| عنوان: | عقیدہ یا عقیدت؟ |
|---|---|
| تحریر: | ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی |
عقیدہ یا عقیدت
علماے کرام فرماتے ہیں: عقیدہ کی وجہ سے عقیدت ہوتی ہے نہ کہ عقیدت کی وجہ سے عقیدہ۔
لہذا پہلے عقیدہ چیک کریں اگر صحابہ و اہل بیت کے متعلق مسلک حق مسلک اہل سنت و جماعت کے مطابق عقیدہ درست ہے، ان کے متعلق کوئی بدکلامی نہیں کرتا، ان کا ذکر خیر کرتا ہے تو ٹھیک پھر عقیدت رکھیں۔ ورنہ
نبی سے جو ہو بے گانہ اسے دل سے جدا کردیں
اب ملاحظہ کریں کہ سارئ کائنات کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں۔ حضور سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«لا تسبوا أصحابي، من سب أصحابي فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل».
ترجمہ: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہنا، جس نے میرے صحابہ کو برا بھلا کہا اس پر اللہ پاک اور فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔ [الجامع الکبیر للسیوطی: حرف الالف واللام، ج:11، ص:170، رقم الحدیث: 24896]
سمجھ دار کے لیے یہ حدیث کافی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر بھی بلا وجہ لعنت کرنے منع فرماتے ہیں، مگر صحابہ کو بر بھلا کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس پر کسی ایک فرد تو کیا سارے انسان فرشتے اور خود رب کائنات کی لعنت بیان فرمائی۔ معاذ اللہ رب العالمین
ایک اور حدیث جس ایک ایک جزء شان صحابہ کا عکاس ہے:
عن أبي سعيد الخدري قال: قال النبي ﷺ: «لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه۔
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضور پاک سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔ تمہارا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا میرے صحابی کے ایک مد یا آدھے مد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہے۔ [مشکاۃ المصابیح للخطیب التبریزی: باب مناقب الصحابۃ، الفصل الاول، رقم الحدیث: 6007]
قربان میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز نصیحت پر:
اولاً آپ نے صحابہ کرام سے متعلق غلط بات کرنے سے منع فرمایا۔
ثانیاً: بات صرف یہیں تک نہیں رکھی، آگے خود اپنی زبان حجت نشان سے قیامت تک کے لیے صحابہ کا ذکر خیر کرنے کی سند عطا فرماتے ہوئے خود ذکر خیر اس انداز سے فرمایا کہ اس کے مثل قیامت تک کوئی کر بھی نہیں سکتا۔ تاکہ کوئی 1400 سال بعد 1400 سال کے ٹائٹل کو لے کر میرے صحابہ کے ذکر خیر سے خود بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہو اور دوسروں کو ذکر خیر سے روکے، تو اے لوگو اپ نے رکنا نہیں ہے، بلکہ میری اتباع میں اس طرح ذکر خیر کرتے رہنا جیسے میں خود کرکے دکھا رہا ہوں۔
فرمایا: میرے کوئی صحابی صرف ایک مد یا اس کا آدھا یعنی تقریبا 839 گرام یا اس کا آدھا خرچ کرے، اس کے مقابل میں تم سونا خرچ کرو، احد پہاڑ جو تقریباً 7 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اس کے برابر خرچ کرو، تب بھی اس کے بھی برابر نہیں ہوسکتا۔
اے عاشقان صحابہ و اہل بیت: پھر سنت مصطفی ادا کریں اور اس انداز سے ذکر صحابہ و اہل بیت کریں کہ اس ذکر خیر کی آواز صور اسرافیل کی طرح کام کرے۔
از: ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی
