دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہشتم - آخر)

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہشتم - آخر)
عنوان: مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہشتم - آخر)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

حصول مال یا تحصیل مال کے باب میں اور بھی ذرائع ہیں مثلاً: وراثت، ہبہ، صدقہ، قرض، اجارہ، شرکت، مضاربت وغیرہ۔ مصطفوی جان رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہر ایک سے متعلق ہدایات دی ہیں۔ اسی طرح بیع و شرا و اجارہ وغیرہ کی بہت سی صورتیں اور دیگر بہت سے ذرائع کو اسلام نے حرام و ناجائز قرار دیا ہے، یا مکروہ و ناپسندیدہ رکھا ہے مثلاً: سود، غصب، باطل و فاسد یا دھوکے والی بیعیں وغیرہ۔ لوگوں کی حاجت کے وقت غلہ روک رکھنا، اذان جمعہ کے بعد خرید و فروخت میں مشغول ہونا۔ ان سب سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات اور فقہائے اسلام کی تشریحات موجود ہیں۔

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ارشادات میں ان حقائق کی تعلیم دی ہے کہ مال اللہ کا عطیہ ہے۔ اس کی تحصیل اور اس کے خرچ میں وہی طریقہ اپناؤ جو اللہ نے پسند فرمایا ہے اور جس کی اس نے اجازت دی ہے۔ وہی تمہارا خالق و مالک ہے۔ وہی ہر لمحہ تمہاری پرورش کرنے والا ہے۔ تمہارا جسم، تمہاری جان، تمہارا مال، تمہاری صحت، تمہاری قوت، سب اسی کا عطیہ ہے۔ تھوڑی مدت اور قلیل عرصۂ حیات کے لیے اس نے تمہیں مختار بنا دیا تو اپنے آغاز و انجام کو فراموش کر کے رب کی نافرمانی میں نہ پڑو، ورنہ اس جہان فانی کے چند روز کے بعد ایک اور جہان ہے جو غیر فانی اور جاودانی ہے۔

ہر اس ذریعہ سے بچو جس میں خدا کی ناراضی اور اس کا غضب ہو۔ باہمی ہمدردی، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی، فرائض الہیہ کی بجا آوری، خلق خدا پر شفقت و رحمت اور تنگ دستوں کی اعانت کبھی نہ بھولو، اسی سے خلق و خالق کے یہاں تمہیں وقار اور اعتبار حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی پر ظلم، کسی کے ساتھ غدر و بدعہدی ہرگز نہ کرو، پڑوسیوں، قرابت داروں اور حاجت مندوں سے بے پروائی نہ برتو، فریب اور دھوکے والا معاملہ کبھی نہ کرو۔

نزاعی معاملات کا تصفیہ اس اصول پر ہو کہ:

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

ترجمہ: نہ خود ضرر اٹھائے نہ کسی اور کو ضرر میں ڈالنا ہے۔ تم پر کسی بندے کا حق آتا ہے تو ادائیگی یا صاحب حق کی معافی کے بغیر دنیا و قیامت میں بھی چھٹکارا نہ ہوگا۔ اس لیے دنیا سے جاؤ تو اس حال میں جاؤ کہ تمہاری گردن کسی کے دین اور کسی کے حق میں پھنسی ہوئی نہ ہو۔

تمہارا کسی پر حق آتا ہو تو نرمی و چشم پوشی سے کام لو۔ ہو سکے تو معاف کر دو یا کچھ کمی کر دو یا کچھ عرصہ کے لیے مہلت دے دو۔ سخاوت اور کشادہ دلی خدا کو محبوب ہے۔ بخل اور تنگ دلی رب کو ناپسند ہے اور تمہیں دنیا کا سارا مال و منال چھوڑ کر اسی کے حضور حاضر ہونا ہے اس لیے اس کے یہاں سرخروئی کی فکر کرو اور وہاں کی رسوائی سے ڈرو۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی سید المرسلین، رحمۃ للعالمین، افضل الہادین، اکرم الاولین والآخرین، وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!