| عنوان: | اپنی صلاحیتیں بہتر کریں اور آگے بڑھیں! |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں الگ الگ صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ کسی کو فقید المثال عقل عطا کی، کسی کو بے مثال فہم عنایت کی، کسی کو لاجواب علم سے نوازا، کسی کو لیڈر شپ جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند کیا، کسی کو نیکی کی دعوت جیسی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا۔ الغرض اللہ پاک نے ہر انسان کو فطری طور پر مختلف الکیفیت، مختلف النوع، مختلف الجہت اور مختلف الاقسام صلاحیتیں عطا کر رکھی ہیں۔ نیز کچھ صلاحیتیں انسان کو اپنی کوشش و سعی سے اللہ پاک کی توفیق سے نصیب ہوتی ہیں۔
اب صد کروڑ افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنی صلاحیت کا اپنے ہی ہاتھوں سے گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ذیل میں چند ایسے بنیادی امور نوکِ قلم کیے جاتے ہیں جن کو پیشِ نظر رکھ کر نہ محض صلاحیتیں اچھی ہوتی ہیں، بلکہ اس سے صلاحیت میں ثبات و دوام اور استقامت و استمرار بھی نصیب ہو جایا کرتی ہے۔ نیز انہیں چیزوں سے صلاحیتوں میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
-
تکاسل و سستی کو دور کریں!
اپنی صلاحیت کو اوجِ ثریا بلکہ اس سے بھی آگے پہنچانے کے لیے سب سے اہم اور ضروری امر یہ ہے اپنی ڈکشنری سے سستی کو دور کر دیں۔ آج کا کام کل پر ہرگز نہ ڈالیں۔ کل کوئی اور کام ہوگا۔ آج معاشرے کے اکثر افراد تکاسل و سستی کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں موجود صلاحیت پانی کی طرح بہہ کر غائب ہو جاتی ہے۔ -
اپنے وقت کی قدر کریں!
اپنے اندر موجود صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے وقت کی پابندی از حد ضروری ہے۔ جو وقت کی قدر نہیں کرتا وہ اپنی صلاحیت کو بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ -
مطالعہ کریں اور کچھ نہ کچھ کرتے رہیں!
یاد رکھیں کہ صلاحیت میں اضافے اور ثبات و دوام کے لیے کچھ نہ کچھ مفید کتب کا مطالعہ کرنا اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ سیکھنا بھی لازمی چیز ہے۔ -
موبائل کا بے جا استعمال نہ کریں!
عصرِ حاضر میں بالعموم ہر طبقے کے افراد کے لیے اور بالخصوص طالبانِ علومِ نبویہ کے لیے موبائل کا غیر ضروری اور بے جا استعمال سمِ قاتل اور زہرِ موذی ہے۔ نہ جانے کتنے طلبہ کرام فقط موبائل کی وجہ سے اپنی تعلیم کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ -
اپنی زندگی کا ہدف متعین کریں!
زندگی میں اپنے مقصد اور ہدف متعین کرنا صلاحیت میں اضافے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ کیوں کہ جس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ظاہر میں زندہ جب کہ باطن میں مردہ۔ صلاحیت میں اضافہ اور استمرار کے لیے مقصد کا طے ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ جب راستہ طے نہ ہو کہ جانا کہاں ہے؟ تو بھلا مسافر کہاں تک جائے گا؟ بھٹکتا ہی رہ جائے گا۔
-
بری صحبت سے اجتناب کریں!
کیوں کہ ”یارِ بد بدتر از مارِ بد“ کہ برا ساتھی برے سانپ سے بھی برا ہے۔ مزید برآں سمجھنے کے لیے یہی مقولہ کافی ہے:
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
اچھوں کی صحبت تمہیں اچھا بنا دے گی اور بروں کی صحبت تمہیں برا بنا دے گی۔ مرضی آپ کی، کدھر جانا ہے؟
-
اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں!
