| عنوان: | محفوظ سدا رکھنا شہا! بے ادبوں سے |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت بابرکت کی خاطر منتخب فرمایا، یہ بات ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کا عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے محبوب کی سنگت ان لوگوں سے نہیں ہونے دیتا جو باعث کراہت و ناپسندیدگی ہوں۔ تو ایک خالق کائنات جس کے حکم کے بغیر ایک ذرہ بھی نہ ہل سکے اس ذات کے بارے میں قطعی، حتمی، یقینی اور اظہر من الشمس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنگت و صحبت ان لوگوں سے ہی رکھی ہے جو قابل تعظیم و تکریم اور کسی طرح سے بھی عیب دار نہ ہوں، خواہ وہ علمی اعتبار سے ہوں یا عملی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے ہوں یا معاشرتی اعتبار سے، الغرض ہر وہ شے جو قابل تنفیر ہوا کرتی ہے اس سے اللہ پاک نے اپنے محبوب کے ہم نشینوں اور باغ رسالت کے گل چینوں کو محفوظ و مصون رکھا۔
صحابہ کرام پر بے جا تہمت لگانے والو، صحابہ کرام پر تبرا بازی کرنے والو اور ایسے نازیبا کلمات جو قابل گرفت ہیں ان نفوس قدسیہ کی ذات بابرکت کے لیے استعمال کرنے والو! بولنے اور کچھ کہنے سے پہلے بے شمار بار سوچ لو کہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں! کہیں ایسا نہ ہو کہ سارا کیا دھرا بیکار ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ کیوں کہ دراصل صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کرنے والا اللہ تعالیٰ اور اس آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر افترا اور جھوٹ باندھنے والا ہے۔ اور یوں کہہ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سابِ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ اور آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دشمنی مول لے رہا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دشمنی مول لینے کا بھی سوچے وہ ضرور دنیا و آخرت میں ہلاک و برباد ہو جائے گا، نہ یہیں کا رہے گا نہ وہیں کا رہے گا۔
اب آئیے! اعلیٰ حضرت سرکار علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں اور انہی سے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں:
”صحابہ کرام میں کسی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یا گمراہ بد دین، عزیز، جبار، واحد، قہار جل وعلا نے صحابہ کرام کو دو قسم کیا، ایک وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ و قتال کیا، دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح۔ پھر فرما دیا کہ دونوں فریق سے اللہ عزوجل نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو، بایں ہمہ اس نے تم سب سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا۔ یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہنوں، بے باکوں، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام کے افعال سے ان پر طعن چاہتے ہیں وہ بشرط صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سب سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا، تو اب جو معترض ہے اللہ واحد قہار پر معترض ہے، جنت و مدارج عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اللہ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حسنیٰ کا وعدہ ان سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزا پائے گا وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ
اے محبوب کے صحابیو! تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ رتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں، اور دونوں فریق سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ کر لیا، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔ [الحدید: 10]
اب جن کے لیے اللہ کا وعدہ حسنیٰ کا ہو لیا ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنیے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤیۙ اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ ۙ لَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ هُمْ فِیۡ مَا اشْتَہَتْ اَنۡفُسُہُمْ خٰلِدُوۡنَ ۚ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ هٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ
ترجمہ کنز الایمان: بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حسنیٰ کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔ وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ [الانبیاء: 101 تا 103]
یہ ہے جمیع صحابہ کرام سید الانام علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے قرآن کریم کی شہادت۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 279، 280]
دشمنِ احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
تیری دوزخ سے تو کچھ چھینا نہیں
خلد میں پہنچا رضا پھر تجھ کو کیا
[حدائق بخشش]
پیارے اور محترم قارئین کرام! یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ آج لوگوں کے پاس زبان ہے بس بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی مرضی سے صحابہ کرام کے بارے میں بے جا کلام کرتے نظر آتے ہیں۔ بولنے سے پہلے بالکل ہی غور و خوض نہیں کرتے کہ ہم کیا بولنے جا رہے ہیں؟ اور کس کی شان میں بولنے لگے ہیں۔ خیر! بس میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہم ہرگز سابِ صحابہ کے پاس نہ بیٹھیں، نہ ان سے سلام کریں، نہ ان سے ملاقات کریں، نہ ان سے کوئی چیز لیں اور نہ کوئی شے انہیں دیں۔ بلکہ ہر اس شخص سے بالکلیہ طور پر اپنا رشتہ منقطع کر لیں جو صحابہ کرام، اہل بیت اطہار اور اولیائے عظام کی شان رفیع میں گستاخی کرنے والا ہو۔
محفوظ سدا رکھنا شہا! بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
امید یہی ہے کہ میری بات سمجھ میں آ ہی گئی ہوگی، کیوں کہ سمجھ دار کے لیے اشارہ کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم، ان کے اصحاب کرام و اہل بیت اطہار علیہم الرضوان اور اولیائے عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کا با ادب بنائے، ان کی بے ادبی سے بے شمار کوس دور ہی رکھے۔ نیز ان کے گستاخوں سے حقیقی اور دینی عداوت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
