| عنوان: | توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حقیقی وجود صرف اللہ کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے سچی بات جو عرب نے کہی وہ لبید شاعر کا یہ قول ہے: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ (خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے)۔ ہمارے نزدیک ثابت ہو چکا ہے کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کا معنی عوام کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور خواص کے نزدیک اللہ کے سوا کوئی مقصود نہیں، اور اخص الخواص کے نزدیک اللہ کے سوا کوئی مشہود نہیں، اور جو مقام نہایت تک پہنچ گئے ان کے نزدیک یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی موجود نہیں، اور یہ سب حق ہے۔ [ الدولۃ المكيۃ بالمادۃ الغیبیۃ]
یہاں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صوفیہ واجب اور ممکن میں اتحاد کے قائل ہیں، لیکن صوفیہ کا دامن اس الزام سے بری ہے وہ ممکن کو ظل، عکس، پرتو اور مظہر کہتے ہیں۔ ظل بہرحال اصل سے جدا اور اصل کا غیر ہوتا ہے۔ ظلیت کی صراحت کے باوجود ان کے کلام سے عینیت ثابت کرنا غلط ہے، اگر کسی سے کوئی ایسی عبارت منقول ہے تو اس کی تاویل ضروری ہے، کیونکہ حلول و اتحاد کی نفی میں صوفیائے کرام کی صریح عبارات موجود ہیں۔
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ جو حلول کا قائل ہے وہ بیمار ہے، کیونکہ حلول کا قول لاعلاج مرض ہے اور اتحاد کے قائل اہل الحاد ہیں۔ قدیم نہ حلول کرنے والا ہے نہ اس میں کوئی شے حلول کرنے والی ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ جب عاشق کہتا ہے: أَنَا مَنْ أَهْوَى، وَمَنْ أَهْوَى أَنَا تو یہ زبانِ عشق و محبت کا کلام ہے، زبانِ علم و تحقیق کا نہیں۔ اگر یہ صحیح ہو کہ انسان خالق سے متحد ہو جائے تو کسی کو کسی علم پر اعتماد نہ رہے، جب کہ قلبِ حقائق کی کوئی راہ نہیں۔ خلقت کبھی مرتبہ حق عزوجل میں نہیں ہو سکتی، جیسے معلول کبھی مرتبہ علت میں نہیں۔ [بتلخیص فتوحات مکیہ]
ان اقتباسات سے واضح ہے کہ حلول و اتحاد کے قول سے صوفیائے کرام کس قدر دور ہیں۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے ”الروض المجود“ میں وحدتِ وجود کو دلیلِ عقلی سے ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وحدتِ وجود کو مانے بغیر نصوص کا صحیح مفہوم متعین نہیں ہو سکتا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں کہ توحید مدارِ ایمان ہے، وحدتِ وجود حق ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے، اور اتحاد زندقہ و الحاد ہے۔ الہ، الہ ہے اور عبد، عبد؛ ہرگز نہ عبد الہ ہو سکتا ہے نہ الہ عبد۔ وحدتِ وجود یہ ہے کہ وہ صرف موجودِ واحد، باقی سب ظلال و عکوس ہیں۔
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب میں زیادہ سچی بات لبید کی ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا ہر چیز اپنی ذات میں بے حقیقت ہے۔ سواد بن قارب رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کی:
فَاشْهَدْ أَنَّ اللهَ لَا شَيْءَ غَيْرُهُ
وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَائِبِ
حضور اقدس ﷺ نے اس پر انکار نہ فرمایا۔ اس مسئلے کی تفہیم کے لیے اعلیٰ حضرت ایک مثال پیش فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ آئینہ خانہ میں جلوہ فرما ہے جہاں مختلف آئینے نصب ہیں۔ ایک ہی صورت کا عکس ہر آئینے میں اس کی قابلیت کے مطابق الگ الگ نظر آتا ہے، مگر متجلی ان تمام حالتوں سے منزہ ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 6] اب اس آئینہ خانہ کو دیکھنے والے تین قسم کے ہوں گے، جن کا ذکر قسط پنجم میں ہوگا۔
