| عنوان: | اسٹیج یا القابات کی دکان |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
آج کا دور بے حد نازک اور فتنوں سے بھرپور ہے۔ ایسے حالات میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سنبھل کر رکھے، ہر لفظ سوچ کر ادا کرے، اور ہر بیان پوری ذمہ داری کے ساتھ کرے۔ کیا کہنا ہے، کیا نہیں کہنا؛ کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے—یہ سب امور اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ انسان کبھی ایک بے احتیاط جملہ کہہ دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کا سبب بن جاتا ہے، اور کبھی ایک خلوص بھرا پاکیزہ لفظ اس کے لیے رب کی دائمی رضا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں افسوس کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج کل اہلِ سنت و جماعت کے اسٹیجوں پر بعض نقیب حضرات نقابت کے دوران مبالغہ آمیز القابات استعمال کرتے ہیں—ایسے الفاظ جن کے لائق بسا اوقات سامنے والا انسان ہوتا ہی نہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ بعض اوقات ایمان و عقیدے کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
مبالغہ آمیز القابات اور ان کی حقیقت
اہلِ سنت و جماعت کے اسٹیجوں پر بعض نقیب حضرات مبالغہ اور خوشامد کے جوش میں ایسے ایسے خطابات تقسیم کرتے ہیں جنہیں سن کر حیرت ہوتی ہے۔ ان القابات کی عظمت، ان کے معنوی بوجھ اور ان کی شرعی حیثیت کا نہ انہیں شعور ہوتا ہے نہ پاس۔ بس جوشِ تقریر میں جسے چاہا، جو چاہا کہہ دیا—چاہے وہ شخص حقیقت میں اس منصب سے کوسوں دور کیوں نہ ہو۔ چند عام مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
- مجدد، غوث یا اعلیٰ حضرت: کسی کو "مجددِ ملتِ حاضرہ" کہا جاتا ہے، کسی کو "غوثِ اعظم" جیسے بلند منصب سے نواز دیا جاتا ہے، کسی کو "اعلیٰ حضرت" اور کسی کو "نائبِ اعلیٰ حضرت" کہا جاتا ہے—جبکہ ان حضرات میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو فتاویٰ رضویہ کی ایک عبارت تک درست نہیں پڑھ پاتے۔
- ولیِ کامل: کسی کو "ولی" یا "ولیِ کامل" قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ جنہیں یہ خطابات دیے جاتے ہیں وہ بعض اوقات فجر کی نماز تک باجماعت ادا نہیں کرتے۔ ولی تو وہ ہوتا ہے جس کے ظاہر و باطن میں تقویٰ کی روشنی ہو، مگر یہاں صرف اسٹیج کی چمک دمک کو معیار بنا لیا گیا ہے۔
- مصنفِ کتبِ کثیرہ: کسی کو "مصنفِ کتبِ کثیرہ" کہا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ابھی ایک مکمل کتاب بھی تصنیف نہیں کی ہوتی۔ صرف چند صفحات یا ایک رسالہ لکھ کر انہیں بڑے بڑے مصنفین کی صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
- رہبر و شیخِ طریقت: کسی کو "شیخِ طریقت"، "پیرِ طریقت"، "رہبرِ شریعت"، "ریحانِ ملت" یا "رہبرِ امت" کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ان میں سے بعض تو عالم بھی نہیں ہوتے، اور علمِ دین کی بنیادی تکمیل کا سفر ان سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
- معمارِ اخلاقِ حسنہ: ایسا خطاب دیا جاتا ہے، لیکن جب ان کے روزمرہ معمولات دیکھے جائیں تو وہ کھڑے ہو کر پانی پیتے ہیں، کھڑے ہو کر کھانا کھاتے ہیں، اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عام آداب تک کا لحاظ نہیں کرتے۔