صلاحیت میں اضافے اور دوام کے لیے اپنے آپ پر اعتماد ضروری ہے کہ ”میں کر سکتا ہوں“، ”میں کر لوں گا“۔ یہ نہ سوچیں کہ فلاں تو مجھ سے کتنا اچھا ہے، فلاں تو کمال کا بندہ ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا وغیرہ۔ منفی پہلو اپنے اندر سے نکال دیں۔ -
خود کو گناہوں سے دور رکھیں!
دیکھا یہی جاتا ہے کہ جو بھی گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بتدریج کھو دیتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ کام جو اللہ پاک اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نافرمانی اور ناراضگی کا باعث بنے، اس سے ہمیشہ راہِ فرار اختیار کریں۔ اسی میں صلاحیتوں کی اصل بقا ہے۔ -
اپنے علم پر عمل بھی کریں!
بالیقین وہی بندہ اپنی صلاحیتوں میں چار چاند لگانے میں فلاح پاتا ہے جو اپنے علم پر عمل بھی کرے۔ ورنہ علم بغیر عمل ایسا ہے جیسا کہ بے پھل درخت۔ -
کبھی بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں!
ادب نہیں تو گویا کچھ بھی نہیں۔ بے ادب علم نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا جس جگہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جس کتاب سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان سب کا ادب بے حد ضروری ہے۔ -
اپنے اندر شوق بھی پیدا کریں!
واقعی مشاہدے میں یہی دیکھا گیا ہے کہ شوق انسان سے وہ چیزیں بھی کروا لیتا ہے جو عام طور پر انسان نہیں کر سکتا۔ شوق، جذبہ اور لگن ہو تو بندہ سمندر کا پانی بھی ہاتھوں سے ہی سکھا دے اور یہ نہ ہو تو پھر ایک جگ کا پانی بھی بہا نہ سکے۔ -
لغو و فضول کاموں سے دوری اختیار کریں!
ہر وہ کام جس سے نہ دین کا فائدہ ہو اور نہ دنیا کا، ایسے کاموں کو چھوڑ دیں۔ ایک حدیثِ پاک کا مضمون ہے کہ آدمی کے اسلام کی اچھائیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لا یعنی اور فضول چیزوں کو ترک کر دے۔ لہٰذا صلاحیت میں اضافے اور دوام کے لیے فضول و لا یعنی چیزوں سے اجتناب و دوری ضروری ہے۔
مذکورہ تمام چیزیں اگرچہ آسان اور معمولی سی ہی معلوم ہوتی ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قریباً انہیں 12 چیزوں میں اپنی صلاحیتوں میں استمرار و دوام، اضافہ اور ترقی کے اسرار و رموز پوشیدہ ہیں۔
محترم قارئینِ کرام!
خدارا یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو جن جن صلاحیتوں سے نوازا ہے اس کی آج ہی قدر کر لیں! کہیں ایسا نہ ہو، سارا سفر بیکار ہو جائے۔ اپنی صلاحیتوں کو یونہی بیکار برباد نہ کریں، کہ جو خدا ان نعمتوں کو عطا کرنے پر قادر ہے وہی رب ان نعمتوں کو فنا کرنے پر بھی مختار ہے۔ اور اگر آپ اپنی صلاحیت کی فنا چاہتے ہیں تو میں یہی مشورہ دوں گا کہ ماقبل ذکر کردہ چیزوں کا الٹ کرنا شروع کر دیں، یقیناً بربادی آپ کا مقدر ہوگی۔ ویسے ”عقلمند را اشارہ کافی است“۔ فافہم!
نوٹ: اب آپ کی مرضی، کیا کرنا ہے اور کیا نہیں! کدھر جانا ہے اور کدھر نہیں!
اللہ پاک ہمیں اپنی صلاحیتوں کی حفاظت کرنے اور اس میں روز افزوں کرنے کی سعادت بخشے۔ اسے خدمتِ دین، تحصیلِ علم اور دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
4 رجب المرجب 1447ھ
26 دسمبر 2025ء
