| عنوان: | تخریج حدیث: تعریف، اہمیت اور طریقہ کار |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تخریج کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو بات بغیر حوالے کے مذکور ہو، اس کی زیادہ اہمیت اور قدر باقی نہیں رہتی جب کہ یہی بات اگر مع حوالہ ذکر کی جائے تو لوگ جلدی قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ کتب جن میں تخریج نہیں ہے، حوالوں کا اہتمام نہیں ہے، اس کی بھی زیادہ قدر نہیں کی جاتی، اسے مقبولیت نہیں ملتی، لوگ اہمیت نہیں دیتے۔ جب کہ جس کتاب میں درست طریقۂ کار کے مطابق تخریج کا اہتمام ہو تو یہ اس کی قدر و قیمت اور اہمیت میں چار چاند لگا دیتا ہے۔
ذیل میں تخریج کی تعریف، اقسام اور طریقۂ کار ملاحظہ فرمائیں!
تخریج کی تعریف:
”عَزْوُ الْحَدِيثِ إِلَى مَصَادِرِهِ الْأَصْلِيَّةِ“
ویزید بعضہم: مَعَ بَيَانِ دَرَجَتِهِ عِنْدَ الْحَاجَةِ.
حدیث کی نسبت مصادرِ اصلیہ کی طرف کرنا۔ بعض علماء نے یہ بھی اضافہ کیا کہ: ضرورت کے وقت حدیث کا درجہ (حکم) بیان کرنا۔ [تخریج الحدیث للشایع، ص: 21]
مصادرِ اصلیہ:
وہ کتاب جس میں مصنف نے حدیث کو اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہو، جیسے کتبِ ستہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن ابنِ ماجہ، سنن نسائی) اور مسند احمد۔
اس کے مقابل کو مصدرِ فرعیہ کہا جاتا ہے، یعنی جس کتاب میں مصنف نے بغیر سند کے حدیث بیان کی ہو، جیسے ریاض الصالحین للنووی، الترغیب والترہیب للمنذری، جامع الاصول لابن اثیر، بلوغ المرام لابن حجر۔
تخریج کے معروف طریقے درج ذیل ہیں:
- راویِ اعلیٰ
- حدیث کا موضوع
- متنِ حدیث کا لفظ
- صفتِ حدیث
- مطلعِ حدیث (حدیث کے ابتدائی الفاظ)
تخریج کا پہلا معنی:
مصنف کا احادیث منتخب کرنا اور اسے اپنی سند سے روایت کرنا۔
متقدمین محدثین کے نزدیک تخریج کا یہی مقصد تھا، جیسے امام بخاری، امام مسلم اور اصحابِ سنن وغیرہ۔
-
امام محمد بن ابی حاتم وراق رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہونے والا ایک واقعہ بیان کیا، جس کے آخری الفاظ یہ تھے:
”وَأَتْعَبَ نَفْسَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ فِي كَثْرَةِ إِخْرَاجِ الْحَدِيثِ.“
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: آج کے دن میں نے کثرت سے حدیث کی تخریج کر کے اپنے آپ کو تھکا دیا۔ [سیر اعلام النبلاء، ج: 12، ص: 444] -
امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
”إِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ مُبْتَدِئُونَ فِي تَخْرِيجِ مَا سَأَلْتَ وَتَأْلِيفِهِ، عَلَى شَرِيطَةٍ سَوْفَ أَذْكُرُهَا لَكَ، وَهُوَ إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى جُمْلَةِ مَا أُسْنِدَ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَنَقْسِمُهَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ.“
ہم ان شاء اللہ الکریم تخریج کا کام شروع کریں گے، جس کے لکھنے کا آپ نے سوال کیا ہے، ان شرائط کے مطابق جو میں عنقریب ذکر کروں گا، اور وہ یہ ہے کہ ہم ان سب پر اعتماد کریں گے، نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف جو احادیث منسوب ہیں، اس کی میں تین قسمیں کروں گا۔ [صحیح مسلم، ج: 1، ص: 3]
