| عنوان: | اسلامی بہنیں توجہ فرمائیں! |
|---|---|
| تحریر: | مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی، ٹٹلا گڑھ، اڈیشہ |
اس سال سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہے کہ بہت سی اسلامی بہنوں پر حج فرض ہونے کی صورت بن گئی ہو۔ لہٰذا تمام اسلامی بہنیں اپنے مال و زیور کے اعتبار سے ضرور معلوم کر لیں کہ آیا ان پر حج فرض ہو چکا ہے یا نہیں۔ اگر حج فرض ہو چکا ہو تو اس کی ادائیگی میں تاخیر نہ کریں اور کسی مستند عالمِ دین سے رہنمائی حاصل کریں۔
میرے اس میسج کے بعد فقیر سے کئی اسلامی بھائیوں نے ایک شرعی سوال پوچھا:
اگر کسی اسلامی بہن کے پاس اتنا مال ہو کہ اس پر حج فرض ہو جائے، لیکن اس کے محرم یا شوہر کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ حج کر سکے، اور اسی وجہ سے عورت حج پر نہ جا سکے، تو کیا اس صورت میں بھی عورت پر حج فرض ہوگا؟ اور کیا نہ کرنے کی صورت میں وہ گنہگار ہوگی؟
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہاں دو الگ چیزیں ہیں:
- نفسِ وجوب یعنی حج فرض ہونا۔
- وجوبِ ادا یعنی حج کا ادا کرنا فرض ہونا۔
اب مسئلے کو چند نکات میں ملاحظہ فرمائیں:
حج فرض ہونے کی صورت (نفسِ وجوب):
اگر عورت کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ خود حج کر سکتی ہو تو اس پر حج فرض ہو جائے گا، یعنی نفسِ وجوب ثابت ہو جائے گا، بشرطیکہ فرضیتِ حج کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔
محرم کے اخراجات نہ ہونے کی صورت:
اگر عورت کے پاس اپنے حج کے اخراجات تو ہوں، لیکن محرم کے حج کے اخراجات نہ ہوں اور محرم بھی عورت کے خرچ کے بغیر ساتھ جانے کے لیے تیار نہ ہو، تو ایسی صورت میں حج کی ادائیگی (وجوبِ ادا) فوری طور پر فرض نہیں ہوگی۔
ادائیگی کب فرض ہوگی؟
حج کی ادائیگی اس وقت فرض ہوگی:
- جب عورت محرم کے اخراجات برداشت کرنے پر بھی قادر ہو جائے۔
- یا محرم بغیر اخراجات کے اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جائے۔
پوری زندگی استطاعت نہ ہونے کی صورت:
اگر پوری زندگی عورت محرم کے حج کے اخراجات برداشت کرنے کی قدرت حاصل نہ کر سکے، یا محرم بغیر اخراجات کے اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار نہ ہو، تو ایسی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنی وفات سے پہلے اپنی طرف سے حجِ بدل کروانے کی وصیت کر جائے۔
وصیت نہ کرنے کا حکم:
اگر وہ حجِ بدل کروانے کی وصیت نہیں کرے گی تو گنہگار ہوگی۔
مال کم ہو جانے یا قیمتیں بدل جانے کی صورت:
اگر کسی سال سونے کی قیمت بڑھ جانے یا مال کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے عورت پر حج فرض ہو گیا، لیکن محرم کے انتظام کی وجہ سے وہ اس سال حج پر نہ جا سکی، پھر بعد میں مال خرچ ہو گیا، یا سونے کی قیمت اتنی کم ہو گئی کہ اب سب کچھ بیچ دینے کے باوجود بھی حج ممکن نہ رہا، یا حج کے اخراجات بہت زیادہ ہو گئے، تو ان صورتوں میں حج ساقط نہیں ہوگا۔ اب بھی حج کا حکم اسی طرح باقی رہے گا۔ قرض لینا پڑے تو قرض لے۔
بڑھاپے یا دائمی عجز کی صورت:
اگر عمر اتنی زیادہ ہو جائے کہ اب خود حج کے لیے سفر کرنا ممکن نہ رہے، یا ایسا دائمی عذر لاحق ہو جائے کہ خود حج کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں اپنی طرف سے حجِ بدل کروانا لازم ہوگا۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ علمائے اہلِ سنت سے رابطے میں رہا کریں۔
25 رمضان المبارک 1447ھ
14 مارچ 2026ء
