دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تمھارا مطلوب خود تمھارا طالب ہے

تمھارا مطلوب خود تمھارا طالب ہے
عنوان: تمھارا مطلوب خود تمھارا طالب ہے
تحریر: مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا
پیش کش: ادارہ لباب

ما تبحث عنہ یبحث عنك

تم جس شے کی تلاش میں سرگرداں ہو وہ شے خود تمہاری جستجو میں ہے۔

اس کائنات ہست و بود کی بساط پر کوئی شوق و لگن، کوئی ولولۂ جنوں، کوئی خلش پیہم، کوئی امنگ و ترنگ اور کوئی بھی نالۂ نیم شبی یک طرفہ نہیں ہوتا۔ کسی بھی شے کے حصول کے لیے قفس جاں میں آتش سوزاں کے شرارے پھوٹنا، اس کے حصول کی تگ و دو میں آبلہ پائی کو گوارا کرنا اور اس شے سے دوری کی صورت میں قلب میں سوزش اور خلا کا نمودار ہونا اس بات کی سند اور اس امر کی شہادت ہے کہ وہ شے پہلے ہی آپ کی لوح تقدیر پر نقش ہو چکی ہے اب صرف اس تک آپ کا سفر باقی ہے۔

رومی رحمہ اللہ نے اس مختصر سی عبارت میں کائنات کا جو فلسفہ، معانی کی جو جامعیت اور عالم امکاں کا جو سر بستہ راز آشکار کیا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے قطرے میں قلزم، حباب میں دریا اور ذرے میں آفتاب۔ اس فلسفے کی روشنی میں اگر چشم وا اور دیدہ بینا سے دیکھا جائے تو یہ عیاں ہو جائے گا کہ انسان کی طلب اور مطلوب فی الواقع ایک ہی لڑی کے دو سرے ہیں۔ صرف پیاسے کو پانی کی جستجو نہیں ہوتی بلکہ پانی خود بھی پیاسے کے لمس کی تلاش میں ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اسے یوں سمجھیں اگر بیج میں درخت بننے کی تڑپ اور ولولہ نہ ہو تو زمین کی نمی اسے اپنی جانب نہیں کھینچتی۔ طلب ہی ایسی مقناطیسی کشش ہے جو مطلوب کو کائنات میں چھپے اور دور دراز گوشوں سے اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ طلب ہی تو ہے جو ہجر کو وصال میں بدلنے کا طلسمی ہنر رکھتی ہے۔ ایک ایسا جوہر جو ذرے میں آفتاب اور قطرے میں قلزم پیدا کر سکتا ہے۔ گویا طلب ہی مطلوب کے حصول کی راہ اور اس تک پہنچانے کا عظیم وسیلہ ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ مطلوب کے حصول میں طلب کی اہمیت کلیدی اور بنیادی ہے۔ جب تک دل میں کسی شے کی طلب نہ ہو مطلوب حاصل نہیں ہوتا۔

آپ کی طلب مطلوب کی پکار کا ثمرہ ہے اور مطلوب کی کشش اور دستیابی کی راہوں کا ہموار ہونا آپ کی طلب کا نتیجہ ہے۔ قلوب میں موجود مطلوب کے حصول کی ہر تڑپ، ہر سوزش، ہر درد اور ہر کرب مطلوب سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی تپش سوز انسان کو جمود سے حرکت پذیر بناتی ہے۔ زخم کی گہرائی بہترین اور نایاب مرہم کے تیار ہونے کا عکاس ہے۔ کسی شے کی طلب کا سینے میں جاگزیں ہونا اس بات کا غماز ہے کہ اس شے کی پکار آپ کے دل نے سن لی ہے مطلوب کی صدا آپ کی بصیرت تک پہنچ چکی ہے اور اب طلب و مطلوب ہم آہنگی کے متقاضی ہیں۔

یہ بساط ہست و بود فی الواقع ایک ایسے پہاڑ کے مانند ہے جہاں ہماری طلب صدائے بازگشت کی صورت میں ہم تک آ پہنچتی ہے۔ ہم جو کچھ طلب کی صورت میں اس کائنات میں بھیجتے ہیں وہ مطلوب کی صورت میں ہمارے پاس آ جاتی ہے۔ طلب ہی انسان کی پہچان ہے۔ طلب جس قدر صادق اور اعلیٰ ہوگی انسان کی اہمیت اسی قدر بلند ہوگی۔ اگر آپ کے سینے میں خدا کی طلب موجود ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا دل انوار ربانی کی ضیا پاشیوں سے منور و تاباں ہو چکا ہے۔

انسان کے مقاصد و اہداف فی الواقع اس کے باطنی وجود کا آئینہ ہوتے ہیں اگر آپ کسی اعلیٰ مقصد کی تلاش میں ہیں تو یہ آپ کے باطن میں مخفی اعلیٰ جوہر کی پہچان ہے۔ اور آپ اگر عالی مرتبت مقصد و ہدف کے اسیر ہیں تو یہ آپ کے باطن میں مخفی کسی جوہر نایاب کا غماز ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!