کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ویلنٹائن ڈے (Valentine's Day) کا پس منظر اور اس کے نقصانات

ویلنٹائن ڈے (Valentine's Day) کا پس منظر اور اس کے نقصانات
عنوان: ویلنٹائن ڈے (Valentine's Day) کا پس منظر اور اس کے نقصانات
تحریر: عالیہ فاطمہ انیسی

ویلنٹائن ڈے کا پس منظر:

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا، تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا۔ کسی نافرمانی کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا۔ پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہو گیا، یہاں تک کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنے مذہب کو چھوڑ کر پادری کا مذہب (نصرانیت) قبول کر لیا۔ اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی۔ بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا۔ جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کو پھانسی کا حکم دے دیا ہے، تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر تحریر تھا: ”مخلص ویلنٹائن کی طرف سے“۔ بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دے دی گئی۔ اس کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ”ویلنٹائن ڈے“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کی جڑیں عیسائی روایات اور غیر اسلامی ہیں۔ نہ صرف یہ ایک غیر مسلم رسم ہے بلکہ اس کا پس منظر بھی کسی دینی یا اخلاقی اصول پر مبنی نہیں، بلکہ ایک معاشرتی کہانی پر قائم ہے۔ اسلام میں کسی بھی ایسی رسم یا تہوار میں شرکت سے روکا گیا ہے جو اسلامی تعلیم سے متصادم ہو۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.“

ترجمہ: ”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔“ [سنن ابی داؤد]

اسلام محبت کے مخالف نہیں بلکہ اسلام میں محبت ایک مقدس جذبہ ہے، مگر اس کا دائرہ کار شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسلام میں جائز محبت وہ ہے جو نکاح کے بندھن میں ہو اور جو حیاداری اور پاکیزگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔ ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو آزادانہ میل جول، بے حیائی اور غیر شرعی تعلقات فروغ پاتے ہیں، وہ سراسر اسلامی تعلیم کے منافی اور حرام، حرام، حرام تعلقات ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس دن حرام تعلقات کو مزید بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی محبت کو جائز سمجھ کر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، جب کہ اسلام میں محبت اور تعلقات کی جائز صورت نکاح ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے بہانے نوجوان نسل مغربی طرزِ زندگی کو اپنا کر شرم و حیا کی تمام حدیں پار کر جاتی ہے۔ پارکوں، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لڑکے اور لڑکیاں بلا جھجک ملاقاتیں کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس موقع پر پارٹیاں منعقد کرتے ہیں جہاں شراب نوشی، رقص و سرود اور دیگر غیر شرعی سرگرمیاں عام ہوتی ہیں۔

اللہ کے رسول نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے بچو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر ان کے درمیان شیطان داخل ہو جاتا ہے اور (اگر کوئی شخص) مٹی یا سیاہ بدبودار کیچڑ میں لتھڑے ہوئے خنزیر سے ٹکرا جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کے کندھے ایسی عورت سے ٹکرائیں جو اس کے لیے حلال نہیں۔“ [الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ، کتاب النکاح]

اس کے علاوہ جو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اجنبی مرد اور عورت آپس میں تحائف کا لین دین کرتے ہیں، فقہائے کرام اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ”بحر الرائق“ میں ہے:

”مَا يَدْفَعُهُ الْمُتَعَاشِقَانِ رِشْوَةٌ يَجِبُ رَدُّهَا وَلَا تُمْلَكُ.“

ترجمہ: ”عاشق و معشوق (ناجائز محبت میں گرفتار) آپس میں ایک دوسرے کو جو تحائف دیتے ہیں وہ رشوت ہے، ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے۔“

غرض یہ کہ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ 14 فروری اور اس کے آس پاس کے دن یعنی پورا ہی ہفتہ جسے ”ویلنٹائن ویک“ (Valentine Week) کہا جاتا ہے اس میں جو خرافات محبت کے نام پر کی جاتی ہیں، وہ سراسر ناجائز اور حرام ہیں۔ ہر وہ شخص جو دینِ اسلام سے واقفیت رکھتا ہے، یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ ان کاموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایام بے حیائی، فحاشی، ناجائز تعلقات، نامحرم مرد و عورت کے اختلاط اور گناہ کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔

انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عطا کیے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہیں اور کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کر کے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بیہودگیوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں۔

لہٰذا پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے گزارش ہے کہ اس دن کی خرافات اور بے حیائی سے خود کو محفوظ رکھیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نافرمانی سے بچیں اور اپنی دینی، اخلاقی اور خاندانی اقدار کی حفاظت کریں۔ یاد رکھیں کہ حرام راستے کی محبت عارضی اور دھوکا ہے، جب کہ پاکیزہ اور حلال محبت نکاح کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 14 فروری کے آس پاس کے ایام میں نہ صرف اپنی بیٹیوں بلکہ اپنے بیٹوں پر بھی کڑی نظر رکھیں۔ بیٹیوں کو گھر سے باہر جانے سے روکیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں، کیوں کہ اس دن کئی معصوم لڑکیاں فریب اور دھوکے کا شکار ہو کر اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ صرف بیٹیوں کو قید کر دینا کافی نہیں، والدین کو اپنے بیٹوں کو بھی یہ نصیحت کرنی چاہیے کہ وہ کسی کی بیٹی اور بہن کی عزت کو تار تار نہ کریں۔ کسی کی عزت سے کھیلنا نہ صرف دنیا میں ذلت کا باعث ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت پکڑ کا سبب بنے گا۔ یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم اپنی نسل کو مغربی تہذیب کے ان جالوں سے بچائیں اور ان کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق گزاریں۔ اللہ ہم سب کو حرام کاموں سے محفوظ رکھے اور ہمیں پاکیزہ اور باعزت زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!