محدثین کے تخریج کے مقاصد مختلف ہیں، جیسے مسانید، معاجم، صحاح، سنن وغیرہ۔
- بعض محدثین نے اسمائے صحابہ پر احادیث کو مرتب کیا، اسے ”مسند“ کہا گیا۔ بعض نے حروفِ معجم کی ترتیب پر کام کیا، اسے ”معجم“ سے تعبیر کیا گیا۔
- بعض محدثین نے صرف صحیح احادیث کو جمع کیا، اسے ”صحیح“ کہتے ہیں، جب کہ بعض نے سنن و احکام کی احادیث کو جمع کیا، اسے ”سنن“ کہا جاتا ہے۔
لیکن ان تمام محدثین نے احادیثِ مسندہ کو جمع کیا، یعنی احادیث کو اس کی مکمل سند کے ساتھ جمع کیا، جو مصنف سے شروع ہو کر آخر تک پہنچتی ہے۔
کتب:
- تخریج المصنفات الاصول: جیسے صحاح، سنن، مسانید، معاجم۔
- مستخرجات: جیسے مستخرج علی الصحیحین۔
- تخریج الاجزاء الحدیثیہ۔
تخریج کا دوسرا معنی:
حدیث کی مصادرِ اصلیہ کی طرف نسبت کرنا۔ متاخرین اور معاصرین محدثین کا تخریج سے یہی مقصود ہوتا ہے۔
امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول:
”عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ الزَّيْلَعِيُّ الْحَنَفِيُّ جَمَالُ الدِّينِ كَانَ يُرَافِقُهُ فِي مُطَالَعَةِ الْكُتُبِ الْحَدِيثِيَّةِ لِتَخْرِيجِ الْكُتُبِ الَّتِي كَانَا قَدْ اعْتَنَيَا بِتَخْرِيجِهَا فَالْعِرَاقِيُّ لِتَخْرِيجِ أَحَادِيثِ الْإِحْيَاءِ وَالْأَحَادِيثِ الَّتِي يُشِيرُ إِلَيْهَا التِّرْمِذِيُّ فِي الْأَبْوَابِ وَالزَّيْلَعِيُّ لِتَخْرِيجِ أَحَادِيثِ الْهِدَايَةِ وَتَخْرِيجِ أَحَادِيثِ الْكَشَّافِ فَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُعِينُ الْآخَرَ.“
امام جمال الدین زیلعی کتبِ حدیث کا مطالعہ کرنے میں (کتب کی تخریج کے لیے) امام زین الدین عراقی کے مشابہ تھے، ان دونوں حضرات نے تخریج پر خصوصی توجہ فرمائی، امام عراقی نے احادیثِ احیاء العلوم کی تخریج کی اور ان احادیث کی جن کی طرف ابواب میں امام ترمذی اشارہ کرتے ہیں۔ اور امام زیلعی (حنفی) نے احادیثِ ہدایہ اور کشاف کی تخریج کی۔ [الدرر الکامنہ فی اعیان المائۃ الثامنہ، ج: 3، ص: 95]
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ”جامعِ صغیر“ کے مقدمہ میں لکھا: ”بَالَغْتُ فِي تَحْرِيرِ التَّخْرِيجِ.“
علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی میں نے احادیث کی ان کے اصل مخرج (مصادر) کی طرف نسبت کرنے کی مکمل کوشش کی، جن کو ائمہِ حدیث نے جوامع، سنن اور مسانید میں ذکر کیا ہے۔
[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ج: 1، ص: 17]
تخریجِ حدیث پر اولین کتب:
- نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ: امام جمال الدین ابو محمد عبد اللہ بن یوسف زیلعی حنفی (م: 762ھ)۔
- البدر المنیر فی تخریج الاحادیث والآثار الواقعۃ فی الشرح الکبیر: امام ابو حفص عمر بن علی، ابن ملقن شافعی (م: 804ھ)۔
- التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث شرح الرافعی الکبیر: امام احمد بن علی بن محمد، ابن حجر عسقلانی شافعی (م: 852ھ)۔
- نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار: امام احمد بن علی بن محمد، ابن حجر عسقلانی شافعی (م: 852ھ)۔
- المغنی عن حمل الاسفار فی الاسفار فی تخریج ما فی الاحیاء: امام عبد الرحیم بن حسین عراقی شافعی (م: 806ھ)۔
تخریج کی اقسام:
تخریجِ احادیث کی تین اقسام ہیں:
