| عنوان: | حصولِ علمِ دین کیوں ضروری ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
انسان اس دنیائے فانی میں محض کھانے، پینے، سونے اور کمانے کے لیے نہیں بھیجا گیا، بلکہ اس کا ایک عظیم مقصد ہے: اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی بندگی کرنا اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا۔ اس مقصدِ حیات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ علمِ دین ہے۔
جس طرح جسم کی بقاء کے لیے غذا ضروری ہے، اسی طرح روح کی زندگی اور ہدایت کے لیے علمِ دین لازمی ہے۔ یہی علم ہمیں بتاتا ہے کہ کون سا راستہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور کون سا راستہ گمراہی کی طرف۔ آج کے پُرفتن دور میں، جب دین کے نام پر بھی گمراہی عام ہے، علمِ دین کا حصول نہ صرف اہم بلکہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
دنیا میں جتنی بھی اقوام و معاشرے پائے جاتے ہیں، ان کی ترقی اور بقا کا دار و مدار علم پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر علم صرف دنیاوی ہو اور انسان اپنے خالق و مالک کو پہچان نہ سکے، تو ایسا علم اندھیرا ہے۔ دینی علم وہ روشنی ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان، مقصدِ حیات، حلال و حرام، اور نجات و فلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔ راقم آج اسی حساس و اہم موضوع کو اجاگر کرنے کی سعی کر رہا ہے، اسے نہ فقط اپنے زیرِ مطالعہ رکھیں بلکہ لوگوں میں بھی عام کریں۔
1. علمِ دین کی تعریف
علمِ دین سے مراد وہ علم ہے جو قرآن، سنت، اقوالِ صحابہ، فقہاء اور علماء کی رہنمائی کے ذریعے ہمیں دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات سکھاتا ہے۔ اس علم میں عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات، سیرتِ نبوی، احکامِ شریعت اور دیگر دینی علوم شامل ہیں۔
2. علمِ دین کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآنی ارشادات:
خداوندِ متعال کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾
ترجمہ کنز الایمان: ”تم فرماؤ! کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان؟“ [سورۂ زمر، آیت: 9]
تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”اس آیت سے علم اور علمائے کرام کی فضیلت معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے علم والوں کو بے علموں سے ممتاز فرمایا ہے۔“
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا﴾
ترجمہ کنز الایمان: ”اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔“ [سورۂ فاطر، آیت: 28]
تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”اس کی صفات کو جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں، اور جو شخص جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا علم رکھتا ہو گا، وہ اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو گا، اور جس کا علم کم ہو گا تو اس کا خوف بھی کم ہو گا۔“
احادیثِ مبارکہ:
1. «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ: ”علمِ دین حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔“ [سنن ابنِ ماجہ]
اس حدیثِ پاک کے تحت ایک سوال کے جواب میں مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”سب سے پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں ہیں، پھر علمِ مسائلِ نماز یعنی اس کے فرائض، شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رمضان آئے تو مسائلِ صوم، مالکِ نصابِ نامی ہو تو مسائلِ زکوٰۃ، صاحبِ استطاعت ہو تو مسائلِ حج، نکاح کرنا چاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلے، تاجر ہو تو مسائلِ بیع و شراء، مزارع پر مسائلِ زراعت، موجر و مستاجر پر مسائلِ اجارہ، وعلیٰ ہذا القیاس ہر اس شخص پر اس کی حالتِ موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔
اور انہی میں سے مسائلِ حلال و حرام ہیں کہ ہر فردِ بشر ان کا محتاج ہے، اور مسائلِ علمِ قلب یعنی فرائضِ قلبیہ مثلِ تواضع، اخلاص و توکل وغیرہا اور ان کے طرقِ تحصیل، اور محرماتِ باطنیہ جیسے تکبر، ریا، عُجب، حسد وغیرہا اور اُن کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض میں سے ہے۔“ (ملخصاً)
2. «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ حَتّٰی يَرْجِعَ»
