دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تربیت اولاد (قسط اول)

تربیتِ اولاد (قسط اول)
عنوان: تربیتِ اولاد (قسط اول)
ماخوذ از: خطابِ حضرت علامہ خالد ایوب مصباحی صاحب شیرانی صاحب (چیرمین تحریک علمائے ہند)
تحریر و ترتیب: محمد کامران رضا گجراتی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

فَسْــٴـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ [النحل: 43]

ترجمہ: اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔

اسی آیتِ کریمہ پر عمل کرتے ہوئے، میں تربیتِ اولاد کے موضوع پر مفکرِ اسلام حضرت علامہ مولانا خالد ایوب مصباحی صاحب کا ایک نہایت اہم بیان سن رہا تھا۔ چونکہ علامہ صاحب کے بیان کا انداز نہایت مؤثر اور دل کو چھونے والا ہے، اس لیے میرے دل میں خیال آیا کہ اس کو تحریری شکل دے کر لوگوں میں عام کیا جائے تاکہ لوگ اس پر عمل کریں اور فائدہ حاصل کریں۔ اسی مقصد کے تحت میں نے اس بیان کو تحریر کیا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ اس پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں تک بھی اس پیغامِ خیر کو پہنچائیے۔

یہ تحریر علامہ صاحب کے اسی بیان کا ایک حصہ ہے۔ ان شاء اللہ باقی حصہ بھی ترتیب دے کر جلد آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔

مفکرِ اسلام حضرت علامہ خالد ایوب مصباحی صاحب فرماتے ہیں:

کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں والدین کے ادب و آداب کا ذکر کیا، اور ان ادب و آداب کے ضمن میں ایک طریقہ یہ بھی بتایا کہ بندے کو اپنے ماں باپ کے لیے دعائے رحمت کرنی چاہیے۔

ارشاد فرمایا:

قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا [الإسراء: 24]

ترجمہ: اے میرے رب! میرے بوڑھے ماں باپ پر ویسے ہی رحم فرما جیسے بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔

کیونکہ ماں باپ کی اولاد کتنی بھی خدمت کر لے، اولاد کبھی بھی ماں باپ کے ماں باپ ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ اس لیے آخر میں طریقہ سکھایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی جائے اور کہا جائے: پروردگار! ہم کچھ بھی کریں ان کی خدمت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ ہم تیری بارگاہ میں رحمت کی بھیک مانگتے ہیں کہ تو ان پر رحم فرما۔ اس آیتِ کریمہ میں ہم سب کے لیے نصیحت ہے کہ والدین کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ہم دعا بھی کریں کہ پروردگار! میرے ماں باپ پر رحم فرما۔

جہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ بندے کو دعا کرنی چاہیے کہ: ”اے میرے رب! میرے بوڑھے ماں باپ پر رحم فرما۔“ یہاں پر ایک وسیلہ سکھایا گیا اور فرمایا: ”پروردگار! ویسے ہی رحم فرما جیسے بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔ دعائے رحمت میں یہ بات پیش کرے کہ پروردگار! ویسے ہی رحم فرما جیسے بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔“

صَغِيْرًا“ کا لفظ استعمال ہوا، یعنی بچپن کی تربیت۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا تربیت بچپن میں ہی ہوتی ہے؟ یہاں بچپن ہی کی تربیت کو قرآن مجید میں کیوں ذکر کیا گیا؟ عزیز دوستو! سائیکالوجی ایک پورا فن ہے۔ سائیکالوجی کا یہ ماننا ہے کہ جسے تربیت کہتے ہیں وہ تو بچپن ہی میں ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے بعد دراصل تربیت نہیں، نصیحتیں ہوتی ہیں۔ نصیحتوں سے انسان کبھی کبھار اثر پذیر ہوتا ہے، نصیحت قبول کرتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ نصیحتوں کا اثر نہیں ہوتا۔ تربیت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کبھی کبھار تربیتیں بھی اثر نہیں کرتیں، لیکن تربیت میں فیل ہونے کے چانسز کم سے کم ہوتے ہیں اور نصیحت میں فیل ہونے کے چانسز زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے تربیت پر زیادہ توجہ کرنا چاہیے۔