- تخریجِ مطول
- تخریجِ متوسط
- تخریجِ مختصر
تخریجِ مطول:
اس تفصیلی تخریج میں حدیث کی مصادرِ اصلیہ کی نسبت کے ساتھ، درج ذیل چیزیں شامل ہوتی ہیں:
علم اور اسناد میں اختلاف کا بیان، الفاظِ متون کے درمیان موازنہ، حدیث پر لگائے گئے ائمہ محدثین کے احکام، شواہد و متابعات کا تتبع کر کے ان سب کو ذکر کرنا (تاکہ حدیث قوی ہو یا اس کی غرابت رفع ہو)۔ بعض علماء نے ان چیزوں کا اضافہ کیا کہ غریب الحدیث کا بیان ہو، اوہام پر تنبیہ، مشکل الحدیث کا ذکر اور اس کا جواب، ناسخ و منسوخ کی تفصیل۔
تفصیلی تخریج کے اسباب: حدیث متواتر ہے تو اس کا بیان کرنا، حدیث میں علت ہے تو اس کی وضاحت کرنا، حدیث کو تقویت دینا اور ضعف کو دفع کرنا۔
کتابیں: ”نصب الرایۃ“ للزیلعی، ”البدر المنیر“ لابن الملقن۔
تخریجِ متوسط:
یعنی صرف حدیث کی مصادرِ مشہورہ کی طرف نسبت کرنا، جیسے صحاحِ ستہ، مستزاد یہ کہ حدیث کا مدار اور حکمِ حدیث کے متعلق معتبر اقوال بیان کرنا، متونِ احادیث کے درمیان مقارنہ کر کے حدیث کی تقویت کے لیے شواہد ذکر کرنا۔
مثال:
حَدِيثٌ: ”الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِكَاءُ.“ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُعَاوِيَةَ. وَأَشَارَ الْبَيْهَقِيُّ إِلَى وَقْفِهِ عَلَيْهِ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَائِذٍ، وَادَّعَى ابْنُ الْقَطَّانِ جَهَالَتَهُ وَهُوَ غَلَطٌ، فَقَدْ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ بَلِ اخْتَلَفُوا فِي صُحْبَتِهِ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَحَسَّنَهُ ابْنُ الصَّلَاحِ وَالنَّوَوِيُّ وَالزَّكِيُّ، وَفِيهِ نَظَرٌ لِأَنَّهُ مُنْقَطِعٌ. قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلٌ، وَكَذَا قَالَهُ عَبْدُ الْحَقِّ وَابْنُ الْقَطَّانِ وَصَاحِبُ الْإِمَامِ، لَا جَرَمَ، قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي الِاسْتِذْكَارِ فِيهِمَا: ضَعِيفَانِ لَا حُجَّةَ فِيهِمَا مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ. وَأَمَّا ابْنُ السَّكَنِ فَذَكَرَهُمَا فِي سُنَنِهِ الصِّحَاحِ الْمَأْثُورَةِ.
تخریجِ متوسط کے اسباب: عام طور پر طلبہ اس تخریج کا کام کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی تحقیق، جیسے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں۔
کتابیں: ”خلاصۃ البدر المنیر“ لابن الملقن، ”التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر“ للحافظ ابن حجر۔
تخریجِ مختصر:
یعنی حدیث کی صرف دو یا تین مصادر کی طرف نسبت کرنا، اور ساتھ میں صحابی کا ذکر کرنا۔
مثال 1: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: ”لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ.“ قَالَ ابْنُ الْمُلَقِّنِ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مثال 2: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ”أَصَابَنَا مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ.“ قَالَ ابْنُ الْمُلَقِّنِ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْحَاكِمُ وَقَالَ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَخَالَفَ ابْنُ الْقَطَّانِ فَأَعَلَّهُ.
