دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مناظرہ اور فکری گمراہی

مناظرہ اور فکری گمراہی
عنوان: مناظرہ اور فکری گمراہی
تحریر: محمد کامران رضا

جب سے دہلی میں بحث ہوئی ہے اس وقت سے ہمارے کچھ سنی حضرات ندوی عالم سے متاثر ہو کر اپنے ہی علما و مشائخ کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اور ندوی عالم کی تعریف کرتے ہوئے تھک نہیں رہے ہیں۔ یہ جو بحث ہوئی اس کو ہمارے بعض حضرات نے خوب پھیلایا، اپنے اپنے فیس بک اکاؤنٹس اور واٹس ایپ گروپس وغیرہ میں بھی جم کر شیئر کیا۔ یہاں تک کہ ایک جگہ میں نے اس بحث کا چرچا جمعہ کے خطاب میں بھی سنا۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ہماری عوام بغیر تحقیق کے جو مواد ملتا ہے اس کو ذہنی طور پر قبول کر لیتی ہے۔ جنہوں نے اس بحث کو پھیلایا ان کے چاہنے والے اور ان کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ اب اس کو خوب سنیں گے، ایسا نہیں کہ صرف ندوی عالم ہی کو سنیں گے بلکہ ملحدین کے بیانات بھی سنیں گے اور ان سے متاثر ہوں گے۔ پھر شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔ بروقت اگر علمی رہنمائی انہیں نہ ملی تو ایمانی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اہل سنت میں ایک سے بڑھ کر ایک شخصیت موجود ہے اور ایسے ایسے انمول ہیرے موجود ہیں جو ہزاروں پر بھاری ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی مضبوط ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جس کے ذریعے علمائے کرام اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو ظاہر کریں، اصل مسئلہ یہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ جماعت اہل سنت میں دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے ڈیبیٹ کرنے والے علما موجود نہیں۔ اہل سنت ہمیشہ علمی و فکری میدان میں حاضر رہا ہے، ضرورت علمائے کرام کی صلاحیتوں کو پہچاننے کی ہے۔

آج کل ملحدین جو اعتراضات کرتے ہیں، ایسا نہیں کہ ان کے جوابات ہمارے ہاں موجود نہیں۔ ہمارے اسلاف نے ان کے ہر اعتراض کا مدلل جواب دیا ہے، ہمیں صرف انہیں تلاش کرنے اور جدید اصطلاحات کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نئی اصطلاحات سے اعتراضات نئے نہیں ہو جاتے۔ علامہ غلام رسول قاسمی صاحب نے اپنے ایک بیان میں فرمایا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ شرح عقائد جو درس نظامی میں پڑھی جاتی ہے اس میں ملحدین کے ہر اعتراض کا جواب ہے۔ بس آپ اس کتاب کو اچھے سے سمجھیں اور جدید اصطلاحات جانیں۔

ہمیں اپنے علمائے کرام کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے علمی کاموں میں ان کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ ہر وقت ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے میں لگے رہیں۔ ہماری عوام صرف مزارات ہی پر خرچ کرنا جانتی ہے۔ اگر واقعی میں ہماری قوم مدارس، مکاتب اور علمائے کرام پر خرچ کرے تو تعلیم و تربیت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اور اگر خرچ کرتے بھی ہیں تو نام کے مدارس اور نام کے علما پر جو نہ خود کچھ کام کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔

کئی سال پہلے علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا:

اہل سنت بہر قوالی و عرس
دیوبندی بہر تصنیفات و درس
خرچ سنی بر قبور و خانقاہ
خرچ نجدی بر علوم و درس گاہ

اہل سنت کے علمائے کرام و مشائخ عظام اپنے اپنے انداز میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ذیل میں چند ایسے حضرات کے نام پیش کیے جا رہے ہیں جو ملحدین کا مدلل رد کرتے ہیں:

  • علامہ غلام رسول قاسمی صاحب
  • علامہ ڈاکٹر سید فضل اللہ چشتی صاحب
  • مکرم و محترم علامہ اسرار رشید قادری صاحب
  • علامہ پیر ثاقب شامی صاحب
  • مفتی محمد شاہد برکاتی صاحب
  • علامہ اسماعیل ازہری صاحب مالیگاؤں
  • حضرت مولانا قاسم القادری صاحب
  • مفتی انس بندیالوی صاحب
  • مفتی محمد مدنی صاحب
  • محمد انوار رضا ماتریدی صاحب وغیرہ۔

کچھ کتابیں جو ملحدین کے رد میں لکھی گئی ہیں:

  • اسلام زندہ باد مع جامع الاسلام (از: علامہ غلام رسول قاسمی صاحب)
  • Book: ISLAM ANSWERS ATHEISM (By: Molana Asrar Rashid sahab)
  • اسلام (از: مفتی انس عطاری صاحب)
  • سیکولر و لبرل ازم (از: مفتی انس عطاری صاحب)
  • اطمینان دل کی خاطر (از: مولانا اسماعیل ازہری صاحب)

یہ صرف چند کتابوں کے نام ہیں، ورنہ اس موضوع پر اس کے علاوہ بھی بے شمار کتب موجود ہیں۔

استاذ مکرم مفتی شاداب برکاتی فرماتے ہیں: امکان کذب باری کے قائلین نے، عدم وجود باری کے حاملین سے بحث کی؛ اگر ایک دوسرے کے قائل بھی ہو جائیں تو: فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَقَامَ تَحْتَ الْمِيْزَابِ (بارش سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے پہنچیں گے)۔

مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب فرماتے ہیں: اگر دہریہ کے رد میں کسی بد مذہب شخص کی تعریف کی جائے، اس کی ویڈیو اسٹیٹس پر لگائی جائے اور آپ کو دیکھ کر عوام یہ سمجھے کہ چوں کہ مولانا صاحب نے اسے شیئر کیا ہے اس لیے وہ قابل اعتماد ہے، پھر لوگ اس کے چینل کو سبسکرائب کر کے وہاں سے فکری گمراہیوں کا شکار ہو جائیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

میں نے ندوی عالم کا یوٹیوب چینل دیکھا۔ بحث سے پہلے اس کے چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد 91.8k تھی، جب کہ بحث کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 481k ہو چکی ہے۔ اس میں سے نہ جانے کتنے ہمارے بھولے بھالے سنی ہوں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