آج ۲۵ سال کا بیٹا اپنے باپ کی باتیں نہیں مانتا ہے۔ باپ ادھر ادھر تعویذ کے لیے مارا مارا پھرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے کہ بیٹا وفادار نہ نکلا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ باپ کے لیے غور و فکر کی بات ہے کہ بیٹا ۲۵ سال کی عمر میں بات نہیں مان رہا ہے، کبھی وہ بیٹا ۵ سال کا بھی تھا۔ اس وقت آپ نے اس کو اس لائق کیوں نہ بنایا کہ وہ آگے چل کر آپ کا فرمانبردار بنتا؟

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی شے اپنی اصل حالت میں ہو تو اسے بآسانی کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

مثلاً، ہمارے پاس ایک مائیک کا اسٹینڈ ہے۔ اگر ہم اسے کرسی کا پایہ بنانا چاہیں تو سب سے پہلے ہمیں اسے توڑنا پڑے گا اور پھر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ مضبوط یا کارآمد پایہ بن سکے۔ لیکن جب یہ لوہا گرم تھا اس وقت اس کو جو شکل دیتے، اس طرح بن جاتا۔ ہم جیسی بھی صورت چاہتے وہ اختیار کی جا سکتی تھی۔

اسی طرح بانس کے درخت کی مثال لیجیے۔ جب یہ درخت بن جاتا ہے تو سیدھا ہوتا ہے، یہی اس کی پہچان ہے۔ مگر جب یہ ایک نازک پودا ہوتا ہے تو اگر اسے کسی چیز کے ساتھ ٹیڑھا میڑھا کر دیا تو وہ ہمیشہ کے لیے اسی رخ پر بڑھتا ہے اور اپنی اصل سیدھی پہچان کھو دیتا ہے۔ یہی بانس جب بڑا ہو جائے تب آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں گے تو وہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔

بالکل اسی طرح جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں، ہم ان کو جو شکل دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ جب بچوں کا اپنا ایک شکل ہو جائے، اس کے بعد میں ہم ان کو دوسرا شکل دینا چاہیں تو یہ مشکل ہے۔ جب بچہ چھوٹا ہو، اسی وقت سے آپ اس کو ویسا ہی ماحول دیجیے جیسا آپ اس کو بنانا چاہتے ہیں۔

(جب بچہ چھوٹا ہو تو اسے جس سمت میں ڈھالنا چاہو، ڈھالا جا سکتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنی سمت خود طے کر لے تو پھر تبدیلی لانا مشکل ہوتا ہے۔ بچہ جس ماحول، زبان، لہجے اور رویے میں پرورش پاتا ہے، وہی اس کی شناخت بن جاتی ہے۔ اس لیے ابتدائی ماحول میں محبت، شفقت، احترام اور ادب کا ہونا بہت ضروری ہے۔)

والدین بڑوں کا ادب و احترام کریں اور بچوں کے لیے ہر کام میں رول ماڈل بنیں۔ بچہ نصیحتوں پر عمل نہیں کرتا بلکہ وہ جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے۔

(آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں گے تو بے شمار واقعات آپ کو مل جائیں گے کہ کس انداز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین کی تربیت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں محبت، شفقت، ادب و احترام اور عملی تعلیمات واضح طور پر جھلکتی ہیں۔)

بچوں کی تربیت میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم صرف نصیحتیں کرتے ہیں۔ بچوں کو نصیحتیں چاہیے ہی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے پریکٹیکل ہونا پڑتا ہے۔ آپ بڑوں کا ادب کریں، بچے بھی ادب کریں گے۔