تخریجِ مختصر کا سبب: حدیث کہاں پر مذکور ہے اس بات کو بتانا۔
کتابیں: ”منہقیٰ خلاصۃ البدر المنیر“ لابن الملقن، ”تحفۃ المحتاج الیٰ ادلۃ المنہاج“ لابن الملقن۔
تخریجِ حدیث کے 5 طریقے:
راویِ اعلیٰ کے ذریعے تخریج:
راویِ اعلیٰ: وہ راوی جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حدیث روایت کرے۔ اس کی تین صورتیں ہوں گی:
-
وہ صحابی ہوں گے (اکثر ایسا ہی ہوتا ہے)۔
مثال: قَالَ الْإِمَامُ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: ”اللهم أَحِبَّهُمَا، فَإِنِّي أُحِبُّهُمَا.“
راویِ اعلیٰ: اسامہ بن زید صحابی۔ -
وہ تابعی ہوں گے (اسے حدیثِ مرسل کہتے ہیں)۔
مثال: قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي ”الْمَرَاسِيلِ“: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ”أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَمَرَ بِلَالًا عَامَ الْفَتْحِ، فَأَذَّنَ فَوْقَ الْكَعْبَةِ.“
راویِ اعلیٰ: عروہ بن زید تابعی، حدیثِ مرسل۔ - وہ تابعی کے علاوہ نیچے کے راوی ہوں گے (اسے حدیثِ معضل کہتے ہیں)۔
مذکورہ طریقے کے متعلق کتب:
جب راویِ اعلیٰ کے ذریعے تخریج کی جائے تو اس میں درج ذیل کتب معاون ثابت ہوں گی، جو راویِ اعلیٰ کے اعتبار سے لکھی جاتی ہیں:
- کتبِ مسانید
- کتبِ معاجم
- کتبِ اطراف
- کتبِ مؤلفہ علیٰ معرفۃ الصحابہ
تخریج کا دوسرا طریقہ: حدیث کا موضوع
اس طریقے کے لیے حدیث کا موضوع معلوم ہونا نہایت ضروری ہے، کیوں کہ حدیث کا موضوع ہی اس کی اساس ہے۔
حدیث کے موضوع کی تین اقسام ہیں:
- ظاہر: جس حدیث کا موضوع بالکل ظاہر ہو۔ جیسے: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: ”اللهم إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.“ اس حدیث کا معنیٰ ظاہر ہے، اور اس کو کتاب الطہارۃ، باب ما یقول عند دخول الخلاء میں تلاش کیا جائے گا۔
- متعدد: جس حدیث کا موضوع متعدد ہو اور وہ کئی مقامات پر مذکور ہو۔ جیسے: ”هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.“ یہ حدیث کتاب الطہارۃ میں بھی مذکور ہوگی اور کتاب الاطعمہ میں بھی۔
- غیر ظاہر: جس حدیث کا موضوع واضح نہ ہو، جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بعض وہ احادیث ذکر کرتے ہیں جو ان کی شرط پر صحیح نہیں ہوتی، جب کہ اس سے کسی معنیٰ کا افادہ ہوتا ہے، تو ذکر کر دیتے ہیں۔
مثال: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي ”سُنَنِ النَّسَائِي“: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ! مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: ”اللهم بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ! اللهم نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ! اللهم اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ!.“
أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، بَابُ الْوُضُوءِ بِالثَّلْجِ، مَعَ أَنَّ مَوْضُوعَهُ الظَّاهِرَ الْمُتَبَادِرَ: كِتَابُ الصَّلَاةِ، بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ.
