دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: پنجم)

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: پنجم)
عنوان: مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: پنجم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

کسبِ حرام کی مذمت

لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلَ مِنْهُ وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ.

ترجمہ: ”اگر کوئی بندہ مال حرام کمائے پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ قبول نہیں، اس سے خرچ کرنے سے اس میں برکت نہ ہو اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں لے جانے کا سامان ہوگا (یعنی مال کی تینوں حالتیں ہیں اور حرام مال کی تینوں حالتیں خراب ہیں)۔ اللہ تعالیٰ برائی سے برائی نہیں مٹاتا بلکہ نیکی سے برائی کو محو فرماتا ہے، بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔“ [مسند امام احمد، شرح السنة، مشکوة المصابیح]

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنَ السُّحْتِ وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ.

ترجمہ: ”جو گوشت حرام سے اگا ہے، جنت میں نہ جائے گا (یعنی ابداءً نہ جائے گا) اور جو گوشت حرام سے اگا ہے، جہنم اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [مسند امام احمد، سنن دارمی، شعب الایمان للبیہقی، مشکوة المصابیح]

مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ أَيْنَ كَسَبَ الْمَالَ لَمْ يُبَالِ اللَّهُ مِنْ أَيْنَ أَدْخَلَهُ النَّارَ.

ترجمہ: ”جس نے یہ پروا نہ کی کہ مال کہاں سے حاصل کیا، اس سے متعلق خدا کو بھی پروا نہیں کہ اسے کہاں سے جہنم میں داخل کرے۔“ [مسند الفردوس للدیلمی، کنز العمال]

مَنْ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سِرْقَةٌ فَقَدْ شَرِكَ فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا.

ترجمہ: ”جس نے چوری کا مال خریدا یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کے عار و گناہ میں وہ بھی شریک ہے۔“ [مسند الفردوس للدیلمی، کنز العمال]

تجارت اور دیگر انواعِ کسب

إِنَّ أَطْيَبَ الْكَسْبِ كَسْبُ التُّجَّارِ الَّذِينَ إِذَا حَدَّثُوا لَمْ يَكْذِبُوا، وَإِذَا ائْتُمِنُوا لَمْ يَخُونُوا، وَإِذَا بَاعُوا لَمْ يُطْرُوا، وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِمْ لَمْ يُمْطِلُوا، وَإِذَا كَانَ لَهُمْ لَمْ يُعَسِّرُوا.

ترجمہ: ”سب سے پاکیزہ کمائی تاجروں کی کمائی ہے، جو بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں، امانت دی جائے تو خیانت نہ کریں، وعدہ کریں تو اس کی خلاف ورزی نہ کریں، جب دوسرے سے خریدیں تو برائی نہ بیان کریں اور جب اپنی چیز بیچیں تو اس کی تعریف میں مبالغہ نہ کریں، ان پر کسی کا آتا ہو تو ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کریں اور ان کا دوسرے پر آتا ہو تو سختی نہ کریں۔“ [مستدرک حاکم، سنن بیہقی، کنز العمال]

التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ.

ترجمہ: ”راست باز اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔“ [شعب الایمان بیہقی، کنز العمال]

أَوْصِيكُمْ بِالتُّجَّارِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ بُرُدُ الْآفَاقِ وَأُمَنَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

ترجمہ: ”میں تم لوگوں کو تاجروں سے متعلق بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، اس لیے کہ وہ آفاق عالم کے قاصد اور زمین میں اللہ کے امین ہیں۔“ [سنن ترمذی، مستدرک حاکم، کنز العمال]

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى جَمَاعَةً مِنَ التُّجَّارِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ! فَاسْتَجَابُوا لَهُ، وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَاعِثُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا، إِلَّا مَنْ صَدَقَ وَوَفَّى وَأَدَّى الْأَمَانَةَ.

ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک جماعت تجار کے پاس تشریف لائے، فرمایا: اے گروہ تاجران! سب نے لبیک کہا اور اپنی گردنیں دراز کیں، فرمایا: بے شک اللہ تمہیں قیامت کے دن بدکار اٹھائے گا، مگر وہ جو سچ بولے، رشتہ جوڑے، نیک سلوک کرے اور امانت ادا کرے۔“ [مسند الفردوس للدیلمی، کنز العمال]

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَزْوَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ فِي السُّوقِ، وَنَحْنُ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ سُوقَكُمْ هَذِهِ يَخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ، فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ.

