| عنوان: | فضائلِ تلاوتِ قرآن احادیثِ کریمہ کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد شاہ رخ برکاتی |
پیارے اسلامی بھائیو!
آج لوگ دن بدن قرآنِ پاک کی تلاوت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ عموماً دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ آج کل کے مسلمان دنیاوی چیزیں خوب لگن کے ساتھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دینی تعلیم کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں دیتے۔ دینی تعلیم میں ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی کما حقہٗ تلاوت کرنا سیکھے۔ تلاوتِ قرآنِ کریم کے بے شمار فضائل متعدد احادیثِ شریفہ میں موجود ہیں۔
اب آئیے! احادیثِ کریمہ کی روشنی میں اس بات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ تلاوتِ قرآنِ کریم کے کیا کیا فضائل ہیں؟ ویسے تو کثیر احادیث میں فضائلِ تلاوتِ قرآنِ کریم کو بیان کیا گیا ہے، لیکن راقم السطور فقط چار احادیثِ کریمہ لکھنے کی سعادت حاصل کرتا ہے:
1. قوم کی ترقی و تنزلی کا سبب
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَّيَضَعُ بِهٖ آخَرِيْنَ.“
ترجمہ: حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس قرآن کے ذریعے کچھ قوموں کو سربلند کرے گا اور کچھ کو گرا دے گا۔“ [صحیح مسلم / مرآۃ المناجیح]
اس حدیثِ شریف کے حوالے سے مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
”جو مسلمان قرآنِ کریم کو صحیح طرح سمجھیں، صحیح طرح عمل کریں، تو وہ دنیا و آخرت میں بلند درجے پائیں گے۔ اور جو اس سے غافل رہیں، یا غلط طرح سمجھیں، غلط طور پر عمل کریں، وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ قرآنِ کریم سے زندگی و موت طیب ہوتی ہے۔ یہ محبوبین کے لیے ماء (پانی) ہے، اور محجوبین کے لیے دماء (خون) ہے۔ اب بھی قرآنِ پاک کے صحیح متبع بڑی عظمت و عزت کے مالک ہیں۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا﴾۔ حضرت عمر نے ابن ابزیٰ غلام کو مکہ معظمہ کا حاکم بنایا، لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ یہ اگرچہ غلام ہے مگر قرآن کا ماہر ہے۔“ [مرآۃ المناجیح]
2. بہترین شخص کون؟
نبیِ مکرم، نورِ مجسم، رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:
”خَيْرُكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَهٗ.“
ترجمہ: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔“ [صحیح البخاری]
3. قرآن شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمتِ عالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم، رسولِ محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:
”جس شخص نے قرآنِ پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآنِ پاک میں ہے اس پر عمل کیا، قرآنِ شریف اس کی شفاعت کرے گا اور جنت میں لے جائے گا۔“ [تاریخ دمشق لابن عساکر]
4. ایک حرف اور دس نیکیاں
قرآنِ مجید فرقانِ حمید اللہ رب الانام عزوجل کا مبارک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآنِ پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتم المرسلین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ دلنشین ہے:
”جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ”الٓمّٓ“ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ [سنن الترمذی]
تلاوت کی توفیق دے دے الٰہی
گناہوں کی ہو دور دل سے سیاہی
پیغامِ قارئین
محترم قارئینِ کرام! بیان کردہ احادیثِ کریمہ سے ہمیں یہ بات سیکھنے کو ملتی ہے کہ ہم بھی تلاوتِ قرآن کریں اور ذکر کردہ فضائل کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ایک حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ قوم کی ترقی اور تنزلی کا سبب تلاوتِ قرآن اور اس پر عمل میں پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خوب خوب قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تاریخ: 8 رمضان المبارک 1447ھ / 26 فروری 2026ء
