دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حضور صدر الشریعہ من حیث الفقیہ

حضور صدر الشریعہ من حیث الفقیہ
عنوان: حضور صدر الشریعہ من حیث الفقیہ
تحریر: زاہدہ خاتون رضویہ، جھارکھنڈ
پیش کش: جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ، لکھنؤ

حضور صدر الشریعہ من حیث الفقیہ

الفقہ: معرفة دقائق العلم مع نوع علاج. ترجمہ: ”علم کی باریکیوں کو مختلف مشقوں سے جاننے کا نام فقہ ہے۔“ امام اعظم رضی اللہ عنہ فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں: الفقه: معرفة النفس ما لها وما عليها. ترجمہ: ”نفس کا اپنے نفع و نقصان کو پہچان لینے کا نام فقہ ہے۔“

فقیہ کی تعریف

فقیہ وہ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور دین کے مسائل کو قرآن کی آیتوں اور حدیث کی روایتوں سے سمجھتے ہوئے ان سے استدلال کرے یعنی دلیل لائے اور جو بھی مسئلہ پیش آئے اس میں دین و سنت اور مذہب کے نظریے کو پہچان سکے اور اسے بیان کر سکے۔ دین شناسی کے اس مقام تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شخص ایک لمبا عرصہ تک دینی علمی مراکز میں ان علوم کو حاصل کرے جو دین کے مسائل میں ماہر ہونے میں اس کی مدد کر سکیں، جو اس درجہ اور مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اسلامی مسائل کو عقلی و نقلی استدلال کے ذریعہ سمجھ جائے اسے فقیہ کہتے ہیں۔

خلیفہ اعلیٰ حضرت مصنف بہار شریعت حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا المفتی الشاہ محمد امجد علی اعظمی رضوی حنفی قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 1300ھ مطابق 1882ء میں مشرقی یوپی (ہند) کے قصبے گھوسی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حکیم جمال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور دادا حضور خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فن طب کے ماہر تھے۔

حصولِ علم اور اساتذہ

حضور صدر الشریعہ کی ابتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قصبہ ہی میں مدرسہ ناصر العلوم میں جا کر گوپال گنج کے مولوی الٰہی بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کچھ تعلیم حاصل کی۔ پھر دورہ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں استاد المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ سے کی۔ حضرت محدث سورتی علیہ الرحمۃ نے اپنے ہونہار شاگرد کی عبقری صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: ”مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔“

حضرت مولانا امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے جملہ علوم و فنون میں مہارت تامہ عطا فرمائی تھی لیکن انہیں تفسیر، حدیث اور فقہ سے خصوصی لگاؤ تھا۔ فقہی جزئیات ہمیشہ نوک زبان پر رہتی تھیں۔ اسی بنا پر دور حاضر کے مجدد امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے آپ کو ”صدر الشریعہ“ کا لقب عطا فرمایا تھا۔ حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ یوں تو جملہ علوم و فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے مگر فقہ میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ ”بہار شریعت“ اور ”فتاویٰ امجدیہ“ اور ”حاشیہ شرح معانی الآثار“ اس پر شاہد عدل ہیں۔

دقتِ نظر اور فقہی بصیرت

حضرت صدر الشریعہ سے صرف عوام الناس ہی نے استفتاء نہ کیا بلکہ ان کے معاصرین اکابر علمائے اہل سنت نے بھی بکثرت ایسے سوالات کیے جن کے حل میں وہ عاجز رہے۔ مثلاً حضرت علامہ غلام جیلانی میرٹھی نے ایک پیچیدہ سوال طلاق کے متعلق بھیجا جس پر حضرت صدر الشریعہ نے نہایت تحقیقی اور مدلل جواب ارقام فرمایا۔ [فتاویٰ امجدیہ، ج: 2، ص: 259]۔ جواب لکھنے کے بعد عالمگیری سے طویل تائیدی عبارت بھی پیش کی ہے جس سے آپ کی فقاہت، دقت نظر، وسعت مطالعہ اور قوت استحضار کا پتہ چلتا ہے۔

حضور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز رقم طراز ہیں کہ حضور صدر الشریعہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے شامی اور عالمگیری کا پانچ بار مطالعہ کیا ہے اور کنز کی شروح کا دو بار اور ہدایہ اور اس کی تمام شروح بشمول بنایہ ایک بار اور ان کے علاوہ پچاس کتب فقہ کا بالاستیعاب بغور مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتابیں مختصر سی نہیں بلکہ ان میں صرف مبسوط امام سرخسی کی تیس جلدیں ہیں۔

ایک مرتبہ عرس رضوی کے موقع پر حضرت صدر الشریعہ، حضرت مفتی اعظم ہند اور حضرت صدر الافاضل کے درمیان اسپرٹ کے استعمال پر گفتگو ہوئی۔ جب فیصلہ نہ ہوا تو حضرت صدر الشریعہ نے اپنی فقہی باریکی سے اس کا ایسا حل پیش کیا کہ صدر الافاضل بالکل خاموش ہو گئے۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ فقہ کی باریکیوں کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے اور حاضر جواب بھی تھے۔

علمی مقام اور اعترافِ اکابر

شریعت جن پر ناز کرے وہ نام ہے صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا۔ بیک وقت وہ عظیم فقیہ بھی ہیں تو مفسر قرآن بھی، علم حدیث پر یدطولیٰ حاصل ہے تو علم کلام میں ماہر کامل۔ اسی لیے مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنے شاگرد و خلیفہ خاص کی توقیر میں اس طرح ارشاد فرمایا:

میرا امجد مجد کا پکا
اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں

سفرِ حج اور سفرِ آخرت

حضور صدر الشریعہ نے 1337ھ میں حج کعبہ اور زیارت اقدس کی سعادت حاصل فرمائی تھی۔ پھر دوسری بار 1367ھ میں حضور مفتی اعظم ہند کے ہمراہ روانہ ہوئے مگر ممبئی پہنچ کر عارضہ نمونیا کی وجہ سے 2 ذیقعدۃ الحرام 1367ھ مطابق 6 ستمبر 1948ء کو وفات پا گئے۔ آپ کا مبارک جنازہ گھوسی شریف لایا گیا جہاں حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مبارکپوری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آج بھی گھوسی شریف میں آپ کا مزار پر انوار فیض بخش عام ہے۔

اللہ رب العزت کی صدر شریعت پر رحمت ہو
اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو

آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!