| عنوان: | علامہ اور مفتی ـ لقب یا ذمہ داری؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
موجودہ دور میں ایک نہایت تشویش ناک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور وہ ہے دینی القابات کا بے محل اور غیر ذمہ دارانہ استعمال۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہر دوسرا شخص اپنے آپ کو علامہ اور مفتی کہلوانے لگا ہے، خواہ اسے ان القابات کے حقیقی معانی، ان کی ذمہ داریوں اور ان کے تقاضوں کا شعور ہو یا نہ ہو۔ علم کے بغیر لقب اختیار کرنا نہ صرف علمی زوال کی علامت ہے بلکہ دین جیسے نازک اور حساس شعبے کے ساتھ نا انصافی بھی ہے۔
ماضی میں ملا اور مولوی جیسے الفاظ نہایت وقار اور احترام کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ یہ القابات محض نام نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کے پیچھے برسوں کی محنت، علم، تقویٰ اور عوامی اعتماد شامل ہوتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی اور ان کی جگہ علامہ اور مفتی جیسے بڑے اور بھاری القابات نے لے لی۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج یہ القابات بھی اسی تیزی سے بے وقعت ہوتے جا رہے ہیں، کیوں کہ ان کا استعمال اہلیت کے بجائے شہرت اور نمود و نمائش کے لیے کیا جا رہا ہے۔
خصوصاً علامہ کا لقب، جو وسیع علم، گہری بصیرت اور علوم دینیہ میں مہارت کی علامت سمجھا جاتا ہے، آج ہر اس شخص کے نام کے ساتھ لگا ہوا نظر آتا ہے جسے اس لفظ کے لغوی اور اصطلاحی معنی تک معلوم نہیں ہوتے۔ یہی حال مفتی کے منصب کا ہے۔ آج مفت کے مفتیوں کی کمی نہیں، جو بغیر مکمل اہلیت، بغیر مناسب تربیت اور بغیر ذمہ داری کے فتوے صادر کر رہے ہیں۔
پہلے زمانے میں لوگ درس نظامی سے فراغت کے بعد بھی برسوں فتویٰ نویسی سیکھا کرتے تھے، اس کے اصول، آداب اور نزاکتوں کو سمجھتے تھے، تب کہیں جا کر فتویٰ دینے کی اجازت پاتے تھے۔ مگر آج نا اہل افراد خود کو مفتی سمجھ بیٹھے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی بات پر بلا تحقیق شرعی حکم لگا دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک ذمہ دار اور با عمل مفتی ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔
فتویٰ دینا نہایت حساس ذمہ داری ہے، خاص طور پر جب معاملہ کسی معین شخص پر حکم، طلاق، نکاح، وراثت یا دیگر خاندانی امور سے متعلق ہو۔ ایسے معاملات میں معمولی کوتاہی بھی پوری زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے مفتی کے لیے حد درجہ احتیاط، تدبر اور خوف خدا لازم ہے۔
بسا اوقات سوال کرنے والے حضرات بھی مسئلے کو صحیح انداز میں بیان نہیں کرتے، بلکہ لاعلمی یا دانستہ طور پر سوال کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مفتی کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ جلد بازی کے بجائے مکمل تحقیق کرے، سوال کرنے والے سے وضاحت طلب کرے اور تمام پہلوؤں کو سمجھنے کے بعد ہی فتویٰ تحریر کرے۔ محض ظاہری سوال سن کر حکم صادر کر دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ اگر کسی مسئلے کا جواب مفتی کو معلوم نہ ہو تو صاف لفظوں میں ”مجھے اس کا علم نہیں“ کہہ دینا چاہیے۔ لا علمی کا اعتراف کم علمی نہیں بلکہ زیادہ علم اور پختہ شعور کی علامت ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان کو ہر مسئلے کا علم ہو۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی سوال کا جواب نہ جانتا ہو تو اس پر ہنسنا یا اسے حقیر سمجھنا سراسر نا انصافی ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر سوال کا فوری جواب دیا ہی جائے۔ بعض اوقات سوالات ایسے ہوتے ہیں جن پر غور، تحقیق اور اہل علم سے مشورہ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی مفتی کو کسی مسئلے میں تردد ہو تو کسی بڑے یا زیادہ ماہر عالم سے پوچھ لینے میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ بلا جھجک سوال کرنا علمی امانت داری کا تقاضا ہے۔
عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے محتاط، دیانت دار اور با عمل مفتیوں کو اہمیت دیں جو ہر سوال کا جواب دینے کے بجائے صحیح جواب دینے کو ترجیح دیتے ہیں اور جو لا علمی کا اعتراف کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ یہی لوگ دراصل دین کے سچے خادم اور معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ اخلاص، القابات کے ساتھ ذمہ داری اور دین کی خدمت میں سچائی و دیانت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
