Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اسے پردے کا ذکر کرنے والوں سے بھی نفرت تھی!

اسے پردے کا ذکر کرنے والوں سے بھی نفرت تھی
عنوان: اسے پردے کا ذکر کرنے والوں سے بھی نفرت تھی
تحریر: محمد شعبان وارثی، کشن گنج، بہار
پیش کش: دی امان فاؤنڈیشن

پردہ اسلام کی ایک اہم تعلیم ہے جو حیا، وقار اور عزتِ نفس کی علامت ہے۔ پردے کا مقصد عورت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے عزت اور تحفظ دینا اور باوقار بنانا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا

ترجمہ کنز العرفان: ”اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر ڈالے رکھیں، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ [الاحزاب: 59]

ایک ایسی لڑکی جسے نقاب کے نام سے، بلکہ اس کا ذکر کرنے والے سے بھی نفرت ہوتی تھی۔ نقاب کرنے کے بارے میں اتنا منفی تصور تھا کہ جیسے ذہن میں کوئی قید ہے۔ یہ سوچتی تھی کہ شاید میرا کانفیڈنس نقاب کرنے سے کم ہو جائے گا۔ لیکن ایک ایسی چیز جو اس لڑکی کے لیے اہم ترین تھی، وہ یہ کہ اس کو ہدایت پانے کا شوق تھا۔ اُس لڑکی کو یہ بات معلوم تھی کہ ایک دن ضرور اجالے کی روشنی ظاہر ہوگی۔ دل چاہتا تھا کہ میں ہدایت پاؤں، آج بھی اُس روشنی کے ظاہر ہونے کی منتظر کھڑی تھی۔

اس لڑکی کو کتابوں سے محبت تھی۔ اسکول میں پانچویں کلاس میں تھی، دو بھائیوں کی اکلوتی بہن مگر چڑچڑی سی۔ کبھی کوئی دوست نہ بناتی، بس ہمیشہ کتابوں میں کھوئی رہتی۔ بڑے بھائی نے اکثر سختی سے کہا کہ نقاب کرو، بے حیا ہو، بے باک ہو، وغیرہ وغیرہ، مگر اس کو ضد تھی کہ نہیں، یہ کام نہیں کرنا مجھے۔ اسکارف بچپن سے باندھتی تھی، کبھی کسی نے بال نہ دیکھے تھے، مگر نقاب پر غصہ تھا۔ کہتی تھی کہ بھائی کے رعب میں نہ آؤں گی۔

اسی ضد و انا میں وہ نویں کلاس میں آ پہنچی۔ ایک کتاب جو اُن دنوں زیرِ مطالعہ تھی، اُس کتاب میں ایک ایسی کہانی تھی جو دل کو دہلا دینے والی تھی: ایک نوجوان لڑکی جو پردہ نہ کرتی تھی اور خوبصورت تھی، وہ اغوا ہو گئی صرف اپنے حسن و جمال کے دکھاوے کی بدولت، کیونکہ اس نے اپنی خوبصورتی کو دنیا پر عیاں کر دیا تھا۔ ہیرا جب سڑک پر کھلا پڑا ہوگا تو کیا لگتا ہے وہ بچ جائے گا؟ مٹھائی بغیر ڈھکے رکھیں گے تو کیڑے مکوڑے اس کو چھوڑ دیں گے؟ جانتے ہیں، اس لڑکی کے جسم کو جلا دیا گیا۔ پھر اس کہانی میں پردے کی ترغیب دلائی گئی۔

اس لڑکی نے اپنی مرضی سے کہانی کو پڑھا تھا، مگر وہ کہانی اسے ڈرا رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ اب سے نقاب کروں گی۔ اس نے کوشش کی کہ کر لیا کروں، مگر بھائی اور اُن کے تلخ لہجے کی وجہ سے وہ ایک بار پھر انا کی لپیٹ میں آ گئی۔