حدیث کے غریب الفاظ کے ذریعے تخریج:
تعریف: اس طریقے سے تخریجِ حدیث اس صورت کے ساتھ خاص ہے کہ حدیث میں کم استعمال ہونے والے غریب الفاظ کے ذریعے تخریج کی جائے۔
حدیث: ”صِغَارُكُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ.“
اس میں غریب لفظ ”دعامیص“ ہے، جو نہایت قلیل الاستعمال ہے۔ ”کتاب المعجم المفہرس“ میں لفظ ”دعم“ کے تحت یہ لفظ موجود ہے۔ لیکن لفظ جنت کثیر الورود لفظ ہے، اس لیے اس لفظ کے ذریعے تخریج کافی دشوار ہے۔ غریب الفاظ ہونے کی صورت میں اس طرح تخریج کرنا آسان ہے۔
ایک حدیث کی مختلف الفاظ کے ذریعے بھی تخریج کی جا سکتی ہے، جیسے: ”كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ.“
اس حدیث کی تخریج اس میں موجود تین الفاظ کے ذریعے کی جا سکتی ہے: ”ذنب“، ”کفر“ اور ”ندم“۔
کتب:
درج ذیل کتب سے معاونت لیتے ہوئے حدیث کی تخریج کی جائے گی۔ ان کتب کا منہج یہ ہے کہ مصنفین نے ان کو مسانید کی ترتیب پر جمع کیا ہے۔ پہلے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مسند، پھر صحابہ کرام، پھر تابعین۔
- غریب الحدیث: لابی عبید القاسم بن سلام۔
- غریب الحدیث: لابی محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ۔
- غریب الحدیث: لابی اسحاق ابراہیم بن اسحاق الحربی۔
- غریب الحدیث: لابی سلیمان حمد بن محمد الخطابی۔
اس طریقے سے تخریج میں مستشرق فِنسنِک کی کتاب ”المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی“ سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے مصادرِ اصلیہ تک رسائی کافی آسان ہے، پھر حوالہ انہیں مصادر کا درج کیا جائے گا۔
مطلعِ حدیث کے ذریعے تخریج:
تعریف: اول حدیث، یا مطلع حدیث، حدیث میں موجود ابتدائی کلام کو کہتے ہیں۔
مثال: ”صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.“
طرف حدیث: ”صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ.“
اس کے ذریعے حدیث تلاش کرنا کافی آسان ہو جاتا ہے، کیوں کہ اطراف کی فہرست بکثرت موجود ہے، اسی طرح احادیث کی کتابوں میں بھی فہرسِ اطراف مرتب کی جاتی ہے۔ بعض اوقات تعددِ روایات کے سبب حدیث کے ابتدائی کلمات میں فرق ہوتا ہے تو اس وقت تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
وصفِ حدیث کے ذریعے تخریج:
تعریف: اسناد یا حدیث کے وصف کے ذریعے حدیث کی تخریج کرنا۔
پہلی قسم: وصفِ اسناد
اس میں علم مصطلح الحدیث کی پہچان ہونا ضروری ہے، جن کا تعلق صفاتِ اسناد سے ہے۔ یاد رہے! اسناد کے اوصاف متعدد ہوتے ہیں۔
صفات اور اس میں معاون کتب کے نام دیکھیے!
- سند معلول ہو (کتبِ علل)
- سند غریب ہو (کتبِ غرائب و افراد)
- سند مرسل ہو (کتبِ مراسیل)
- سند عالی ہو (کتبِ ثلاثیات)
- سند مسلسل ہو (کتبِ احادیثِ مسلسل)
- سند روایۃ الاقران والمدبج ہو (کتبِ روایۃ الاقران، کتبِ مدبج)
- سند رویٰ عن ابیہ عن جدہ کی صورت پر ہو (کتبِ رویٰ عن ابیہ عن جدہ)
- سند روایۃ الاکابر عن الاصاغر سے ہو (کتبِ الاکابر عن الاصاغر)
- سند میں مہمل یا مبہم راوی ہو (کتبِ تقیید المہمل، کتبِ مبہمات)
دوسری قسم: وصفِ حدیث
اس میں علم مصطلح الحدیث کی پہچان ہونا ضروری ہے، جن کا تعلق صفاتِ متن سے ہے۔ یاد رہے! متنِ حدیث کے اوصاف متعدد ہوتے ہیں۔ اس طریقے میں معاون کتبِ احادیث:
- احادیثِ قدسیہ (کتبِ احادیث قدسیہ)
- احادیثِ متواترہ (کتبِ احادیث متواترہ)
- احادیثِ مشتہرہ (مشہورہ) (کتبِ احادیث مشتہرہ)
- احادیث متعارضہ ظاہراً (کتبِ مختلف الحدیث)
- احادیث جن کے الفاظ غریب ہوں (کتبِ غریب الحدیث)
- احادیثِ منسوخہ (کتبِ ناسخ و منسوخ)
- احادیثِ موضوعہ (کتبِ موضوعات)
نوٹ: مذکورہ تمام موضوعات پر کتابوں اور مصنفین کے نام جاننے کے لیے راقم الحروف کی کتاب ”نصابِ علمِ رجالِ حدیث“ کا مطالعہ فرمائیں! اس کتاب کو سنی پبلیکیشنز دہلی نے شائع کیا ہے۔
علمِ تخریج کے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے راقم کی کتاب ”نصابِ علمِ تخریجِ حدیث“ (مطبوعہ: سنی پبلیکیشنز دہلی) کا مطالعہ فرمائیں۔
