| عنوان: | رسولِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا کیسا؟ (فیصلہ آج) |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضانِ مفتی اعظم ہند، شاہجہاں پور |
بدمذہب لوگ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں درود و سلام بھیجنے کو شرک و بدعت قرار دیتے ہیں۔ اللہ پاک سعادت دے! جب آپ روضۂ رسول پر جا کر جالیوں کو چومنے اور درود و سلام پیش کرنے کی جستجو کریں گے، تو وہاں کے بدمذہب حاجی شرک کہتے ہوئے ہٹا دیں گے، حالانکہ قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پر اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اسے اظہر من الشمس کرنے اور مدلل، مفصل، اور تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کروں گا، تاکہ کوئی بدمذہب ہمارے ایمان پر ڈاکہ نہ ڈال سکے اور مسلمان بھائیوں کو اپنے چنگل کا شکار نہ بنا سکے۔
قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.
ترجمہ: ”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔“ [پارہ: 22، سورۂ احزاب، آیت: 56]
یہ آیتِ کریمہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صریح نعت ہے، جس کے ذریعے چند باتیں اظہر من الشمس ہیں:
- لفظ ”يُصَلُّوْنَ“ صیغۂ مضارع لایا گیا جو ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے، تو معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ہمیشہ درود بھیجتے ہیں۔
- لفظ ”اٰمَنُوْا“ کے ذریعے معلوم ہوا کہ آقا پر درود و سلام وہی بھیجتے ہیں جو باایمان ہیں، نیز یہ بھی ثابت ہو گیا کہ بدمذہب، درودِ پاک کے منکر ہونے کی وجہ سے باایمان نہیں۔
- لفظ ”صَلُّوْا“ اور ”سَلِّمُوْا“ امر ہیں، نیز اللہ عزوجل نے ”تَسْلِیْمًا“ تاکید کے ساتھ فرمایا، اور امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے۔ تو پتا چلا کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا لازم و ضروری اور جزوِ ایمان ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
- جامع ترمذی کی حدیث ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں زیادہ قریب وہ ہوگا، جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہے۔“ [سنن الترمذی، کتاب الوتر، ج: 2، ص: 27، الحدیث: 484]
- مسند امام احمد میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ”جو نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایک بار درود بھیجے تو اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستّر بار درود شریف بھیجتے ہیں۔“ [مسند امام احمد، ج: 2، ص: 614، الحدیث: 6766]
مذکورہ قرآنِ پاک کی آیت اور احادیثِ مبارکہ سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا شرک و بدعت نہیں، بلکہ کارِ فضیلت اور آخرت کا ساز و سامان ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جب نماز میں تشہد پڑھتے ہیں تو ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ (اے نبی! آپ پر سلام ہو) کہتے ہیں، تب انہیں شرک و بدعت نظر نہیں آتا۔ خدارا! بھولے بھالے مسلمانوں کو نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنے سے محروم کر کے اور آنکھوں میں دھول جھونک کر ایمان کو قطعاً سلب کرنے کی کوشش نہ کرو۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ہم سب کو آقائے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
