کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجیے

مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجیے
عنوان: مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجیے
تحریر: بنت محمد یونس

انسانی زندگی آزمائشوں اور مشکلات سے خالی نہیں۔ کبھی مالی تنگی، کبھی بیماری اور کبھی کسی عزیز کا بچھڑ جانا انسان کو ذہنی اور جذباتی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں انسان پہلے ہی کمزور اور حساس کیفیت میں ہوتا ہے۔ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور صبر کا رویہ اختیار کیا جائے، نہ کہ اسے مزید پریشانی میں ڈال دیا جائے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔“ [البقرۃ: 286]

یہ آیتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خود بندے پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو ہمیں بھی چاہیے کہ مصیبت زدہ انسان پر غیر ضروری سوالات، مشورے، طعنے یا تنقید کا بوجھ نہ ڈالیں۔ اس کے حالات کو سمجھنا اور اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ نادانستہ طور پر دکھ میں مبتلا شخص سے ایسے سوالات کرتے ہیں جو اس کے زخموں کو مزید گہرا کر دیتے ہیں، یا ایسے مشورے دیتے ہیں جن کی اس وقت کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ حالانکہ ایسے موقع پر خاموشی، خلوص اور چند تسلی کے الفاظ زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ہمدردانہ رویہ، احترام اور مدد کی پیشکش دل کو سکون پہنچاتی ہے۔

مصیبت دور کرنے کی فضیلت:

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ترجمہ: ”جو شخص کسی مؤمن کی دنیا کی کسی مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دور فرما دے گا۔“ [صحیح مسلم، باب فضل قضاء حوائج المسلمین، الحدیث: 2699]

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ کی مدد صرف مالی تعاون تک محدود نہیں بلکہ تسلی دینا، بوجھ کم کرنا اور کم از کم اسے مزید تکلیف نہ دینا بھی عظیم نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عمل کا بدلہ قیامت کے دن آسانی کی صورت میں عطا فرمائے گا

مسلمان کو اذیت نہ دینے کی تعلیم:

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے:

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.

ترجمہ: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [صحیح بخاری، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، الحدیث: 10]

یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زبان سے دی جانے والی تکلیف بھی اذیت میں شامل ہے۔ طنز، الزام، طعنے اور غیر ضروری سوالات خاص طور پر مصیبت زدہ انسان کے لیے شدید تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے راحت کا ذریعہ بنے۔

آخر میں یہ بات واضح ہے کہ مصیبت زدہ کو پریشان نہ کرنا محض نصیحت نہیں بلکہ ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ہمدردی، صبر اور حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنا لیں تو نہ صرف افراد کے دکھ کم ہوں گے بلکہ پورا معاشرہ امن اور محبت کی مثال بن جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!