آپ سچ بولیں، بچے بھی ہمیشہ سچ بولیں گے اور آپ نماز پڑھیں، بچے بھی نماز پڑھیں گے۔ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ جاہل سے جاہل آدمی بھی چاہے گا کہ اس کی اولاد تعلیم و تربیت یافتہ ہو۔

ایک خاتون سے انٹرویو لیا گیا۔ وہ عام خاتون تھی۔ گھروں میں برتن مانجھ کر اپنا گزارا کرتی تھی۔ شوہر کا سایہ سر سے جلدی اٹھ گیا۔ اس خاتون نے اپنے بچوں کو پڑھایا اور ملک کے اعلیٰ ترین امتحانات دلوا کر اپنے بچوں کو نہایت کامیاب بنایا۔ اس خاتون کا بعد میں انٹرویو ہوا۔ اس میں سوال ہوا کہ ان بچوں نے اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل کی؟ آپ کے شوہر کا سر پر سایہ بھی نہیں، نہایت ہی غربت ہے اور آپ خود بھی پڑھی لکھی نہیں۔ اس سوال کے جواب میں اس خاتون نے کہا کہ میں آج پہلی بار یہ راز کھول رہی ہوں کہ میرے بچوں کو اتنا قابل بنایا، میرے ”ڈھونگ“ نے۔ وہ ڈھونگ کیا تھا؟ ڈھونگ یہ تھا کہ آج تک میرے بچوں کو بھی نہیں معلوم کہ ہماری ماں پڑھی لکھی ہے یا نہیں۔ میں نے گھر میں ایک لائبریری بنا رکھی ہے۔ جب جب میرے بچوں کی پڑھائی کا وقت ہوتا تھا، میں پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتی تھی، اس کے باوجود میں زبردستی کتابیں اپنے سامنے اس طرح کھول کر بیٹھتی تھی جیسے بڑی پڑھی لکھی ہوں۔ میرے اس ڈھونگ کی وجہ سے میرے بچے پڑھنا لکھنا سیکھ گئے۔ آج جو کچھ ہے وہ اسی کی وجہ سے ہے۔

بچے یہ نہیں سمجھتے کہ کتابوں کی اہمیت کیا ہے۔ اگر گھر میں ماں باپ کتابیں پڑھتے ہیں تو بچے بھی کتابیں پڑھنے لگتے ہیں۔ اور اگر گھر میں ماں باپ موبائل ہی چلاتے ہیں تو بچے بھی موبائل چلانے والے بنتے ہیں۔ جناب! اگر بچے پورا دن موبائل استعمال کرتے ہیں تو اس میں آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے بچوں کو وہ ماحول ہی نہیں دیا کہ بچے موبائل کی جگہ کتابیں پڑھتے۔ اگر گھر میں موبائل کا ماحول ہے تو پھر ہمیں شکوہ کیوں ہوتا ہے کہ بچے پورا دن موبائل استعمال کرتے ہیں؟ پہلے مجرم آپ ہیں کہ آپ نے گھر میں موبائل کا ماحول بنایا ہے۔ ہم اور آپ موبائل میں لگے رہے اور امید یہ کریں کہ بچہ یو۔پی۔ایس۔سی (UPSC) پاس کرے۔ یہ آپ کے ارمان ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوں گے۔

ایک دانشور نے کہا تھا کہ ”آپ کو مسلمانوں کے گھروں میں سب کچھ مل جائے گا مگر کتابوں کے لیے کوئی الماری نہیں ملے گی۔“ ہماری قوم کو کچھ پڑھنا نہیں ہے اور دنیا کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آج دنیا ہمیں اپنے ٹھوکروں پر رکھتی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو پہچانا ہی نہیں ہے۔ اور ہم وہ بنے ہی نہیں جو ہم تھے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور ہم خوار ہیں تارکِ قرآن ہو کر

