| عنوان: | مسئلہ باغ فدک اور مذہب اہل سنت |
|---|---|
| تحریر: | محمد بلال قادری ، متعلم درجہ سابعہ، جامعۃ المدینہ ناگپور |
معزز قارئین! پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بڑی عظیم و برتر ہے، صحابی رسول ہونا ایک بڑے ہی اعزاز کی بات ہے۔ کوئی ولی کتنی ہی نیکیاں کیوں نہ کر لے، کسی صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا۔ صحابہ میں ایک ذات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بھی ہے، جو کہ تمام انبیا کے بعد افضل البشر ہیں، جن کی شان میں قرآن کریم میں کئی آیات موجود ہیں، مگر کچھ بدنام زمانہ روافض آپ کی شان کو مطعون کرتے اور آپ کی عظمت کو گھٹانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ لہذا آپ کی ذات کو مطعون کرنے کے لیے ایک مسئلہ ”باغ فدک“ لاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ظلم و ستم کیا اور آپ کا حق دبایا۔ آئیے! ہم باغ فدک کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کی اس بات کی اصل اور حقیقت کیا ہے؟
باغ فدک کیا ہے اور کہاں ہے؟
فدک (دال اور فاء کے فتح کے ساتھ) خیبر سے آگے تقریباً 30 میل دور واقع ہے۔ یہ ایک ایسی زمین تھی جس میں کثیر باغات تھے، جو کفار نے مغلوب ہو کر بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا۔
(حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ملکیت میں کب آیا؟)
بنو نضیر کے کچھ یہودی اہل خیبر کے پاس چلے گئے، وہاں جا کر انہیں بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جس کے نتیجے میں سن 7 ہجری میں ان کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی۔ تین دن کے محاصرے اور لڑائی کے بعد قلعہ خیبر کے یہودیوں کو عبرت ناک شکست ہوئی، جس سے مال غنیمت میں کچھ زمینیں اور باغات ہاتھ آئے اور قریبی قبائل والوں نے بھی شکست کے خوف سے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے۔ فدک کے یہودیوں نے بھی جنگ خیبر میں یہودیوں کی عبرت ناک شکست سن کر لڑائی سے بچتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں صلح کا پیغام بھیج دیا، جس کے بعد کچھ باغات اور زمین مسلمانوں کی قبضے میں آئیں۔ [تحفہ حیدریہ، ج: 1، ص: 293]
مال فیء کیا ہے؟
پیارے قارئین! ہم نے پڑھا کہ باغ فدک حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ملکیت میں بغیر لڑے، بغیر جنگ و جدال کے حاصل ہوا تھا۔ یاد رکھیے! ہر وہ مال جو بغیر جنگ و قتال کے حاصل ہو ”مال فیء“ کہلاتا ہے۔ چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں:
وَفِي الْمَفَاتِيحِ، الْفَيْءُ الْمَالُ الَّذِي يُؤْخَذُ مِنَ الْكُفَّارِ بِلَا قِتَالٍ.