ترجمہ: ”حضرت قیس بن ابی غزوہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم پر جلوہ افروز ہوئے، جب ہم بازار میں خرید و فروخت کر رہے تھے۔ ہم تاجروں کو پہلے ”سماسِرہ“ کہا جاتا تھا۔ سرکار نے فرمایا: اے تاجرو! تمہارے اس بازار میں لغو اور قسم کی آمیزش ہوتی ہے، تو تم کچھ صدقہ کی آمیزش کر لیا کرو (یعنی راہ خدا میں کچھ دے دیا کرو تاکہ تجارت کی خامیوں کی تلافی ہوا کرے)۔“ [تہذیب الآثار، ابن جریر طبری، معجم کبیر طبرانی، کنز العمال]

عَلَيْكَ بِالْبَزِّ، فَإِنَّ صَاحِبَ الْبَزِّ يُعْجِبُهُ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ بِخَيْرٍ وَفِي خِصْبٍ.

ترجمہ: ”پارچہ فروشی اختیار کرو اس لیے کہ کپڑوں کا تاجر یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ خیر اور شادابی کے ساتھ رہیں۔“ [مصنف عبد الرزاق، کنز العمال]

عَمَلُ الْأَبْرَارِ مِنَ الرِّجَالِ الْخِيَاطَةُ، وَعَمَلُ الْأَبْرَارِ مِنَ النِّسَاءِ الْغَزْلُ.

ترجمہ: ”نیکو کار مردوں کا کام خیاطی ہے اور نیکو کار عورتوں کا کام سوت کاتنا ہے۔“ [تاریخ خطیب بغدادی، کنز العمال]

احْرُثُوا، فَإِنَّ الْحَرْثَ مُبَارَكٌ وَأَكْثَرُوا فِيهِ مِنَ الْمَحَاجِمِ.

ترجمہ: ”کاشت کرو، اس لیے کہ کاشت کاری میں برکت ہے اور کثرت سے (جانوروں کی) کھوپڑیاں زیادہ نصب کرو۔“ [فواىد تمام، تاریخ بغداد للخطیب]

اتَّخِذُوا غَنَمًا، فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ وَتَغْدُو بِخَيْرٍ.

ترجمہ: ”بکریاں پالو، اس لیے کہ وہ خیر کے ساتھ شام کو آتی ہیں اور خیر کے ساتھ صبح کو نکلتی ہیں۔“ [مراسیل ابو داؤد، کنز العمال]

لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْمَعِيشَةَ جَعَلَ الْبَرَكَاتِ فِي الْحَرْثِ وَالْغَنَمِ.

ترجمہ: ”جب اللہ تعالیٰ نے اسباب معاش پیدا کیے تو کھیتی اور بکریوں میں برکتیں رکھیں۔“ [مسند امام احمد، کنز العمال]

خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ مَهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِکَّةٌ مَأْبُورَةٌ.

ترجمہ: ”آدمی کا بہتر مال سدھایا ہوا گھوڑے کا بچہ ہے یا گابھ لگی ہوئی کھجوروں کی قطاریں۔“ [مسند الفردوس للدیلمی، کنز العمال]

أَحَلُّ الْكَسْبِ مَا مَسَّتْ فِيهِ هَاتَانِ، يَعْنِي الرِّجْلَيْنِ، وَمَا عَمِلَتْ فِيهِ هَاتَانِ، يَعْنِي الْيَدَيْنِ، وَمَا عَرِقَتْ فِيهِ هَذِهِ، يَعْنِي الْجَبِينَ.

ترجمہ: ”حلال ترین کمائی وہ ہے جس میں یہ دونوں چلیں، یعنی دونوں پیر، اور جس میں یہ کام کریں، یعنی دونوں ہاتھ، اور جس میں یہ عرق آلود ہو، یعنی پیشانی۔“ [مسند امام احمد، معجم کبیر طبرانی، کنز العمال]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!