| عنوان: | اہل سنت پر کیے گئے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد احسان مصطفیٰ |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
ہم کریں تو ناجائز، تم کرو تو جائز
چند دن پیشتر دیوبندی مکتبِ فکر کے ایک معروف اور بڑے پیر، پیر ذوالفقار نقشبندی کا انتقال ہوا۔ تدفین کے بعد ان کی قبر پر پھول ڈالے جانے کا عمل انجام دیا گیا۔ یہ امر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مذکورہ مکتبِ فکر کے نزدیک قبروں پر پھول ڈالنا بدعت، ناجائز اور ممنوع قرار دیا جاتا ہے اور اسی موقف کا اعادہ وہ اپنے بیانات، فتاویٰ اور تصنیفات میں مسلسل کرتے آئے ہیں۔ مگر تعجب اس وقت ہوا جب انہی اصولوں کے علم بردار حضرات، ان کے انتقال کے بعد، خود ان کی قبر پر پھول ڈالے گئے۔ قارئینِ کرام! یہ کوئی منفرد یا واحد واقعہ نہیں، بلکہ اس نوعیت کے متعدد واقعات اس سے قبل بھی رونما ہو چکے ہیں۔ بہرحال!
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
- اگر قبروں پر پھول ڈالنا واقعی آپ کے نزدیک ناجائز، بدعت اور ممنوع ہے تو پھر یہ عمل کس بنیاد پر اختیار کیا گیا؟
- کیا وفات کے بعد آپ کے یہاں احکام کی نوعیت بدل جاتی ہے؟
- یا پھر یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ ہم کریں تو جائز اور دوسرے کریں تو ناجائز؟
ناظرینِ کرام! مزید یہ کہ معاملہ صرف پھول ڈالنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ کئی ایسے امور بھی انجام دیے گئے جو اہلِ سنت و جماعت کے یہاں معروف اور معمول ہیں، لیکن جب یہی امور اہلِ سنت انجام دیں تو ان پر ناجائز، حرام اور بدعت کے فتاویٰ صادر کر دیے جاتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ رویہ اور طرزِ فکر فکری تضاد اور دوہرے معیار کو پوری طرح آشکار کر دیتا ہے۔
ناظرین! جب بات کھل کر سامنے آ چکی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بے بنیاد اعتراضات اور باطل شبہات کو دفع کرتے ہوئے اہلِ سنت کے موقف کو دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں پیش کر ہی دیا جائے۔
چنانچہ اہلِ سنت کے نزدیک قبروں پر پھول ڈالنا جائز بلکہ مستحب ہے، جیسا کہ اس کی اصل مشکوٰۃ شریف کی حدیثِ مبارکہ ہے: ”ایک مرتبہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دو قبروں پر گزر ہوا۔ فرمایا کہ ان دونوں میتوں کو عذاب ہو رہا ہے۔ ان میں ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک تر شاخ لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں قبروں پر ایک ایک نصب کر دی۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے یہ کیوں کیا؟ تو نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب تک یہ خشک نہ ہوں گے، تب تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔“ [مشکوٰۃ شریف، الجزء الاول، کتاب الطہارۃ، باب آداب الخلاء، الفصل الاول، ص: 43، مکتبہ رحمانیہ]
اسی حدیث کی شرح میں ”مرقاۃ المفاتیح“ میں ہے: ”ہمارے بعض متاخرین اصحاب نے اس حدیث کی بنا پر فتویٰ دیا کہ قبروں پر پھول اور کھجور کی ٹہنی رکھنے کی جو عادت ہے، وہ سنت ہے۔“ [مرقاۃ المفاتیح، ج: 2، ص: 53، مکتبہ تھانویہ دیوبند]
یہاں ”بعض نے فتویٰ دیا“ کا مفہوم یہ نہیں کہ دیگر علماء اسے ناجائز قرار دیتے ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جواز پر سب کا اتفاق ہے، اختلاف صرف اس کے سنت ہونے یا نہ ہونے میں ہے، جیسا کہ ”جاء الحق“ میں صراحت موجود ہے۔ [ماخوذ: جاء الحق، ج: 1، ص: 249، کتب خانہ امجدیہ دہلی]
محترم قارئین! ان نصوص اور عبارات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیجیے اور خود فیصلہ فرمائیے کہ حدیثِ نبوی اور اس کی تشریحات کس موقف کی تائید کر رہی ہیں۔ آخر میں گزارش کروں گا کہ اس تحریر کا مطالعہ تعصب سے بالاتر ہو کر، صدق و وفا اور انصاف کے ساتھ کیا جائے۔ اگر حق واضح ہو جائے تو اسے قبول فرما کر طریقِ حق و صواب پر گامزن ہو جائیں۔
