| عنوان: | دفاع اسلام اور قیادت اسلام کا فرق |
|---|---|
| تحریر: | محمد ریحان عطاری مدنی مرادآبادی |
| پیش کش: | دار النعیم آن لائن اکیڈمی، مرادآباد |
حالیہ دنوں میں خدا کے وجود کے موضوع پر ہونے والے ایک مناظرے نے عوامی ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ ایک فریق کو وقتی غلبہ حاصل ہوا اور دوسرے کو شکست خوردہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد جو کیفیت سامنے آئی وہ خود مناظرے سے زیادہ توجہ طلب ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے محض اس ایک موقعے کی بنیاد پر ایک شخصیت کو فکری، بلکہ بعض نے تو دینی قیادت کے مقام تک پہنچا دیا۔ یہ طرز فکر دراصل اس بنیادی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو ہماری امت میں رفتہ رفتہ جڑ پکڑتی جا رہی ہے، یعنی یہ گمان کہ جو شخص کسی مرحلے پر اسلام یا خدا کے وجود کا دفاع کرتا نظر آئے، وہ لازماً حق پر بھی ہوتا ہے اور اس کی پیروی بھی واجب ہو جاتی ہے۔
حالانکہ یہ بات نہ قرآن کے فہم سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی تاریخ اسلام کے تجربے سے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ حق کو غالب فرماتا ہے، مگر حق کے ظہور کے لیے جن اسباب کو استعمال کرتا ہے، وہ ہمیشہ اسباب کی ذاتی قدر و منزلت یا نجات کی ضمانت نہیں ہوتے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنے دین کی خدمت کے لیے استعمال فرما لے، حتیٰ کہ ایسے لوگوں سے بھی جن کے عقائد، اعمال یا باطن اس معیار پر پورا نہیں اترتے جو مقبولیت الٰہیہ کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے اہل علم نے صدیوں پہلے یہ اصول واضح کر دیا تھا کہ ”اللہ دین کی نصرت فاسق سے بھی لے لیتا ہے“ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فاسق، دیندار بن جاتا ہے یا وہ امت کی رہنمائی کا اہل قرار پا جاتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے افراد گزرے ہیں جو ایمان یا استقامت میں کامل نہ تھے، مگر کسی خاص موقع پر انہوں نے اسلام کے خلاف اٹھنے والے طوفان کے سامنے ایک بند کا کام کیا۔ بعض نے فلسفیانہ اعتراضات کا جواب دیا، بعض نے سیاسی یا سماجی سطح پر اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کا ساتھ دیا اور بعض نے محض ضد یا غیرت قومی کے تحت ایسے موقف اختیار کیے جو بظاہر اسلام کے حق میں تھے۔ مگر اہل سنت کے اکابر نے کبھی ایسے افراد کو دینی قیادت کا معیار نہیں بنایا، نہ ان کے دفاع اسلام کو ان کے باطن کی پاکیزگی یا عقیدے کی صحت کی دلیل سمجھا۔
اصل خرابی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہم ”حق بات“ اور ”حق پر ہونا“ کے فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کوئی شخص ایک مناظرے میں درست استدلال پیش کر سکتا ہے، دہریت یا الحاد کے مقابلے میں خدا کے وجود کو عقلی بنیادوں پر ثابت کر سکتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ عقائد اہل سنت سے منحرف ہو، امت کے مسلمہ اصولوں میں تشکیک پیدا کرتا ہو، یا دین کو محض ایک فکری کھیل اور علمی برتری کا ذریعہ سمجھتا ہو۔ ایسے شخص کی بات میں وقتی کشش تو ہو سکتی ہے، مگر اس کی فکر امت کے لیے زہر قاتل بھی بن سکتی ہے، کیونکہ وہ عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل چیز دلیل کی چمک ہے، عقیدے کی درستگی اور منہج کی پختگی نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کو شدید فکری نقصان پہنچتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں شخصیت پرستی ایک دیرینہ مرض بن چکی ہے۔ ایک مختصر کلپ، ایک جذباتی جملہ، یا ایک مناظرہ اور عوام فیصلہ کر لیتی ہے کہ یہی حق کا علمبردار ہے، یہی رہبر ہے اور یہی نجات کا راستہ دکھانے والا ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ افراد کو حق کے ترازو میں تولا جائے، نہ کہ حق کو افراد کے نام پر پرکھا جائے۔ اہل حق وہ نہیں جو صرف مخالف کو خاموش کرا دے، بلکہ اہل حق وہ ہے جو عقیدے میں درست، منہج میں متوازن اور امت کے لیے نافع ہو۔
اس ساری صورت حال میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس بگاڑ کی ذمہ داری کا ایک حصہ خود علمائے اہل سنت پر بھی عائد ہوتا ہے۔ جب اسلام پر فکری، اعتقادی اور تہذیبی سطح پر منظم حملے ہو رہے ہیں، اس وقت علمائے اہل سنت کا ایک بڑا طبقہ آپس کے اختلافات میں اس حد تک الجھا ہوا ہے کہ باطل کے خلاف مشترکہ آواز کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ معمولی فروعات پر سخت لب و لہجہ، منبروں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی تردید اور عوام کے سامنے باہمی تضاد نے نوجوان نسل کو بدظن کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام ایسے متبادل چہروں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جو بظاہر زیادہ جری، زیادہ بلند آواز اور زیادہ پراثر دکھائی دیتے ہیں، خواہ ان کی فکری بنیاد کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔
یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ علمائے اہل سنت اپنے داخلی اختلافات کو علمی حدود میں رکھیں، انہیں عوامی محاذ آرائی نہ بنائیں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ آج اصل معرکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ اسلام کے تشخص، عقیدے اور فکری اساس کے دفاع کا ہے۔ اگر اہل سنت کی قیادت باہم منتشر رہے گی تو لازماً خلا پیدا ہوگا اور یہ خلا وہ لوگ پُر کریں گے جو یا تو دین کے پورے مزاج سے ناواقف ہیں، یا اسے اپنے مخصوص فکری ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کے دور میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ایمان یا دینی التزام سے محروم ہونے کے باوجود اسلام دشمن بیانیے کے خلاف بولتے ہیں۔ ان کا یہ عمل بظاہر اسلام کے حق میں ہے، مگر یہ دفاع نہ ان کے ایمان کی دلیل ہے اور نہ ہی امت کے لیے ان کی پیروی کا جواز۔ اہل سنت کا منہج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ حق کی بات کو قبول کیا جائے، مگر قائل کی گمراہی سے دھوکا نہ کھایا جائے۔
امت کو آج جس فہم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ دفاع اسلام اور قیادت اسلام میں فرق کیا جائے۔ اسلام کا دفاع اللہ کے دین کی ایک جزوی خدمت ہو سکتی ہے، مگر قیادت اسلام کے لیے عقیدے کی صحت، منہج کی پختگی، اکابر کی وراثت اور امت کے لیے خیر خواہی شرط اول ہے۔ جو شخص ان معیارات پر پورا نہیں اترتا، وہ خواہ کتنی ہی بڑی عقلی جنگ جیت لے، امت کے لیے رہبر نہیں بن سکتا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عوام کو شخصیت پرستی سے نکال کر اصول پسندی کی طرف لے جائے، حق کو حق سمجھنے اور باطل کو باطل پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے اور علمائے اہل سنت کے دلوں کو باہم جوڑ دے تاکہ وہ باطل کے مقابلے میں ایک مضبوط، متوازن اور باوقار صف بن سکیں۔ یہی امت کی بقا کا راستہ ہے اور یہی دین کی حقیقی خدمت۔ آمین۔
