Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

شارح بخاری علیہ الرحمہ کی تحریر و تصنیف

شارح بخاری علیہ الرحمہ کی تحریر و تصنیف
عنوان: شارح بخاری علیہ الرحمہ کی تحریر و تصنیف
تحریر: مولانا نفیس احمد مصباحی
پیشکش: عبداللہ عطاری، جامعۃ المدینہ، احمد آباد

حضرت شارح بخاری علیہ الرحمۃ والرضوان کی فکر و قلم، تحریر و تصنیف اور زبان و ادب سے گہری وابستگی ابتدائے عمر سے رہی، یہی سبب ہے کہ طالب علمی کا زمانہ رہا ہو یا عہدِ شباب، شعور کی پختگی ہو یا کم سنی، علمی اور تصنیفی مصروفیات نے ہمیشہ آپ کے لمحاتِ زندگی کا احاطہ کیے رکھا۔ تدریس و افتا کی گراں ذمہ داریوں کے ساتھ آپ قرطاس اور قلم کا بھی حق ادا کرتے رہے، ان کی تحریر و تصنیف نصف صدی پر محیط ہے۔ ابتدا ہی سے آپ نے وقیع مضامین و مقالات لکھے، اور آپ کے سیال قلم نے جس وادی کا رخ کیا، اسے سیراب کیا، جس حق کو چاہا، اس کا چہرہ نکھار کر روشن کر دیا، جس باطل پر کمند ڈالی، اسے کھینچ کر پاؤں سے روند ڈالا، گویا کہ کلکِ امجدی میں کلکِ رضا کی حمایتِ حق و استیصالِ باطل کی جلوہ آرائی و کارفرمائی ہے، سطوت و صولت کا غلغلہ و ہمہمہ ہے، اور فیضان و توفیق کا حسین امتزاج ہے۔

مختلف دینی و علمی موضوعات پر قیمتی و جامع تحریریں اور وقیع و مؤثر مقالے دبدبۂ سکندری رامپور، نوری کرن بریلی شریف، پاسبان الہ آباد، جامِ کوثر کلکتہ، استقامت کانپور، اشرفیہ مبارک پور، رفاقت پٹنہ، حجاز دہلی، وغیرہ رسالوں میں چھپ کر عوام و خواص کے درمیان مقبول ہوتی رہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور میں التزام و تسلسل کے ساتھ آپ کے منتخب فتاویٰ چھپ کر ماہنامہ کا وقار بلند اور قارئین کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، آپ کے مطبوعہ مضامین یکجا کر کے ”مقالاتِ شارح بخاری“ کے نام سے شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہیں، امید ہے کہ علم و ادب کا یہ شاہکار، فکر و آگاہی کا سنگم، زبان و بیان کا مرقع، تنقید و تبصرہ کی دستاویز، تحقیق و تدقیق کا شیریں چشمہ، ملی درد و کرب کا آئینہ، اور دین اور عقیدہ کا بحرِ ذخار، قارئین کی علمی پیاس بجھائے گا، ان کے شعور و احساس کو مہمیز کرے گا، ان کے فکر و عقیدہ کی زنگ صاف کر کے اسے صیقل کرے گا۔

مختلف مدارسِ اہلِ سنت کے زمانۂ تدریس میں منتشر طور پر مختلف موضوعات پر کتب و مضامین لکھنے کا عمل جاری رہا، لیکن جامعہ اشرفیہ مبارک پور آنے کے بعد مولانا یاسین اختر مصباحی اور مولانا افتخار احمد قادری مصباحی کی درخواست اور اصرار پر آپ نے صحیح بخاری کا ترجمہ لکھنے کا بیڑہ اٹھایا۔ پھر علامہ محمد احمد مصباحی صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی گزارش پر ترجمہ کے ساتھ شرح کا کام بھی شروع فرمایا۔ بفضلہ تعالیٰ 11 رمضان المبارک 1419ھ مطابق 30 دسمبر 1998ء کو دینی مذہبی اور علمی و تاریخی کارنامہ پائے تکمیل کو پہنچا، جس کی خوشی میں 21 شوال 1420ھ مطابق 29 جنوری 2000ء کو عروس البلاد ممبئی میں رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام دو روزہ عظیم الشان ”جشنِ تکمیلِ شرح بخاری“ منایا گیا جس میں آپ کو چاندی سے تولا گیا۔ گویا ناظرین و حاضرینِ اجلاس کی آنکھیں فرطِ حیرت سے اس وقت پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب آپ نے اسی وقت منبرِ رسول پر ایک تہائی چاندی رضا اکیڈمی ممبئی کو تصانیفِ اعلیٰ حضرت کی اشاعت کے لیے اور دو تہائی چاندی ازہرِ ہند جامعہ اشرفیہ مبارک پور کو مستقبل کے زریں منصوبوں کی تکمیل کے لیے وقف کرنے کا اعلان فرمایا۔ فقیر راقمِ سطور بھی اس جشن میں موجود تھا، میں نے دیکھا کہ بہت سے حاضرین کی آنکھیں اس تاریخی موقع پر فرطِ حیرت و مسرت سے ڈبڈبا آئیں۔

علمی سطح پر آپ کی تحریریں اور قلمی آثار علمی اور تحقیقی ایجاز کا خوبصورت اور قیمتی رنگ لیے رہتی ہیں، باتیں نپی تلی اور پتے کی ہوتی ہیں، مضامین کی فراوانی بھی خوب ہوتی ہے، لیکن مفاہیم کی ترسیل اور مضامین کی تفہیم کہیں بھی متاثر نہیں ہوتی، جن کا امتیازی وصف تحقیق و تدقیق ہوتا ہے۔ سرعتِ تحریر میں اپنا جواب آپ تھے۔ بجرڈیہ کے مناظرہ میں غیر مقلدین کی ہفتوں میں تیار شدہ مفصل تحریر کے جوابات بہت سرعت کے ساتھ تحریر کرائے، جبکہ آپ ان دنوں علیل چل رہے تھے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں طویل مقالات و مضامین، لمبے اور تحقیقی فتاویٰ بلکہ کتابیں لکھنا تو عام بات ہے۔

[مقالات شارح بخاری، ص: 39 تا 41]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!