وہ میٹرک میں تھی۔ اس نے وہ کہانی دوبارہ پڑھی، نجانے کیوں پڑھی، بس پڑھی۔ پھر اس کے سامنے اس کی کلاس فیلو کے ساتھ ایک ایسا ہی واقعہ ہوا، بے پردگی کی وجہ سے۔ وہ کلاس فیلو اغوا تو نہیں ہوئی، مگر اس کو ایک بد اخلاق انسان تنگ کرتا تھا۔ وہ خوف زدہ ہو کر اسکول چھوڑ دینے کا فیصلہ کر بیٹھی، مگر اس کو اس کی ایک ٹیچر نے کہا:

”شہزادی! پردہ تمہاری حفاظت ہے، قید نہیں؛ وقار ہے، دشمن نہیں۔ اپنا لو۔“

اور اس نے پردے کی حقیقت کو جاننا شروع کر دیا۔ اس نے قرآنِ مجید میں سورۂ نور پڑھنے کی کوشش کی، مگر خود سے نہ پڑھ سکی۔ اس نے صرف اسی وجہ سے میٹرک کے فوراً بعد درسِ نظامی میں ایڈمشن لیا۔ اتفاق سے اس سفر میں پردے کی حقیقت تلاش کرنے کی وجہ سے اسے قرآنی آیات سے بے پناہ محبت ہو گئی، اور پھر زہے نصیب، پہلے ہی درجے میں سورۂ نور کی تفسیر پڑھائی گئی۔ پس قرآن کی محبت لے کر جب پڑھا تو اسے ہدایت مل گئی۔

وہ لڑکی گھر آکر والدہ سے کہنے لگی: ”ماں! مجھے مدنی برقع سلوا کر دیں، تاکہ میں شرعی پردہ کروں۔ اب سے کوئی کزن بھی مجھے بے پردہ نہ دیکھے گا۔“ ماں نے کہا کہ وہ مدنی برقع کی اجازت نہ دیں گی۔ آہ! وہ درد۔ وہ لڑکی بہت روئی۔ تین ماہ یہ عرضی کرتی رہی۔ اساتذہ کرام سے کہا کہ وہ والدین سے کہیں، مگر بس نقاب سے زیادہ کی اجازت نہ ملی۔ پھر اس نے اپنی انا پر پاؤں رکھا۔ بھائی سے درخواست کی کہ وہ کہیں کہ اس کو مدنی برقع کی اجازت دے دی جائے۔ اور یہ انا پر پاؤں رکھنا، آج اس کو شرعی پردہ کرنے والا بنا گیا۔ اس کو مرشد کی مدنی بیٹی بنا گیا۔

سمجھ نہیں آتا کہ کیسے دل بدل جاتے ہیں، مگر سچ میں بہت خوشی ہے کہ میں مزید گمراہ انا پرستی میں نہ رہی۔ الحمد للہ! ہدایت کی راہ پر گامزن ہوں مرشدِ کریم کی نظر سے۔ آج بھائی بھی راضی ہیں اور ماں بابا بھی۔ الحمد للہ! اب وہ لڑکی درسِ نظامی کے تیسرے سال میں ہے۔

پردہ کرنے کے 4 دینی فوائد:

  1. پردہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
  2. پردہ ایمان کی علامت، اسلام کا شعار اور مسلمان خواتین کی پہچان ہے۔
  3. پردہ شرم و حیا کی علامت ہے اور حیا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔
  4. پردہ عورت کو شیطان کے شر سے محفوظ بنا دیتا ہے۔

پردہ کرنے کے 4 دنیوی فوائد:

  1. باحیا اور پردہ دار عورت کو اسلامی معاشرے میں بہت عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
  2. پردہ عورت کو بری نظر اور فتنے سے محفوظ رکھتا ہے اور برائی کے راستے کو روکتا ہے۔
  3. عورت کے پردے سے معاشرے میں بگاڑ پیدا نہیں ہوتا اور معاشرے میں امن و سکون رہتا ہے۔
  4. پردہ عورت کے وقار میں اضافہ کرتا ہے اور اس کی خوبصورتی کی حفاظت کرتا ہے۔

