| عنوان: | امام اہل سنت علیہ الرحمہ اور عقیدت سلطان الہند علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ جہاں سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے وہیں آپ عاشق اولیائے اللہ بھی تھے۔ ان اولیائے اللہ میں ایک عطائے رسول، سلطان الہند، گلشن فاطمہ کے پھول حضرت خواجہ خواجگان خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ بھی ہیں جن سے امام اہل سنت علیہ الرحمہ حد درجہ محبت و الفت فرماتے تھے۔ ذیل میں امام اہل سنت علیہ الرحمہ کی حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ سے عقیدت و محبت کی جھلک پیش کی جاتی ہے۔ آپ علیہ الرحمۃ کی مایہ ناز کتاب ”العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ“ میں موجود ایک فتاویٰ کو پڑھ کر اندازہ لگائیے کہ امام اہل سنت علیہ الرحمۃ کو کس قدر محبت تھی۔
فتاویٰ حاضر ہے
امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو جہاں بھی اجمیر شریف لکھنا ہوتا ہے تو وہ صرف اجمیر ہی لکھتا ہے، اجمیر شریف نہیں لکھتا ہے۔ اور اصلی نام غلام معین الدین پر غلام نہیں لکھتا ہے۔ تو امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ اس حوالے سے رقم طراز ہیں کہ اجمیر شریف کے نام پاک کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اگر اس بنا پر ہے کہ حضور سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرافت کو نہیں مانتا تو وہ گمراہ ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ
ترجمہ: جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے۔ اور اگر یہ ناپاک التزام بر بنائے کسل و کوتاہ قلمی ہے تو سخت بے برکتا اور فضل عظیم سے محروم ہے۔ اپنے نام سے لفظ غلام اس بنا پر ہٹانا کہ حضور خواجہ کا غلام بننے سے انکار ہے، تو وہ بدستور گمراہ اور عدو اللہ ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَکَبِّرِينَ
ترجمہ کنز الایمان: کیا نہیں جہنم میں ٹھکانا متکبرین کا۔ [الزمر: 60] [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 266]
کی دین محمد کی خواجہ نے اشاعت ہے
اور پیارے رضا خاں نے کی اس کی حفاظت ہے
ہم چھوڑ نہیں سکتے اجمیر و بریلی کو
دونوں میرے آقا ہیں دونوں سے عقیدت ہے
امید ہے کہ آپ یہی فیصلہ کریں گے کہ جیسا امام اہل سنت علیہ الرحمۃ حضور خواجہ غریب سے عقیدت و مودت رکھتے تھے، اس کی آج کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مزید تفصیل کے لیے کتاب ”امام احمد رضا در خواجہ پر“ کا مطالعہ کریں۔ آخر میں برادر امام اہل سنت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمۃ کی منقبت کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
ہے تری ذات عجب بحر حقیقت پیارے
کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا
گلشن ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ اے ابر کرم زور برسنا تیرا
کیا مہک ہے کہ معطر ہے دماغ عالم
تختہ گلشن فردوس ہے روضہ تیرا
محی دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدین ہے
اے حسن! کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا
اب حسن! منقبت خواجہ اجمیر سنا
طبع پرجوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا
اللہ پاک ہمیشہ ہمیں خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اور امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