نہ ہم اپنے مال کا بھلا استعمال کرتے ہیں، نہ عقل کا اور نہ تجربات کا بلکہ ہم تو ایگو میں مرے جا رہے ہیں۔ ہمیں تو یہ چیز کھائی جا رہی ہے کہ ہم سے پوچھے بغیر یہ کام کیوں ہو گیا، ہم سے نہیں پوچھا اور یہ کام کیوں کر لیا گیا اور یہ ہوتے کون ہیں۔ اسی میں ہماری پوری قوم مرتی چلی جا رہی ہے۔

ذرا آگے بڑھے تو مہنگے مکان بنا لیے، اور آگے بڑھیں تو مہنگی شادیاں کر لیں، اور آگے بڑھیں تو مہنگی گاڑیاں خرید لیں۔ یہ سمجھدار قوموں کی نشانیاں نہیں ہیں۔ آج بھی تو ہم غیروں سے مہنگا موبائل خرید کر خوش ہو رہے ہیں۔ اب بھی تو ہمارے ذہن میں یہ سوال نہیں آتا ہے کہ جو مہنگا موبائل لے کر فخر محسوس کرتے ہیں، اس موبائل کمپنی کا مالک ہمارا بچہ کیوں نہیں؟ سوچتا کون ہے اتنے بڑے لیول تک جا کر؟ اور جب کوئی قوم اپنی نسلوں کے لیے سیریس ہوتی ہے تو اس کے بچے ویسے ہی نکلتے ہیں جیسے نکلنا چاہیے۔

اس وقت کی ظالم ترین قوم جس نے ہمارے پورے ملک کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے، وہ اسرائیل۔ دشمن کیسے کام کرتا ہے۔ ہم صرف زنانہ دعاؤں سے کام بنانا چاہتے ہیں۔ نہ کچھ کرنا، نہ کچھ دھرنا نہ کوئی صلاحیت، نہ لیپنے کے نہ پوتنے کے اور ہم چاہیں کہ دعاؤں سے بڑے انقلاب پیدا ہو جائیں۔ اگر دعاؤں سے ہی کام ہو جاتے تو کیوں جنگِ بدر کی حاجت پیش آتی؟

جب اسرائیلی قوم میں کوئی عورت پریگننٹ ہوتی ہے تو گھر تو گھر، حکومت کی طرف سے تاکید کی جاتی ہے کہ اس عورت کو کوئی غم لاحق نہ ہونے پائے۔ یہ عورت خوش رہنی چاہیے، خوش رہنے کے لیے موسیقی سنے اور یہ عورت خوش رہنے کے لیے پھل فروٹ کھاتی رہے، اس کو خوشخبریاں سنائی جاتی رہیں۔ جو عورت پریگننٹ ہوتی ہے اس سے میتھمیٹکس کے سوالات حل کروائے جاتے ہیں، سائنس کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور ریسرچ پیپر پڑھائے جاتے ہیں، تاکہ اس عورت کا دماغ تحقیقی دماغ بنے۔ اس وجہ سے کہ سائنس یہ کہتی ہے کہ جس وقت عورت حاملہ ہوتی ہے، دورانِ حمل عورت کے ذہن پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہی اثرات اس کی کوکھ میں پلنے والے بچے پر مرتب ہوتے ہیں۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ وہ آپ کے سامنے ہے۔

اب ہمارے یہاں کا حال دیکھیں: ہم نے بچے پیدا بھی کر دیے اور اس کی کوئی فکر نہیں۔ اور ادھر بچے کا لطفہ تیار ہو رہا ہے اور بچے کے لیے فکر کی جا رہی ہے۔ کیا رزلٹ نہیں آئے گا؟ رزلٹ کیا آتا ہے سنیں! دنیا کا ہر بڑا ایوارڈ جن کی جھولیوں میں جا کے گرتا ہے وہ ان لوگوں کی ہی اولاد ہوتی ہے۔

