دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سال نو کا جشن اور مسلم نوجوانوں کا تہذیبی رویہ

سال نو کا جشن اور مسلم نوجوانوں کا تہذیبی رویہ
عنوان: سال نو کا جشن اور مسلم نوجوانوں کا تہذیبی رویہ
تحریر: مفتی ذیشان ضیا مصباحی
خادم التدریس دار العلوم، ضیاء العلوم خیر آباد، مئو، یوپی
ڈائریکٹر: ضیا فاؤنڈیشن، خیرآباد، مئو

جیسے جیسے زمانہ دور رسالت سے دور ہو رہا ہے اسی قدر قوم مسلم کے درمیان سے اسلامی تہذیب و ثقافت رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کی جگہ مغربی کلچر لے رہا ہے۔ غیر تو غیر ہیں آج کل مسلمان بھی اسلامی اصولوں کو اپنانے اور مذہبی شناخت اور ملی تشخص سے وابستگی میں ننگ و عار محسوس کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بلکہ مغربی تہذیب و تمدن سے ارتباط کو اپنے لیے سرمایہ افتخار سمجھ رہے ہیں۔ حالاں کہ قوم مسلم بلکہ پوری انسانیت کی اصل کامیابی و کامرانی کا راز اسلامی تہذیب و ثقافت میں مضمر ہے۔

دسمبر کا مہینہ اپنی تاریخ کے آخری مراحل طے کر رہا ہے اور نیا عیسوی سال 2026ء شروع ہونے کو ہے۔ جب بھی دسمبر کی آخری رات آتی ہے تو مغربی تہذیب کے دل دادہ لوگ ہوٹلوں، دفتروں، کلبوں، پارکوں وغیرہ میں رقص و سرود، عیش و نشاط، شراب و کباب کا مزہ لینے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی رات کے بارہ بجتے ہیں، کیک کاٹتے ہیں، آتش بازیاں کرتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں۔ اور اس طرح نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔ نئے سال کا یہ جشن ضیاع مال، ضیاع وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی خرافات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اسلامی تعلیمات سے ذرا بھی تعلق رکھنے والا شخص بہ خوبی یہ جانتا ہے کہ اسلامی نیا سال ماہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے جنوری سے نہیں۔ سال کا آغاز جنوری سے اور اس کا اختتام دسمبر پر عیسائی کرتے ہیں۔ لہٰذا دسمبر کی آخری رات میں منایا جانے والا جشن ہمارا نہیں ہے، بلکہ عیسائیوں کا ہے۔

عیسائی اور دیگر قومیں اپنے کیلنڈروں کے مطابق اگر نئے سال کی آمد پر حیا سوز جشن مناتے ہیں تو منائیں! قوم مسلم کو اس طرح کے جشن سے دور و نفور رہنا چاہیے۔ نئے سال کی آمد پر مسلمانوں کا فسق و فجور پر مشتمل تقریبات منعقد کرنا، یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت ہے۔ مذہب اسلام میں جس کی ممانعت ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ”مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ“ جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔

مگر حیف صد حیف آج کل مسلمان مغربی تہذیب کے سیل رواں میں خس و خاشاک کی طرح اس قدر بہتے چلے جا رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ! نئے سال کی محافل سجانا، اس موقع پر غیروں کے حیا سوز جشن میں شرکت کرنا، نیو ائیر نائٹ کی خرافاتی تقاریب میں جا کر غیروں کی تعداد میں اضافہ کرنا مسلم نوجوانوں کا شیوہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ شاعر مشرق نے ایسے ہی لوگوں کو مندرجہ ذیل اشعار میں مخاطب کیا ہے:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

یہ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ آج پوری ملت کفر جس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے، جس کے مذہبی اقدار پر شب خون مار رہی ہے، جس کا قبلہ اول اس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ جس کو ظلم و ستم کا تختہ مشق بنایا جا رہا ہے، جس کو ذلت و رسوائی کے قعر عمیق میں دھکیلنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ جس قوم کی بیٹیاں ارتداد کی چکیوں میں پسی جا رہی ہیں۔ کیا اس قوم کو زیب دیتا ہے کہ نئے سال کی آمد پر اپنے جانی اور ایمانی دشمنوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر خوشی کے شادیانے بجائے اور عیش و طرب کے نغمے الاپے؟ ہمیں ہوش کے ناخن لینا چاہیے، اپنی تہذیب و تمدن کے تئیں مخلص ہونا چاہیے۔ اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے گریز کرنا چاہیے۔

ایک لمحے کے لیے غور کریں کہ رات 11:59 PM سے 12:00 AM تک ایک منٹ کے اندر آخر کون سا انقلاب پیدا ہو جاتا ہے کہ سروں پہ آسمان اٹھا لیا جاتا ہے اور لوگ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ دن بھی وہی رات بھی وہی، نئے سال کی ساعات بھی وہی۔

لوگ سال نو کی آمد پر خوشیاں مناتے ہیں سچ پوچھیں تو یہ ساعت جشن و مسرت کی نہیں، بلکہ عبرت و موعظت کی ہے کہ گزرتے ہوئے لیل و نہار نے ہماری حیات مستعار کا پورا ایک سال کم کر دیا، وقت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ پورے ایک سال کا قیمتی اثاثہ کھو جانے پر فرحت و انبساط کیسی؟

جب ہو گیا حیات سے اک سال اور کم
کیوں کر منائیں جشن ضیا سال نو کا ہم

(ضیا مصباحی)

ہاں! اتنی بات ضرور ہے کہ ہر نیا سال نئی امنگ و ترنگ، نئے حوصلوں اور جذبوں سے روشناس کراتا ہے مگر ساتھ ہی وہ ہمیں دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے اپنے محاسبے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جشن سال نو کی جگہ یوم احتساب منائیں اور اپنی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لیں۔ کتاب ماضی کے ایک ایک ورق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں۔ کہ اس کے اوراق کہیں کورے تو نہیں رہ گئے اور اگر مرقوم ہیں تو ہم نے کیا لکھا ہے؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا“ اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔

پھر اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد بہترین مستقبل کی تعمیر اور تشکیل کی منصوبہ سازی میں منہمک ہو جائیں۔ اور ماضی میں کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے اس کی تدبیریں کریں۔

سال نو کے موقع پر دینی و دنیوی احتساب کے ساتھ ساتھ ماضی میں کی جانی والی غفلتوں، لغزشوں اور خطاؤں پر شرم سار ہوں۔ اپنے غفار پروردگار کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کے ساتھ چشم نم سے فریاد کناں ہوں: الہی تیری عطا کردہ حیات سے ایک قیمتی سال گزر گیا۔ ہم نے زندگی کے قیمتی لمحات کو یوں ہی ضائع کر دیا، ہم اپنے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ نہ کر سکے۔ خدایا ہماری خطاؤں کو معاف فرما! اور آنے والے سال میں ہمیں زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما! اور مغربی تہذیب کے فتنے سے محفوظ و مامون فرما! آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