشکلات پر صبر کریں اور بہترین بدلہ اللہ رب العزت سے طلب کریں۔

آپ کے اساتذہ کرام

ابتدائی تعلیم والد ماجد حافظ غلام نور اور مولانا عبد المجید بھوجپوری رحمہما اللہ سے۔ جامعہ نعیمیہ میں مولانا عبد العزیز خان فتح پوری، مولانا اجمل شاہ سنبھلی، مولانا وصی احمد سہسرامی۔ جامعہ معینیہ میں مفتی امتیاز احمد، حافظ سید حامد حسین اجمیری اور بالخصوص صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہم اللہ سے اکتسابِ فیض کیا۔ [فیضانِ حافظِ ملت، ص: ۸]

میدانِ تدریس میں حافظِ ملت

درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ بریلی شریف میں صدر الشریعہ کی خدمت میں رہے۔ شوال ۱۳۵۲ھ میں صدر الشریعہ کے حکم پر مبارک پور تشریف لائے اور درس و تدریس شروع کی۔ چند ماہ میں طرزِ تدریس کے چرچے عام ہو گئے۔ تشنگانِ علم کا سیلاب امنڈ آیا۔ فرقہ باطلہ وہابیہ سے برداشت نہ ہوا۔ دیوبندی مولوی نے مناظرہ کیا۔ حافظِ ملت تنہا مقابلہ کرتے رہے، دن میں ۱۳-۱۳ کتابیں پڑھاتے، رات کو ایک بجے تک جوابات تیار کرتے۔ مہینوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر فاتحِ مبارک پور کہلائے۔ [حافظِ ملت نمبر، ص: ۱۲۸]

یہ کون اٹھا ہند شمالی کی زمیں سے
علم اور حقائق کی سنبھالے ہوئے قندیل
سدرہ کے مکینوں سے سنا بدر نے اک راز
ہونے کو ہے اب آرزوئے شوق کی تکمیل

الجامعۃ الاشرفیہ کی سنگِ بنیاد

مدرسہ اشرفیہ کا سالانہ جلسہ اور نئی عمارت کی سنگِ بنیاد کی تقریب میں شیخ المشائخ شاہ علی حسین اشرفی میاں، محدث اعظم ہند اور صدر الشریعہ رحمہم اللہ تشریف لائے۔ بعد نمازِ جمعہ محدث اعظم ہند نے سنگِ بنیاد رکھا۔

شوال ۱۳۶۱ھ میں کچھ مسائل کی بنا پر استعفیٰ دے کر ناگپور چلے گئے۔ تعلیمی و معاشی حالت خستہ ہو گئی تو صدر الشریعہ کے حکم پر ۱۳۶۲ھ میں واپس مبارک پور تشریف لائے اور تادمِ حیات وابستہ رہے۔

۱۳۹۲ھ بمطابق ۱۹۷۲ء میں مفتی اعظم ہند کے دستِ مبارک سے الجامعۃ الاشرفیہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۶۵۰-۷۰۰]

درسی کتب پر مہارت

مشکل سے مشکل کتابیں برجستہ پڑھاتے۔ ایک بار قاضی مبارک کا درس تھا، طالب علم نے اشارہ کیا کہ مطالعہ ختم ہو گیا۔ حضرت نے فرمایا: ”عبد العزیز کو قاضی مبارک پڑھانے کے لیے مطالعہ کی حاجت نہیں، ایک نشست میں پوری کتاب پڑھا سکتا ہوں۔“

ایک بار علامہ غلام میرٹھی امتحان لے رہے تھے، مسلم الثبوت پر ۱۱ بجے دن تک سوالات ہو رہے تھے۔ حافظِ ملت تشریف لائے اور فرمایا: ”اب پڑھنے والے طلبہ نہیں رہے۔“ علامہ میرٹھی نے کہا: ”۲۵ سال بعد یہ کتاب سامنے آئی، آپ کے بچوں نے سمجھا ہے، ایسی جماعت عمر میں پہلی بار ملی۔“ [معارفِ حافظِ ملت، ص: ۲۵]

مشہور تلامذہ

  1. نائب حافظِ ملت علامہ عبد الرؤف بلیاوی
  2. قائدِ اہلِ سنت علامہ ارشد القادری
  3. فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی
  4. شمس العلماء علامہ شمس الدین گھوسی
  5. بدرِ ملت علامہ بدر الدین احمد قادری
  6. بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی
  7. محدث جلیل علامہ عبد الشکور
  8. ادیب شہیر علامہ بدر القادری
  9. رئیس القلم علامہ یاسین اختر مصباحی
  10. شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں
  11. صدر العلماء علامہ احمد مصباحی
  12. محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری
  13. مبلغ اسلام علامہ عبد المبین نعمانی
  14. عزیزِ ملت علامہ عبد الحفیظ صاحب (جانشینِ حافظِ ملت)

گلابِ اشرفیہ تا قیامت یوں ہی نکھرے گا
رکھی ہے آپ نے کچھ ایسی نکہت حافظِ ملت

بیعت اور خلافت

شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خلافت و اجازت حاصل تھی۔ اشرفی اور رضوی دونوں بارگاہوں سے فیض حاصل تھا۔ [فیضانِ حافظِ ملت، ص: ۲۷]

تصانیف

  1. ارشاد القرآن
  2. معارفِ حدیث
  3. انباء الغیب
  4. فرقۂ ناجیہ
  5. المصباح الجدید
  6. العذاب الشديد
  7. فتاویٰ عزیزیہ
  8. حاشیہ شرحِ مرقات [شانِ حافظِ ملت، ص: ۱۵]

معمولات

بچپن سے فرائض و سنن کے پابند۔ بالغ ہوتے ہی تہجد شروع کی، آخری عمر تک قائم رہی۔ صلوۃ الاوابین، دلائل الخیرات روزانہ بلا ناغہ۔ صبح سورۂ یٰسین و یوسف، جمعہ کو سورۂ کہف کا التزام۔

مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اس دنیا سے جو لوگ چلے جاتے ہیں ان کی جگہ خالی رہتی ہے۔ خصوصاً مولانا عبد العزیز جیسے جلیل القدر عالم، مردِ مومن، مجاہد اور ولی کی جگہ پُر ہونا بہت مشکل ہے۔“ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۸۲۴ ملخصًا]

سادگی اور حیا

لباس موٹا سوتی، کرتا کلی دار، پاجامہ ٹخنوں سے اوپر، عمامہ ہر موسم میں، شیروانی بھی۔ چلتے تو نگاہیں جھکائے۔ گھر میں صاحبزادیاں بڑی ہوئیں تو مخصوص کمرے میں قیام۔ داخل ہوتے تو چھڑی زمین پر مارتے تاکہ آواز ہو جائے۔ غیر محرم کو کبھی سامنے نہ آنے دیتے۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۱۸۵، ۱۸۹ وغیرہ]

وصالِ پرملال

یکم جمادی الآخرۃ ۱۳۹۶ھ بمطابق ۳۱ مئی ۱۹۷۶ء رات ۱۱ بج کر ۵۵ منٹ پر داعیِ اجل کو لبیک کہا۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

[حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۸۰۹ ملخصًا]

شانِ حافظِ ملت کیا بیان کرے کوئی
عظمتوں نے خود ان کے در کی خاک چھانی ہے

اللہ تعالیٰ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے صدقے ہم سب کو بھی علم و عمل، اخلاص و محبت کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الأمین صلی اللہ علیہ وسلم

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