Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قرآن و حدیث

شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قرآن و حدیث
عنوان: شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قرآن و حدیث
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ ستودہ صفات پر اہلِ سنت و جماعت کے کبار و صغار، موقر علمائے کرام نے بہت کچھ لکھا ہے، لکھ رہے ہیں اور تا قیامت کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ نے بھی کچھ لکھ کر اپنا نام ان خوش نصیبوں میں شامل کرا لیا یا نہیں؟ خیر! فقیر راقم الحروف نے فقط ان سعادت مندوں میں اپنا نام درج کرانے کے لیے کسی ایک زاویے سے کچھ اہم نکات قرآنی آیات اور احادیثِ کریمہ سے نوکِ قلم کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

اولاً تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں، کاتبِ وحی ہیں، تین بار جنت کی بشارت پانے والے ہیں، امیر المؤمنین ہیں۔ الغرض آپ بہت ساری صفاتِ حسنہ کے مالک ہیں۔ فقیر بس آپ کے صحابی والی فضیلت پر کچھ خامہ فرسائی کرنے کی سعی کر رہا ہے۔

اب پڑھیے!
قرآن و حدیث میں جہاں کہیں صحابہ کرام کی شانِ رفیعہ میں جو جو فضائلِ حمیدہ اور مناقبِ جمیلہ بیان کیے گئے ہیں، ان میں یقیناً امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل و شریک ہیں۔ چودہ سو صدی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرنا ہم اہل سنت و جماعت کا شعار رہا ہے اور اب بھی اہل سنت و جماعت شانِ معاویہ بیان کرنے کو سرمایہ افتخار اور اپنی زندگی کا ایک اہم اثاثہ جانتے ہیں۔

یاد رکھیں! اہل سنت و جماعت میں وہی شخص صحیح معنوں میں شامل ہونے کا حقدار ہے، جو تمام صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم کرتا ہو، ان کے آپسی معاملات یعنی مشاجرات میں کفِ لسان ضروری جانتا ہو، ان نفوسِ قدسیہ کی ذاتِ بابرکات میں گستاخی کرنے کو اپنی ہلاکت و بربادی کا سبب سمجھتا ہو۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بیان کرنے کو ناپسند نہ جانتا ہو۔ ان کی ذاتِ بابرکت کے حوالے سے ہر وہ کلمات جو اپنے اندر سب و گستاخی کا مفہوم رکھتے ہوں بولنے سے احتراز و اجتناب کرتا ہو۔ الحمد للہ ہم اہل سنت و جماعت کا یہی موقف ہے اور یہی عقیدہ اہلِ سنت ہے۔

نوٹ: آج کے وقت میں کچھ لوگ اہلِ بیت کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کو جائز قرار دیتے ہیں؛ اور یہی تو رافضیت ہے۔ ان سے خود کو بچائیں۔ الامان و الحفیظ۔

استادِ محترم شیخ الحدیث مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کے واٹس ایپ اسٹیٹس پر ایک چیز پڑھی جو دل میں گھر کر گئی۔ فقیر اسے یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ آپ بھی پڑھ لیں: ”حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاؤں کی جوتیاں ہمارے سروں کے تاج ہیں، اور ہماری جوتیاں گستاخِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منہ پر داغ ہیں۔“

اب آپ فرماتے ہیں:
اپنے جوتے سے معذرت؛ یقیناً آپ کا مقام اس سے بلند ہے۔ فافہم۔

فضائلِ صحابہ کرام قرآنِ کریم کی روشنی میں:

اب آئیے قرآنِ کریم سے ہی سوال کرتے ہیں کہ ان نفوسِ طیبہ کے بارے میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کچھ یوں گویا ہے:

  1. لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ۔
    ترجمہ کنز الایمان: ”اے محبوب کے صحابیو! تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ رتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں، اور دونوں فریق سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ کر لیا، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔“ [الحدید: 10]

اب سنتے ہیں کہ جن کے لیے حسنیٰ کا وعدہ کیا گیا ہے، ان کی شان کیا ہے۔ تو قرآن کچھ یوں اپنی زبانِ قال سے رہنمائی کرتا ہے:

  1. اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤیۙ اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ ۙ لَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ هُمْ فِیۡ مَا اشْتَہَتْ اَنۡفُسُہُمْ خٰلِدُوۡنَ ۚ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ هٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ۔
    ترجمہ کنز الایمان: ”بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حسنیٰ کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔ وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔“ [الانبیاء: 101 تا 103]

امامِ اہلِ سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے ہی عرض کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس آیت کا مطلب سمجھا دیں۔ آپ علیہ الرحمہ کچھ یوں ارشاد فرماتے ہیں: ”یہاں قرآنِ عظیم نے ان دریدہ دہنوں، بے باکوں، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام کے افعال سے ان پر طعن چاہتے ہیں، وہ بشرطِ صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سب سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا، تو اب جو معترض ہے اللہ واحد قہار پر معترض ہے، جنت و مدارجِ عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اللہ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حسنیٰ کا وعدہ ان سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزا پائے گا۔“

