دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کعبہ معظمہ کی شان و عظمت

کعبہ معظمہ کی شان و عظمت
عنوان: کعبہ معظمہ کی شان و عظمت
تحریر: محمد شعبان وارثی، کشن گنج، بہار
پیش کش: دی امان فاؤنڈیشن

بیت اللہ شریف، وہ مقدس و محترم مقام ہے جو پوری انسانیت کے لیے مرکزِ ہدایت اور وحدتِ امت کی علامت ہے۔ یہ وہ گھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے منتخب فرمایا، اور اسے زمین پر اپنی عبادت گاہوں میں سب سے پہلا گھر قرار دیا۔

اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّةَ مُبٰرَکًا وَّہُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ﴾ [آلِ عمران: ۹۶]

ترجمہ: بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔

کعبہ کی نسبت اللہ رب العزت سے ہے، اسی نسبت نے اسے دنیا کے تمام مقامات پر فضیلت و عظمت عطا فرمائی۔ یہی وہ مقام ہے جس کی طرف رخ کر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، یہی وہ مبارک عمارت ہے جس کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت حاصل ہے، یہی وہ عمارت ہے جس کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بابرکت ہاتھوں سے تعمیر فرمایا۔

مختصر سا واقعہ

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرِ مبارک جب ۳۵ برس ہوئی تو زبردست بارش سے حرمِ کعبہ میں سیلابی پانی آ گیا۔ اس سے کعبہ شریف کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور اس کا کچھ حصہ بھی گر گیا۔ قریش نے طے کیا کہ مکمل عمارت کو توڑ کر پھر سے کعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائے جس کا دروازہ بھی بلند ہو اور اس کی چھت بھی ہو۔ چنانچہ قریش نے مل جل کر اس کام کو شروع کر دیا۔ اس تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے اور پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔ مختلف قبیلوں نے کعبہ شریف کی عمارت کے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لیے۔ [آخری نبی کی پیاری سیرت، ص: ۳۵، مکتبۃ المدینہ]

یہی وہ قبلہ ہے جس کی طرف ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخِ مبارک کر کے نماز پڑھنا پسند فرمایا، جس کے تحت یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ﴾ [البقرة: ۱۴۴]

ترجمہ: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں، تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے، تو ابھی اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر دو۔

خصوصیاتِ بیت اللہ

  1. سب سے پہلی عبادت گاہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی طرف نماز پڑھی۔
  2. تمام لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا، جبکہ بیت المقدس مخصوص وقت میں خاص لوگوں کا قبلہ رہا۔
  3. مکہ معظمہ میں واقع ہے جہاں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے۔
  4. اس کا حج فرض کیا گیا۔
  5. حج ہمیشہ صرف اسی کا ہوا، بیت المقدس قبلہ ضرور رہا ہے لیکن کبھی اس کا حج نہ ہوا۔
  6. اسے امن کا مقام قرار دیا گیا۔
  7. اس میں بہت سی نشانیاں رکھی گئیں جن میں ایک مقامِ ابراہیم ہے۔ [صراط الجنان، ج: ۲، ص: ۱۵]

مقامِ ابراہیم کیا چیز ہے

قرآنِ پاک میں ﴿مَقَامُ اِبْرٰهِیْمَ﴾ کا لفظ آیا ہے۔

مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ یہ پتھر خانۂ کعبہ کی دیواروں کی اونچائی کے مطابق خود بخود اونچا ہوتا جاتا تھا۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدمِ مبارک کے نشان تھے جو طویل زمانہ گزرنے اور بکثرت ہاتھوں سے مس ہونے کے باوجود ابھی تک کچھ باقی ہیں۔

بزرگوں سے نسبت کی برکت

اس سے معلوم ہوا کہ جس پتھر سے پیغمبر کے قدم چھو جائیں وہ متبرک اور شعائر اللہ اور آیۃ اللہ یعنی اللہ عزوجل کی نشانی بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ﴾ [البقرة: ۱۵۸]

ترجمۂ کنز العرفان: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں پہاڑ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے قدم پڑ جانے سے شعائر اللہ بن گئے۔ [صراط الجنان، ج: ۲، ص: ۱۷]

کعبہ کی زیارت ہر مومن کا خواب، اس کے دل کی آرزو اور اس کے ایمان کی علامت ہے۔ جو دل کعبہ سے جڑ جائے، وہ دل اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ یہ وہ گھر ہے جس کی حرمت قیامت تک باقی رہے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