- داعیِ خیر و نیکی: انہیں "داعیِ خیر" کہا جاتا ہے، لیکن ان کے سامنے اگر کوئی مسلمان گناہ کر رہا ہو تو نہ وہ اسے روکتے ہیں، نہ سمجھاتے ہیں، اور نہ اصلاح کی کوئی کوشش کرتے ہیں۔ دعوتِ خیر صرف تقریری جملوں کا نام نہیں، بلکہ عمل، غیرتِ دین اور امر بالمعروف کی ذمہ داری کا نام ہے۔
- بحرِ علم و عرفان کے موتی: کچھ کو ایسے القابات سے نوازا جاتا ہے جبکہ ان کا علم سطحی، کمزور اور محدود ہوتا ہے۔ نہ ان میں عرفان کی گہرائی ہوتی ہے، نہ تحقیق کی سنجیدگی، اور نہ ہی علمائے حق کے معیار کا کوئی شائبہ۔
بے اعتدالی کے نقصانات
یہ تمام بے اعتدالیاں ہماری مجالس میں عام ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں:
- القابات کی عزت مجروح ہو رہی ہے۔
- دین کی مقدس اصطلاحات پامال ہو رہی ہیں۔
- امت کو غلط معیار مل رہے ہیں۔
- نقیب حضرات اپنی ذمہ داری کو محض خوشامد اور مفاد کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔
مقصودِ تنقید اور گزارشات
میں بالکل اس بات کے خلاف نہیں ہوں کہ جو اہلِ علم، سچے اور مستحق علمائے کرام ہیں، انہیں ان کے لائق القابات سے نوازا جائے۔ یہ بالکل جائز اور ضروری ہے، کیونکہ حقائق کے مطابق عزت اور احترام دینا شرعاً اور معاشرتی طور پر درست عمل ہے۔
میری مخالفت صرف اس بات سے ہے کہ آج کل کچھ لوگ اسٹیجوں پر نااہل، نقلی اور بے عمل لوگوں کو مبالغہ آمیز القابات سے نواز کر، محض عوام کی داد لینے اور پیسہ کمانے کے لیے پکارتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف دین کی حرمت کے خلاف ہے بلکہ اس سے درج ذیل تین طرفہ نقصان ہوتا ہے:
- نااہل افراد کو بلا کر انہیں مبالغہ آمیز القاب دینا دین اور مذہب کی حرمت کو مجروح کرتا ہے۔
- سچے اور اہلِ علم کی قدر کم ہو جاتی ہے کیونکہ جنہیں واقعی علم و عمل کی وجہ سے احترام ملنا چاہیے، انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
- عوام کو غلط معیار ملتا ہے کہ جو بھی کچھ دکھاوا کر لے یا عوامی حمایت حاصل کر لے، اسے القاب اور عزت مل سکتی ہے، چاہے وہ علمِ دین میں نااہل ہی کیوں نہ ہو۔
اگر ہم آج کے اس دور کو دیکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ اہلِ دین کے اصل علماء اور مبلغین نظر انداز ہو گئے ہیں۔ جو علماء دین کی سچی بات کرتے ہیں، جو خوفِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ دین کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں چھوڑ کر ایسے لوگوں کو اسٹیج پر بلایا جاتا ہے جو صرف شور اور دکھاوے کے لیے مولانا کہلا رہے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ تمام اہلِ سنت علماء میری اس بات سے اتفاق کریں گے، کیونکہ یہ عمل دین، علم، اور امت کے مفاد کے خلاف ہے۔ میری سب سے گزارش ہے کہ:
- اسٹیجوں پر القابات دینے میں سخت احتیاط برتی جائے۔
- صرف مستحق اور باعمل علمائے کرام کو ان کے شایانِ شان القابات دیے جائیں۔
- نقیب حضرات اور عوام اس سلسلے میں محتاط رہیں اور دین کی حرمت کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
یہی عمل امت کے حق میں بہتر اور دینی طور پر درست ہے۔
