کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

کیا ہے باپ؟

کیا ہے باپ؟
عنوان: کیا ہے باپ؟
تحریر: مفتی سجاد علی خان رضوی مصباحی، (ساز بلرام پوری) پرنسپل الجامعۃ الاسماعیلیہ، مسولی شریف، ضلع بارہ بنکی

کیا ہے باپ؟ گیلی مٹی سے بنا ہوا ایک مجسمہ ہی تو ہے۔ دو پیروں پر چلنے والا فنا ہو جانے والا ایک جاندار ہی تو ہے۔ ہڈی، کھال، بال، اور گوشت کا مجموعہ و مرکب ہی تو ہے۔ کھاتا پیتا ہے، سوتا جاگتا ہے، چلتا پھرتا ہے اور بغیر تھکے ہوئے کام کرنے والی ایک مشین ہی تو ہے۔

ہاں کبھی زیادہ تھک کر کے بیمار پڑ جاتا ہے، ڈھلتی ہوئی عمر کے ساتھ بوڑھا ہو جاتا ہے، لاغری کی وجہ سے اعضاء و جوارح کام سے عاجز ہو جاتے ہیں، کبرِ سنی کے سبب بینائی کمزور پڑ جاتی ہے، یادداشت میں کمی آ جاتی ہے، مزاج میں چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔

ارے! تو کیا ہوا؟ ہے تو انسان ہی۔ ایک عام سا انسان!

مگر گھر میں رہنے والوں کو اس کی تکالیف کا کیا علم؟ اس کی ذلت و رسوائی کی کیا پرواہ؟ اس کی تھکن، اس کی قوتِ برداشت، اس کے تحمل و بردباری کا کیا احساس؟

موسمِ سرما کی ٹھٹھرتی صبح ہے۔ چاروں طرف کہرے کا اندھکار ہے۔ شبنم کی ٹپ ٹپ گرتی بوندیں ہیں۔ لوگ بسترِ استراحت پر آرام فرما ہیں۔ باپ ہے، دبے پاؤں اٹھتا ہے کہ کہیں کسی کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے۔ تیار ہوتا ہے، روکھا سوکھا کھاتا ہے، سائیکل یا موٹر سائیکل لیتا ہے اور کبھی بسوں میں دھکے کھاتا ہوا میدانِ عمل میں پہنچ جاتا ہے۔

کسان ہے تو ہل بیل لے کر برفیلی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے کھیت میں پہنچ جاتا ہے اور اس آس پر محنت میں جٹا رہتا ہے کہ ابھی گھر سے دانہ پانی آئے گا اور خوب شکم سیر ہو کر پھر سے کام میں لگ جاؤں گا۔ دن چڑھے تک ہل چلاتا ہے یا فصل کی سنچائی کرتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو تھکا ہارا گھر واپس آتا ہے اور اپنے بچوں کی صورت دیکھ کر سکون کی نیند سو جاتا ہے۔

مزدور ہے تو صبح اٹھتے ہی کام کی تلاش میں نکل جاتا ہے، لیبر اڈوں پر خاک چھانتا ہے۔ کام ملا تو ٹھیک، نہیں ملا تو راستے کی خاک چھانتا ہوا واپس آ جاتا ہے۔ مگر کبھی گھر فون کر کے یہ نہیں بتاتا کہ آج کام نہیں ملا، آج دہاڑی نہیں ملی۔

پردیسی ہے تو اپنے سینے پر بال بچوں کی فرقت کا پہاڑ رکھ کر گھر سے رخصت ہوتا ہے، غیروں کے درمیان رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ سفر میں اس پر کیا گزرتی ہے، گھر والوں کو کیا معلوم؟ گھر سے نکلتا ہے، واپس گھر آئے گا یا وہیں رہ جائے گا یہ بھی نہیں معلوم۔ پردیس میں کون اس کا ساتھ دیتا ہے؟ کیا کھاتا ہے؟ کیا پیتا ہے؟ کب سوتا ہے کب جاگتا ہے؟ بیمار ہوتا ہے تو تیمارداری کون کرتا ہے؟ تنہائی میں ایک کمرہ ہے جس میں وہ صبح کرتا ہے شام کرتا ہے، بس اس آس پہ کہ سال دو سال گزر جائیں اور چند پیسے اکٹھے کر کے وطن واپس چلا جاؤں۔ وہ بارہا یہی کہتا ہے کہ اب پردیس واپس نہیں آؤں گا مگر بال بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بیڑی بن کر اس کے پیروں میں بندھ جاتی ہے اور پھر اسے گھسیٹتے ہوئے لے جاتی ہے اور دو سال کے لیے دوبارہ بال بچوں سے جدا کر دیتی ہے۔

ملازم ہے تو مالک کے سامنے جی حضوری کرتا ہے، اپنے کام میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کبھی جھڑکیاں کھاتا ہے، کبھی ڈانٹ ڈپٹ سہتا ہے، کبھی گالیاں سنتا ہے، کبھی ادنیٰ بے توجہی کی وجہ سے نکال دیے جانے کی دھمکیاں سنتا ہے، اجانب و اقارب کے سامنے ذلت و رسوائی کا بار اٹھاتا ہے۔

یہ سب کیوں برداشت کرتا ہے؟

اس کا صرف ایک جواب ہے تاکہ وہ اپنے بال بچوں اور اپنے پریوار کا پالن پوسن کر سکے، اپنے بچوں کا شوق پورا کر سکے، اپنے بچوں کو اپنے سے اچھی شخصیت کا مالک بنا سکے، اپنی شریکِ حیات کی آنکھوں میں دکھ کے آنسوؤں کے بجائے خوشی کے آنسو دیکھ سکے، بوڑھے ماں باپ کی حتی الوسع خدمت کر سکے، بھائی بہنوں کی دلجوئی کر سکے اور احباب و اقارب میں اپنے بچوں کا سر فخر سے بلند کر سکے۔

اور جب یہی باپ اپنے گھر میں ہی ذلت و رسوائی کی چکی میں پسنے لگے تو پھر موت کی تمنا کرنے لگ جاتا ہے۔

جب باپ بنے تو پتہ چلا کہ باپ نے باپ ہونے کا حق کتنی مشقت سے ادا کیا ہوگا۔

اسی لیے تو حدیثِ پاک میں باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے، لہٰذا باپ کو کبھی اذیت مت دینا ورنہ وہ اذیت تمہیں بھی ایک دن اٹھانی پڑے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!