[تفسیر صراط الجنان، ص: 624]

پردے کی ضرورت و اہمیت سے متعلق ایک مثال:

یہاں پردے کی ضرورت اور اہمیت کو آسانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے ایک مثال ملاحظہ ہو، چنانچہ وہ مثال یہ ہے کہ اگر ایک پلیٹ میں مٹھائی رکھ دی جائے اور اسے کسی چیز سے ڈھانپ دیا جائے تو وہ مکھیوں کے بیٹھنے سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اگر اسے ڈھانپا نہ جائے، پھر اس پر مکھیاں بیٹھ جائیں تو یہ شکایت کرنا کہ اس پر مکھیاں کیوں بیٹھ گئیں، بہت بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ مٹھائی ایسی چیز ہے جسے مکھیوں کے تصرف سے بچانے کے لیے اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے ورنہ انہیں مٹھائی پر بیٹھنے سے روکنا بڑا مشکل ہے۔

اسی طرح اگر عورت جو کہ چھپانے کی چیز ہے، اسے پردے میں رکھا جائے تو وہ بہت سے معاشرتی مسائل سے بچ سکتی ہے اور عزت و ناموس کے لٹیروں سے اپنی حفاظت کر سکتی ہے اور جب اسے پردے کے بغیر رکھا جائے تو اس کے بعد یہ شکایت کرنا کہاں کی عقلمندی ہے کہ لوگ عورت کو تانک جھانک کرتے ہیں، اسے چھیڑتے ہیں اور اس کے ساتھ دست درازی کرتے ہیں کیونکہ جب اسے بے پردہ کر دیا تو غیر مردوں کی فتنہ باز نظریں اس کی طرف ضرور اٹھیں گی، ان کے لیے عورت کے جسم سے لطف اندوز ہونا اور اس میں تصرف کرنا آسان ہوگا اور شریر لوگوں سے اپنے جسم کو بچانا عورت کے لیے انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ فطری طور پر مردوں میں عورتوں کے لیے رغبت رکھی گئی ہے اور جب وہ بے پردہ عورت کا جسم دیکھتا ہے تو وہ اپنی شہوت و رغبت کو پورا کرنے کے لیے اس کی طرف لپکتا ہے۔ [تفسیر صراط الجنان، ص: 624 تا 625]

پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے:

موجودہ دور میں میڈیا کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے لوگوں کا یہ ذہن بنانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کہ عورت بھی ایک انسان ہے اور آزادی اس کا بھی حق ہے اور اسے پردہ کروانا اس کی آزادی اور روشن خیالی کے برخلاف ہے اور یہ ایک طرح کی جبری قید ہے حالانکہ پردہ تو عورت کی آزادی کا ضامن ہے، پردہ اس کی عزت و ناموس کا محافظ ہے، اسی میں عورت کی عزت اور اس کا وقار ہے۔

آج ہر عقلمند انسان انصاف کی نظر سے یہ دیکھ سکتا ہے کہ جن ممالک میں عورت کے پردے کو اس کے انسانی حق اور آزادی کے خلاف قرار دے کر اس کی بے پردگی کو رواج دیا گیا، ایسے ذرائع اور حالات پیدا کیے گئے جن سے عورتوں اور مردوں کا باہم اختلاط رہے اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ میل جول ہوتا رہے اور قانونی طور پر عورت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جب اور جس مرد کے ساتھ چاہے اپنا وقت گزارے اور اپنی فطری خواہشات کو پورا کرے تو وہاں کا حال کیسا عبرت ناک ہے کہ ان کا معاشرہ بگڑ گیا اور خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا، شادیوں کی ناکامی، طلاقوں کی تعداد اور حرامی بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہو گیا اور یہ سب تباہی عورت کو بے پردہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔ [تفسیر صراط الجنان، ص: 625]

اللہ پاک ہمیں سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پردے کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!