ترجمہ: مفاتیح میں ہے: فیء وہ مال ہے جو کفار سے بغیر قتال کے حاصل ہو۔
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضاء، ج: 6، ص: 2633، دار الفکر بیروت]
یہ بات ذہن نشین رکھیے! کہ باغ فدک بغیر جنگ و قتال کے حاصل ہوا تھا اور ہر وہ مال جو بغیر لڑے حاصل ہو مال فیء کہلاتا ہے، معلوم ہوا کہ باغ فدک مال فیء ہے۔ اللہ پاک قرآن مجید میں مال فیء کا حکم (مصارف) بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ- كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْؕ-وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
ترجمہ کنز الایمان: جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ ہو جائے اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ [الحشر: 7]
نیز اصول وراثت میں ہے: جو مال کفار سے بغیر جنگ و جدال کے حاصل کیا جاتا ہے جزیہ اور ذمی کے مال کی طرح، اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا، بلکہ یہ مال مسلمانوں کے نفع اور عمومی مصارف کے لیے بیت المال میں رکھا جاتا ہے۔ [اصول وراثت، ص: 30]
معزز قارئین! ہم نے پڑھا کہ مال فیء مسلمانوں کے منافع میں خرچ ہوگا اور قرآن پاک میں اس کے مصارف بھی بیان ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حکم خداوندی کے مطابق اس کی آمدنی اپنے اہل و عیال، ازواج مطہرات وغیرہ پر صرف فرمایا کرتے تھے اور تمام بنی ہاشم کو بھی اسی آمدنی سے کچھ مرحمت فرماتے، جہاد کے لیے اونٹ، تلوار وغیرہ بھی اسی مال سے خریدا کرتے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وصال ظاہری ہو گیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، تو آپ بھی ان اموال کی آمدنی کو انہی مصارف میں خرچ فرماتے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم صرف فرمایا کرتے تھے۔ خلفائے اربعہ کے زمانے تک یوں ہی چلتا رہا۔ باغ فدک کی اس تاریخ سے معلوم چلتا ہے کہ مسئلہ کچھ بھی نہ تھا، مگر روافض نے بلاوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو الزام لگا کر مطعون کیا۔ [محرم الحرام اور عقائد و نظریات، ص: 72، 73]
روافض صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور بالخصوص باغ فدک کو لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور آپ کی ذات بابرکات کو عوام کے سامنے ظالم و غاصب بنا کر پیش کرتے ہیں، ان کے باغ فدک کو لے کر دو دعوے ہیں اور دونوں ہی متضاد اور فساد پر مبنی ہیں۔
آئیے! اب ہم ان کے دعوے کو ذکر کر کے دلائل کی روشنی میں باطل کرتے ہیں:
پہلا دعویٰ:
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے باغ فدک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا۔
جواب: یہ دعویٰ بے ثبوت ہی نہیں، بلکہ کئی وجوہ سے باطل بھی ہے! مخالفین آج تک وقت ہبہ کا صحیح تعین ہی نہیں کر سکے کہ آیا ہبہ مکی زندگی میں ہوا یا مدنی زندگی میں؟ فدک کی فتح کے فوراً بعد ہوا یا وقت وصال نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم؟ اگر یہ کہیں کہ ”مکی یا ابتدائی مدنی زندگی میں ہوا تھا“ تو یہ دعویٰ ہی باطل ہے، بھلا فتح فدک اور اس کے قبضہ سے پہلے ہبہ کیسا؟ اور اگر کہیں کہ ”فدک کی فتح کے فوراً بعد ہوا“ تو کتاب و سنت میں اس کے دوسرے مصارف میں استعمال کرنے کا ثابت ہونے کی وجہ سے یہ بھی باطل اور اگر یہ کہا جائے کہ ”وقت وصال ہبہ ہوا تھا“ تو غیر ثابت و غیر مشہود ہونے کی وجہ سے یہ بھی منقوض۔ [تحفہ حیدریہ، ج: 1، ص: 306]
حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت کا زمانہ جب آیا تو انہوں نے بنی مروان کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تھا، جس کی آمدنی وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ فرماتے اور بنو ہاشم کو پہنچاتے تھے اور اس سے مجرد مرد و عورت کا نکاح بھی کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کیا کہ فدک انہیں کے لیے مقرر کر دیں تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انکار فرما دیا، لہذا اسی طرح آپ کی زندگی بھر رہا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے فدک میں ویسا ہی کیا جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی رحلت فرما گئے، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسا ہی کیا، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے (اپنے دور میں) فدک کو اپنی جاگیر میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ عمر بن عبد العزیز کی جاگیر بنا۔ پس میں نے دیکھا کہ جس چیز کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو نہیں دیا، اس پر میرا حق کیسے ہو سکتا ہے لہذا میں آپ لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فدک کو اسی دستور پر واپس کر دیا، جس دستور پر کہ وہ پہلے تھا یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ مبارکہ میں۔ [سنن أبي داود، باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال، ج: 3، ص: 104، الحدیث: 2972]
دوسرا دعویٰ:
مخالفین کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس اور ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ (ترجمہ: رشتہ داروں کو ان کا حق دے) [بنی اسرائیل: 26] نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا کر ”باغ فدک“ انہیں سونپ دیا۔
جواب: یہ روایت سند اور متن دونوں لحاظ سے باطل اور من گھڑت ہے۔
- یہ آیت (وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ) مکی ہے، جو قبل از ہجرت نازل ہوئی، جب کہ فدک تو خیبر کے بعد ہجرت کے ساتویں سال فتح ہوا، چنانچہ فدک کا ہبہ ناممکن ہے، حالانکہ اس آیت کا دوبارہ مدینہ میں نازل ہونا بھی ہرگز ثابت نہیں، لہذا ہبہ والی بات تو محض رافضی گھڑت ہے۔ [تفسیر ابن کثیر، سورہ اسراء 26، ج: 5، ص: 67، 68]
-
اعتبار سند: روایت ابن عباس ”اس روایت کو محمد بن سائب کلبی نے ابو صالح سے اور اس نے جناب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا“، چنانچہ یہ سند سخت مجروح ہے۔ کیوں کہ اس کا مرکزی راوی ”محمد بن سائب کلبی“ ہے جس کے متعلق علمائے رجال کی چند مرکزی آرا درج ذیل ہیں:
- لیث بن ابی سلیم کہتے ہیں کہ کوفہ میں دو کذاب تھے ایک کلبی اور دوسرا سدی۔
- امام عقیلی کہتے ہیں کہ کلبی عبد اللہ بن سائب رافضی کے گروہ میں سے تھا۔
- امام دار قطنی نے کہا: کلبی متروک ہے۔
- امام ساجی نے کہا: کلبی غالی شیعہ، ضعیف اور متروک ہے۔
بالفرض اگر ہبہ والی بات مان بھی لی جائے تو فریقین کے نزدیک مسلم شدہ ہے کہ، جب تک موہوبہ شے پر موہوب لہ کا قبضہ تصرف نہ ہو جائے وہ چیز موہوب لہ کی ملک نہیں ہو سکتی اور قبضہ سے پہلے ہبہ کرنے والا انتقال کر جائے تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور فدک بالاتفاق حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات ظاہری میں کبھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبضے میں نہیں آیا، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی ملکیت میں رہا اور آپ ہی اس میں مالکانہ تصرف فرماتے رہے۔ جب قبضے کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوتا اور موہوب لہ کی ملکیت میں نہیں جاتا تو بالفرض باطل اگر ہبہ کرنا ثابت بھی ہو جائے تب بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی کہ بالاتفاق قبضہ نہیں ہوا۔ [محرم الحرام اور عقائد و نظریات، ص: 77]
تیسرا دعویٰ:
باغ فدک حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ملکیت تھا، بعد وصال حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور میراث ملنا چاہیے تھا۔
جواب: شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فیء کا حکم یہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے ہے اور اس کی تولیت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہے۔ [اشعۃ اللمعات، کتاب الجہاد، باب الفیء، ج: 3، ص: 446]
فدک مال فیء تھا اور مال فیء وقف ہوتا ہے، کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کی آمدنی قرآن کی تصریح کے مطابق خرچ فرماتے تھے اور مال وقف میں میراث جاری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ [محرم الحرام اور عقائد و نظریات، ص: 80]
انبیائے کرام کسی کو مال کا وارث نہیں بناتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد ازواج مطہرات نے چاہا کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ.
