دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: سوم)

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: سوم)
عنوان: توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: سوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

توحید اور صوفیہ

صوفیائے کرام کے عقائد بھی وہی ہیں جو اکابر سلف اور اعلام امت کے ہیں، جو قرآن مجید اور سنت نبویہ سے ماخوذ ہیں۔ ان سے وہ سرِ مو انحراف گوارا نہیں کرتے۔ بلکہ کشف و الہام کے نتیجے میں ان پر کچھ اسرار و معارف منکشف ہوتے ہیں جن کو وہ شریعت کی میزان پر تولتے ہیں، اگر وہ شریعت سے متصادم ہوں تو رد کر دیتے ہیں اور اگر موافق ہوں تو قبول کرتے ہیں مگر انہیں دوسروں پر لازم نہیں کرتے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ توحید کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے؟ پھر کشف و شہود کے نتیجے میں اسے وہ کہاں ترقی دیتے ہیں؟ اور ان کا کشف شریعت کے موافق ہے یا نہیں؟

شیخ ابو طالب مکی ”قوت القلوب“ میں رقم طراز ہیں کہ فرض توحید یہ ہے کہ قلب اس بات کا اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے، بغیر عدد کے؛ اول ہے جس کا کوئی ثانی نہیں؛ موجود ہے جس میں کوئی شک نہیں؛ حاضر ہے غائب نہیں؛ عالم ہے جسے جہل نہیں؛ قادر ہے عاجز نہیں؛ حی ہے جس کے لیے موت نہیں؛ قیوم ہے جسے غفلت نہیں؛ حلیم ہے جس کے لیے سفاہت نہیں؛ سمیع بصیر بادشاہ ہے جس کی بادشاہت کے لیے زوال نہیں۔ اس کے اسماء، صفات اور انوار نہ مخلوق ہیں نہ اس سے منفصل ہیں۔ وہ نہ اشیاء کے لیے محل ہے نہ اشیاء اس کے لیے محل ہیں۔ [قوت القلوب]

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ”فتوحات مکیہ“ میں لکھتے ہیں کہ یقیناً اللہ تعالیٰ الہ واحد ہے، جس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ بیوی اور اولاد سے منزہ ہے؛ مالک ہے جس کا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہ ہے جس کا کوئی وزیر نہیں۔ صانع ہے، جس کے ساتھ کوئی مدبر نہیں۔ بذاتہ موجود ہے، بغیر اس کے کہ اسے کسی موجد کی احتیاج ہو، بلکہ ہر موجود اپنے وجود میں اس کا محتاج ہے۔ سارا عالم اس سے موجود ہے اور وہ از خود موجود ہے۔ نہ اس کے وجود کی کوئی ابتدا ہے، نہ اس کی بقا کی کوئی انتہا۔ [الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر]

عقیدہ توحید میں صوفیہ کی ترقی

سیدنا امیر عبد الواحد بن ابراہیم بلگرامی ”سبع سنابل“ میں ارقام فرماتے ہیں کہ قال اللہ تعالیٰ:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا

ترجمہ: ”بے شک جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر استقامت کی۔“ [الاحقاف: 13]

بحر الحقائق میں اس کے تحت نقل ہے کہ صاحبِ کشف الاسرار نے فرمایا کہ ”رَبُّنَا اللهُ“ توحیدِ اقرار سے عبارت ہے اور ”ثُمَّ اسْتَقَامُوا“ سے توحیدِ معرفت کی جانب اشارہ ہے۔ توحیدِ اقرار یہ ہے کہ اللہ کو یکتا کہو اور توحیدِ معرفت یہ ہے کہ اسے یکتا پہچانو۔ یعنی ہر جہت سے اس کی وحدت کا مشاہدہ کرنے والے ہو جاؤ باوجودیکہ عالم وحدت میں جہت نہیں۔

نہ جہت می گنجد ایں جانے صفت
نہ تفکر نہ بیاں نہ معرفت
آتشے از سر وحدت بر فروخت
غیر واحد ہر چہ پیش آمد بسوخت

وحدت الوجود اور وحدت الشہود

سیدنا شاہ ابو الحسن احمد نوری فرماتے ہیں کہ وحدت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وجودی، دوسری شہودی۔ وحدتِ وجودی کے معنی یہ ہیں کہ سالک کے علم اور نظر دونوں سے اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے، اس کا شعور ختم ہو جائے اور اس کی نظر و علم میں اللہ کے سوا سب کچھ فنا ہونے کے بعد ذاتِ باری تعالیٰ باقی رہے۔ یہی سالک کے مقام کی انتہا ہے۔ اس مقام پر آنے کے بعد سالک ولی ہو جاتا ہے۔

وحدتِ شہودی کے بھی یہی معنی ہیں لیکن اس میں موجودات کا انکار صرف سالک کی نظر سے ہوتا ہے، اس کے علم سے نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام موجودات اس کے علم میں تو باقی رہتے ہیں، صرف نظر سے ختم ہو جاتے ہیں۔ جیسے سورج نکلنے پر ستارے کہ سب ستارے نظر سے غائب ہو جاتے ہیں، نظر کے سامنے صرف سورج ہوتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ ستاروں کا وجود بھی ویسے ہی باقی ہے، بس نظر سے چھپ گیا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!