  1. رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ
    ترجمہ: ”اللہ ان سے راضی ہو، اور وہ اس سے راضی ہوئے۔“ [البینہ: 8]

ویسے تو فضائلِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں کتبِ کثیرہ احادیثِ وافرہ سے مملو ہیں۔ اب چند احادیثِ شریفہ گوش گزار ہیں، ملاحظہ کریں:

  1. ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے فلاح و ہدایت پا جاؤ گے۔“
    تو اے مخالفین! تو کیا امیر معاویہ ستاروں کے مانند نہیں؟ کیا ان کی پیروی سے ہدایت نہیں مل سکتی؟
  2. سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
    الله الله في أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوْهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ.
    ترجمہ: ”خدا سے ڈرو! خدا سے ڈرو! میرے اصحاب کے حق میں، انہیں نشانہ نہ بنا لینا میرے بعد، جو انہیں دوست رکھتا ہے میری محبت کی وجہ سے انہیں دوست رکھتا ہے۔ اور جو ان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو گرفتار کر لے۔“ [ترمذی: 101، بحوالہ دس اسلامی عقیدے]

اب آیاتِ مذکورہ اور احادیثِ شریفہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا غور کیجئے! اور سمجھنے کی سعی کیجیے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس ارشادِ عام سے اور جنابِ باری تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خارج فرما دیا؟ اور اے دشمنانِ امیر معاویہ! کیا تمہارے کان میں (رسول اللہ) نے کہہ دیا کہ ”اصحابی“ سے ہماری مراد اور آیت میں ضمیر ”ہم“ (کے مصداق) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا ہیں، جو تم ان کے دشمن ہو گئے؟ اور عیاذاً باللہ لعن و طعن سے یاد کرنے لگے۔ یہ نہ جانا کہ یہ دشمنی درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذا حق تبارک و تعالیٰ کی ایذا۔ جو ان میں سے کسی پر طعن کرتا ہے جنابِ باری تعالیٰ کے کمالِ حکمت و تمامِ قدرت یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی غایتِ محبوبیت و نہایتِ منزلت پر حرف رکھتا ہے۔ [دس اسلامی عقیدے، ملخصاً]

محترم قارئینِ کرام! معاملے کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ:

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: امام حسن اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح والی حدیثِ بخاری نقل کرکے فرماتے ہیں:

”وبہٖ ظھر ان الطعن علی الامیر معاویۃ طعن علی الامام المجتبی بل علی جدہٖ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم، بل علی ربہٖ عزوجل“

ترجمہ: ”اسی سے ظاہر ہو گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا درحقیقت امام مجتبیٰ پر طعن کرنا ہے، بلکہ یہ ان کے جدِ کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر طعن کرنا ہے، بلکہ یہ تو اللہ عزوجل پر طعن کرنا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی باگ ڈور کسی غلط آدمی کے ہاتھ میں دینا اسلام اور مسلمین کے ساتھ خیانت ہے اور اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غلط تھے، جیسا کہ طعن کرنے والے کہہ رہے ہیں، تو پھر اس خیانت کے مرتکب معاذ اللہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ ٹھہریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس خیانت پر رضا لازم آئے گی اور یہ وہ ہستی ہے جس کی شان میں ”وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى، اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی“ (سورہ نجم) وارد ہے۔ یہ جملے اس شخص کو فائدہ دیں گے جس کے لیے اللہ نے ہدایت کا ارادہ فرما لیا۔“ [المستند المعتمد مع المعتمد و المنتقد]

عزیز قارئینِ کرام! کلامِ سابق سے روزِ روشن سے بھی زیادہ فضیلتِ معاویہ واضح ہے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ بھی فضائلِ امیر معاویہ کے قائل ہو ہی گئے ہوں گے۔ لیکن ہاں! فضیلتِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھنے کے لیے عقلِ سلیم، فہمِ ثاقب اور قلبِ منصف کی اشد ضرورت ہے۔

شانِ امیر معاویہ پر چند اشعار

ہوا جو دشمن معاویہ کا، بنا وہ دشمن خدا، نبی کا
بتا دو سب کو اہم عقیدہ، رہے گا چرچہ معاویہ کا

خدا نے تجھ کو یہ شرف بخشا، بنایا کاتب تجھے نبی کا
وحی بھی لکھنا تھا کام تیرا، رہے گا چرچہ معاویہ کا

کیا ہے حسنیٰ کا رب نے وعدہ، یقیناً تجھ کو ملا یہ مژدہ
رضا کا مژدہ بھی تو نے پایا، رہے گا چرچہ معاویہ کا

کیا ہے اونچا خدا نے رتبہ، بڑھائے مولیٰ گھٹائے بندہ
ہوا، نہ ہوگا، کبھی بھی ایسا، رہے گا چرچہ معاویہ کا

ہوا ہے بائیس رجب تمہارا، یہی ہے یومِ وصال تیرا
مناتے سنی ہیں یوم تیرا، رہے گا چرچہ معاویہ کا

گر قبول افتد زہے عز و شرف

22 رجب المرجب 1447ھ | 11 جنوری 2026ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!