میں نہیں مانتا کہ آپ کے شہر میں کسی ایک آدمی کو بھی پدم شری (یہ ہندوستان کا بڑا ایوارڈ ہے) کا ایوارڈ کبھی ملا ہوگا۔ اور اگر مل جائے تو سر اونچا کر کے جائیں، کتنے نعرے لگائے جائیں، کتنا زندہ باد مردہ باد کریں اور آسمان سر پر اٹھا لیں کہ ہمارے یہاں پدم شری ملا ہے۔

کیا یہ مان لیجیے کہ ان لوگوں کے یہاں کوئی اسپیشل نسل پیدا ہوتی ہے کیا؟ جی نہیں! کیا قدرت نے کوئی طرفداری کی ہے یا قدرت نے کوئی الگ نظام رکھا کہ وہاں الگ بچے، یہاں الگ بچے؟ جی نہیں۔ فرق کس چیز کا ہے؟ تو فرق صرف اپنی صلاحیتوں کی قدر کرنے کا ہے۔ ان کے یہاں جب بچہ کوکھ میں ہوتا ہے، اس وقت سے اس کی فکر شروع ہوتی ہے: اس بچے کی تربیت کی فکر، اس کی ذہنی ترقی کی فکر، اس کی ماں کی فکر، اس کی تربیت کی فکر، اس کے جسم و جسمانیات کی فکر، اس کی صحت کی فکر اور پھر اس کی تعلیم کی فکر۔

ہمارے یہاں بچہ کب سوتا ہے، کب اٹھتا ہے، کیا کرتا ہے، کیا کھاتا پیتا ہے اور کس طرح سے اس کا لائف اسٹائل ہے، کوئی پرواہ نہیں ہے۔ تو پھر نسل بھی ویسی ہی تیار ہوگی۔

تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب اتنی زیادہ بچے پر توجہ دی جاتی ہے تو سنیں! دنیا کی ہر بڑی کمپنی کے مالک کو تلاش کرنے کی کوشش کیجیے اور اس میں بھی دنیا کی وہ کمپنیاں جو دنیا کی بڑی ضرورت ہیں۔ جیسے: مائیک ہماری ضرورت تو ہے، لیکن تین گھنٹے ضرورت ہے۔ صبح شام کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آٹا صبح شام کی ضرورت ہے۔ پانی لمحہ لمحہ کی ضرورت ہے۔

مجھے کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ ہمارے اسٹیج پر جو پانی کی بوتلیں ہیں وہ یہودی کمپنی کی ہیں۔ مجھے کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے، کہ آپ کے چوراہے پر جو دکانیں ہیں۔ جو چیزیں اور جو فروٹ آپ کھا رہے ہیں، اس کے پیچھے جو مارکیٹنگ ہے وہ کسی اور کی ہے۔

ہمارا لیموں پانی آج تک بھی ہماری گلیوں میں محدود ہے۔ اور انہوں نے ایک کولڈ ڈرنک بنایا اور وہ دنیا کے ہر کونے کونے میں پہنچا ہوا ہے۔ یہ مارکیٹنگ کا فرق ہے۔ جب نسلوں پر توجہ کی جاتی ہے تو نسل ویسی تیار ہوتی ہے جیسے ان کے لیے پلاننگ ہوتی ہے۔ اور اگر نسلوں کے لیے کوئی پلاننگ نہیں تو کل کے دن اگر کسی بیٹے یا بیٹی کے قدم ڈگمگا جائیں تو بیٹا، بیٹی بعد میں مجرم ہے، ماں باپ پہلے مجرم ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ صرف ارمانوں سے کام ہو جائے، صرف چاہتوں سے کام ہو جائے۔ یہ نظامِ قدرت کے خلاف ہے۔ نظامِ قدرت یہ ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں، اس کے لیے آپ کو محنتیں کرنی پڑیں گی اور ریگولر کرنی پڑیں گی۔ تب جا کے نتائج برآمد ہوں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