ترجمہ: کیا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔
[البدايۃ والنہايۃ، باب بيان أنه صلى الله عليه وسلم قال لا نورث... ج: 8، ص: 185]
بخاری و مسلم میں حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مجمع صحابہ جن میں حضرت عباس، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں! جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، پھر وہ حضرت علی و ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کہ میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ [معرفۃ السنن والآثار، باب قسم الفيء والغنيمۃ، ج: 9، ص: 214، الحدیث: 12910]
پیارے قارئین! ان تمام شواہد سے خوب واضح ہو گیا کہ انبیائے کرام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی اسی لیے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدہ کو باغ فدک نہیں دیا نہ کہ بغض و عداوت کے سبب جیسا کہ رافضیوں کا الزام ہے۔ [محرم الحرام اور عقائد و نظریات، ص: 84]
معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وراثت کے طور پر کچھ دینے سے منع کیا، لیکن سہم ذوی القربہ کے متعلق یوں وعدہ کیا کہ: ”اللہ کی قسم! صدقات نبوی کی تقسیم کا جو طریقہ کار عہد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں تھا، میں اسے ہرگز نہیں بدلوں گا، بلکہ میں بھی اسی طرح عمل کروں گا، جس طرح جناب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے۔“ [تحفہ حیدریہ، ج: 1، ص: 339]
نیز جناب صدیق اکبر نے جناب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے تمام مال کی پیش کش کر دی، جس کا ثبوت خود شیعہ کی بیشتر کتب میں یوں ہے کہ: ”ابوبکر نے سیدہ سے کہا: میری تمام جائیداد میں آپ کو اختیار ہے جو چاہیں بلا روک ٹوک لے سکتی ہیں، آپ حضور کی امت کی سردار ہو، آپ کی فضیلت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، آپ کا حکم میری ساری جائیداد پر نافذ ہے، لیکن مسلمانوں کے مال میں حکم رسول کی نافرمانی ہرگز نہیں کر سکتا۔“ [تحفہ حیدریہ، ج: 1، ص: 339 / حق الیقین، ص: 327]
مزید یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات کریمہ سے اس بات کا تصور بھی کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دختر ارجمند حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ستائیں، ان کا حق دبائیں اور ان پر ظلم و زیادتی کریں، جب کہ آپ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور یہ بات یاد رکھیے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صداقت و عدالت پر کئی احادیث مبارکہ اپنے جلوے لٹا رہی ہیں۔
یہ بھی ذہن نشین رکھیے کہ آپ انبیائے کرام علیہم الرضوان کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل بشر ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کی آل سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں، آپ کے فضائل پر بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں، آئیے! ان میں سے چند پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
- جسے جہنم سے آزاد شخص کو دیکھنا ہو وہ ”ابوبکر“ کو دیکھ لے۔ [الإصابۃ في تمييز الصحابۃ، ابن حجر عسقلانی، ج: 4، ص: 146 / جامع الأحاديث الجلال الدین السيوطي، مسند عائشۃ، ج: 40، ص: 44، الحدیث: 43101]
- ابوبکر کی محبت اور ان کا شکر میری تمام امت پر واجب ہے۔ [جمع الجوامع المعروف بـ الجامع الكبير، ج: 4، ص: 582]
- ابوبکر میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے شخص تم ہی ہو گے۔ [شرح سنن أبي داود، ج: 15، ص: 520]
- (اے ابوبکر) تم آگ سے اللہ پاک کے آزاد کیے ہوئے ہو۔ [سنن الترمذي، ج: 5، ص: 616، الحدیث: 3678]
- ابوبکر کو کسی پر فضیلت نہ دو کہ وہ دنیا اور آخرت میں تم سب سے افضل ہیں۔ [حيۃ الأولياء وطبقات الأصفياء، ج: 7، ص: 264]
اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں، جنوں اور فرشتوں کے بعد آپ سب سے افضل ہیں۔ [بہار شریعت، ج: 1، ص: 241] اب ذرا آپ غور کریں! کیا جس کی یہ شان ہو وہ بھلا کسی پر ظلم و زیادتی کر سکتا ہے؟ کیا کسی کا حق دبا سکتا ہے؟ نہیں میرے پیارے! آپ بھی یہی جواب دیں گے کہ ایسا شخص ہرگز! ہرگز کسی کا حق نہیں دبا سکتا، ان دلائل سے ثابت ہوا کہ آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ پر کوئی ظلم و ستم نہیں کیا۔
اہل سنت کا نظریہ بھی یہی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی، بلکہ آپ نے قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے ”باغ فدک“ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہ دیا اور اللہ اور رسول کا فرمان سنایا جس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی راضی ہو گئیں۔