ترجمہ: ”جو تلاشِ علم میں نکلا، وہ واپسی تک اللہ کی راہ میں ہے۔“ [جامع الترمذی]
شرحِ حدیث: یعنی جو کوئی مسئلے پوچھنے کے لیے اپنے گھر سے، یا علم کی جستجو میں اپنے وطن سے علماء کے پاس گیا وہ بھی مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ غازی کی طرح گھر لوٹنے تک اس کا سارا وقت، ہر وقت اور ہر حرکت عبادت ہوگی۔
3. «تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِّنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ مِّنْ إِحْيَائِهَا»
ترجمہ: حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ: ”رات میں ایک گھڑی علمِ دین کا پڑھنا، پڑھانا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔“ [سنن الدارمی]
حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمۃ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
”شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کا حاصل کرنا بندے کے لیے ضروری ہے جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا، اس کی وحدانیت، اس کے رسول کی نبوت کی شناخت اور ضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کو جاننا۔ اس لیے کہ ان چیزوں کا علم فرضِ عین ہے اور فتویٰ و اجتہاد کے رتبے کو پہنچنا فرضِ کفایہ ہے۔“ [مرقاۃ المفاتیح]
3. حصولِ علمِ دین کی ضرورت
- عقیدے کی درستگی کے لیے: صحیح عقیدہ ایمان کی بنیاد ہے۔ علمِ دین کے بغیر انسان شرک، بدعت یا گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔
- عبادات کی صحت کے لیے: نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے فرائض کو درست طریقے سے ادا کرنا علم کے بغیر ممکن نہیں۔ اکثر لوگ بغیر علم کے نمازیں پڑھتے ہیں مگر ان کی نمازیں درست نہیں ہوتیں۔
- معاملات کی درستگی کے لیے: کاروبار، لین دین، نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر روزمرہ معاملات میں اگر علمِ دین نہ ہو تو انسان نادانی میں حرام کما بیٹھتا ہے یا ظلم کر بیٹھتا ہے۔
- اخلاق کی اصلاح کے لیے: علمِ دین انسان کو اخلاقِ فاضلہ (سچائی، امانت داری، حلم، تواضع) سکھاتا ہے، اور اخلاقِ قبیحہ (جھوٹ، غیبت، حسد، تکبر) سے روکتا ہے۔
4. علمِ دین کے فوائد
- اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
- دل کو سکون اور روح کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
- انسان صراطِ مستقیم پر چلتا ہے۔
- دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔
- علم کا نور انسان کو فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
5. آج کے دور میں علمِ دین کی اشد ضرورت
- فکری فتنوں (الحاد، دہریت، نچریت) کے بڑھتے رجحان کے سبب۔
- مسلکی انتشار اور غلط تشریحات کے سدِ باب کے لیے۔
- میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دین سے متعلق پھیلائی جانے والی گمراہ کن باتوں کا ازالہ کرنے کے لیے۔
- اولاد کی صحیح دینی تربیت کے لیے۔
6. علمِ دین کہاں سے حاصل کریں؟
- علمائے کرام اور مفتیانِ دین سے بالمشافہ یا آن لائن استفادہ۔
- مدارسِ دینیہ اور اسلامی یونیورسٹیوں میں داخلہ۔
- قرآن، حدیث اور سیرت کی مستند کتب کا مطالعہ۔
- مستند آن لائن کورسز، ویڈیوز، لیکچرز اور دروس۔
- مساجد میں ہونے والے دینی حلقے اور بیانات۔
7. علمِ دین حاصل کرنے کے آداب
- اخلاصِ نیت: صرف اللہ کی رضا کے لیے علم سیکھنا۔
- ادب و احترام: استاد، کتاب اور علم کا ادب۔
- عمل کی نیت: صرف معلومات کے لیے نہیں، بلکہ عمل کے لیے علم حاصل کرنا۔
- تسلسل: مطالعے اور سیکھنے میں مستقل مزاجی۔
8. علمِ دین پر عمل کی اہمیت
علم حاصل کرنے کے بعد اس پر عمل کرنا لازم ہے، ورنہ یہ علم بوجھ بن جائے گا۔ قرآن میں ایسے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو علم رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔
حاصلِ کلام
علمِ دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی روح کی غذا، زندگی کی رہنمائی، اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ایک دین دار انسان بننے کے لیے علمِ دین کا حصول ضروری ہے۔ اگر ہر فرد دین کا کم از کم فرض علم حاصل کرے، تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی فلاح کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔
