| عنوان: | مسئلہ ختم نبوت اور تحذیر الناس |
|---|---|
| تحریر: | شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ |
| پیش کردہ: | محمد اکرم رضا رضوی شراوستی |
بانی دارالعلوم دیوبند مولوی قاسم نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس کی مندرجہ ذیل دونوں عبارتوں کے متعلق بالفرض کے لفظ کے ساتھ جو بات کہی گئی ہے، اس پر اعتراض کیوں کر درست ہے، جبکہ محض کسی چیز کے فرض کر لینے پر حکم نہیں ہوتا، جیسا کہ قرآن میں ہے:
لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہو جاتے۔
جیسا کہ ایک دیوبندی مولوی نے اس طرح جواب دیا۔ عبارت تحذیر الناس یہ ہے:
- اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔
- اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
الجواب:
یہ عبارت کفریہ ہے کہ یہ اس کا انکار ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء ہیں۔
خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء ہونا ضروریاتِ دین سے ہے۔ اس پر اجماعِ امت ہے، اس عبارت میں اس کا انکار ہے۔ نانوتوی صاحب یہ کہتے ہیں کہ آپ سب سے آخری نبی نہیں اور خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے نہیں، بلکہ خاتم بالذات کے ہیں، یعنی آپ کو نبوت بلا واسطہ ملی۔ اس لیے اگر آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ حالانکہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخر الانبیاء ہیں تو آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں فرق آئے گا بلکہ آپ خاتم ہی نہ ہوں گے، جبکہ خاتم بمعنی آخر لیا تو دوسرے کا سوال ہی نہیں۔
اس کو اور آسان الفاظ میں یوں سمجھیے: یہ ایمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اس معنی میں آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو یہ خاتمیت محمدی کے منافی ہے۔ اگر منافی نہ ہوتا، تو جو بات کفر ہے اس کو قرآن کے معنی بتا دیا ہے۔ اس لیے یہ کلمہ کفر ہوا۔
اگر مطلقاً یہ شرط و جزا ایمان ہے، تو اس معترض سے پوچھیے اگر کوئی اس سے سیکھ کر یہ کہے: ”اگر بالفرض زمین و آسمان میں چند خدا ہیں تو بھی اللہ عزوجل کی توحید میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔“ یہ کلمہ کفر ہے یا ایمان؟ اگر ایمان بتائے تو دیوبند استفتاء بھیج کر اس کا دماغ درست کیجئے، اور اگر کفر مانے تو اس سے پوچھیے یہاں بھی ”اگر“ ہے، یہاں بھی ”بالفرض“ ہے، یہ کیوں کر کفر ہوا اور تحذیر الناس میں ”اگر“ اور ”بالفرض“ ہونے کی وجہ سے وہ کیسے دیوبندیوں کا ایمان ہوا؟ معترض نے تحذیر الناس کی عبارت آیتِ کریمہ لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا کے مثل مان کر تحذیر الناس کی عبارت کے کفر کو قبول کیا۔ اس لیے کہ حسبِ قاعدہ نحو ”لو“ اپنے مدخول مثبت کو منفی اور منفی کو مثبت بنا دیتا ہے۔ دیکھ پڑا تھا اسی وجہ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں نہ چند معبود ہیں اور نہ زمین آسمان میں فساد۔ اب اس قاعدے کی رو سے تحذیر الناس کی عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے زمانے میں کہیں کوئی نبی نہیں اور آپ کی خاتمیت باقی نہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور خاتمیت محمدی میں فرق آگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کا باقی نہ رہنا اور اس میں فرق ماننا کفر ہے، جس سے کسی دیوبندی کو انکار کی مجال نہیں۔
بات اصل یہ ہے کہ قاتل ایک قتل چھپانے کے لیے دس قتل کرتا ہے، چور پکڑے جانے کے اندیشے سے قتل کر ڈالتا ہے۔ ایک کفر پر پردہ ڈالنے کی ہر کوشش دوسرے کفر کی جانب کھینچ کر لے جاتی ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ صدقِ شرطیہ کے لیے صدقِ مقدم و تالی لازم نہیں، یہ حق ہے مگر لزوم لازم ہے اور قضیہ شرطیہ میں علاقہ ہی پر مدارِ حکم ہے۔ یہ کہنا سچ ہے: ”انسان اگر گدھا ہوتا تو اس کی دم ہوتی“ مگر یہ کہنا غلط ہے کہ: ”انسان اگر گدھا ہوتا تو اس کی سینگ ہوتی“، اس لیے کہ پہلے میں علاقہ درست، دوسرے میں نہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے: ”زید بالفرض اگر گدھا ہوتا تو خدا ہوتا“ کلمہ کفر ہے۔ اس لیے کہ یہاں قائل نے جو علاقہ ثابت کیا ہے وہ کفر ہے۔ اس طرح تحذیر الناس میں ”اگر“ اور ”بالفرض“ ہوتے ہوئے بھی وہ عبارت اس لیے کفر ہے کہ اس میں جو علاقہ بتایا گیا ہے وہ کفر ہے۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد نبی ہونے کو خاتمیت محمدی کے منافی نہیں جانا۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا خاتمیت محمدی کے منافی ہے اور یہ اجلیٰ بدیہیات اور ضروریاتِ دین سے ہے جسے ہر پڑھا لکھا سمجھدار مسلمان بھی جانتا ہے، اسی مسلمان سے پوچھیے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے زمانے کے بعد کوئی نبی پیدا ہو جائے تو خاتمیت محمدی میں فرق آئے گا یا نہیں؟ تو وہ فوراً کہے گا کہ ضرور فرق آئے گا پھر حضور خاتم النبیین کیسے؟
”اگر“ اور ”بالفرض“ کی عبارت تو کسی عیار کی ایجاد ہے کہ عوام اس میں الجھ کر شک میں پڑ جائیں، ورنہ بات صاف ہے۔ تحذیر الناس کی عبارت سے بالکل واضح ہے کہ اس کا قائل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے بعد کسی نبی کے پیدا ہونے کو ممکن مانتا ہے اور یہ کفر ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا بعد میں نبی پیدا ہونا محالِ شرعی ہے اور آیتِ کریمہ ”خاتم النبیین“ کے منافی ہے۔ اس لیے کفر صریح ہے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان کا ممکن ماننا بھی کفر ہے۔ جیسے اللہ عزوجل کا شریک ممکن ماننا۔ قرآن کے بعد کسی آسمانی کتاب کا نزول ممکن ماننا۔
اور تحذیر الناس کی عبارت کا یہی صریح مطلب ہے، اس لیے عبارت بلاشبہ کفر صریح ہے۔
واللہ اعلم ورسولہ بالصواب
[مقالات شارح بخاری، ص: 355، 357]
