| عنوان: | نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبینِ (پیشانی) پُرنور |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدَانَا إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ، وَجَعَلَنَا مِنْ أُمَّةِ خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ، وَبَعَثَ فِيْنَا رَسُولًا هَادِيًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا، يَّدْعُو إِلَی اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا. وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ الْكَرِيمِ، ذِي الْجَبِينِ الْوَاضِحِ، وَعَلٰی جَمِيعِ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
کائناتِ رنگ و بو میں اگر کوئی ہستی ایسی ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنی خاص تجلیات سے مزین فرمایا، تو وہ صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہر ادا، ہر خصلت، ہر عضو اور ہر انداز میں خداوندِ متعال کی قدرت کی جھلک، جمال کا عکس اور نور کی تجلی نمایاں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کی آرزو، تمنا اور دعا یہی ہوتی ہے کہ وہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک جھلک پا لے۔ آپ کے چہرۂ انور کی ایک جھلک دل کو ایمان کی تازگی عطا کرتی ہے۔ اس چہرۂ اقدس کی سب سے روشن، سب سے نمایاں اور سب سے دلکش جھلک ”جبینِ مبارک“ ہے جو سراپا نور، سراپا جمال اور سراپا کمال ہے۔
جبینِ مبارک کا تعارف
عربی میں ”جبین“ کا مطلب ہے پیشانی، جو چہرے کا وہ حصہ ہے جو آنکھوں کے اوپر اور بالوں کی ابتدائی حد کے درمیان ہوتا ہے۔ عام انسانوں کی پیشانی صرف جسمانی عضو کے طور پر دیکھی جاتی ہے، لیکن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبینِ مبارک نہ صرف جسمانی خوبصورتی کا مظہر تھی، بلکہ اس میں روحانی نور، رحمتِ الٰہی کی تجلیات اور نبوت کی شان بھی جھلکتی تھی۔
احادیثِ کریمہ کی روشنی میں
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی مبارک سے متعلق متعدد احادیثِ کریمہ میں سے چند یہاں نقل کی جاتی ہیں:
1. جبینِ اقدس کا کشادہ ہونا
سیرت نگاروں کے مطابق آپ کی جبینِ مبارک ”واسع“ یعنی کشادہ تھی، جو ذہانت، تدبر اور نورانیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
«كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ وَاسِعَ الْجَبِيْنِ.»
ترجمہ: ”حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کشادہ پیشانی والے تھے۔“ [الشمائل المحمديۃ، الحدیث: 8]
2. پیشانی مبارک روشن و منور تھی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
«كَانَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ أَجْلَی الْجَبِيْنِ، إِذَا طَلَعَ جَبِيْنُهٗ مِنْ بَيْنِ الشَّعَرِ، إِذَا طَلَعَ فِي فَلَقِ الصُّبْحِ أَوْ عِنْدَ طِفْلِ اللَّيْلِ أَوْ طَلَعَ بِوَجْهِهٖ عَلَی النَّاسِ، تَرَاؤا جَبِيْنَهٗ كَأَنَّهٗ ضَوْءُ السِّرَاجِ الْمُتَوَقِّدِ قَدْ يَتَلَأْلَأُ.»
ترجمہ: ”حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی مبارک جب بالوں کے بیچ میں سے نمودار ہوتی تو آپ سب سے روشن پیشانی والے ہوتے، اور آپ صبحِ صادق کے وقت یا سرِ شام لوگوں کی طرف تشریف لاتے تو وہ آپ کی پیشانی مبارک کو یوں دیکھتے گویا وہ روشن چراغ کی روشنی ہے جو چمک رہی ہے۔“ [دلائل النبوۃ للبیہقی، ج: 1، ص: 302]
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
مَتٰی يَبْدُ فِي اللَّيْلِ الْبَهِيمِ جَبِينُهٗ
بَلَجَ مِثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْمُتَوَقِّدِ
ترجمہ: ”جب اندھیری رات میں آپ کی پیشانی ظاہر ہوتی، تو تاریکی میں روشن چراغ کی مانند چمکتی۔“ [شرح الزرقانی علی المواہب، ج: 5، ص: 278]
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
[حدائقِ بخشش، ص: 300]
3. پیشانی مبارک کے پسینے کی خوشبو
آپ کی جبین سے جو پسینہ آتا، وہ خوشبودار ہوتا تھا۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ آپ کے پسینے کی خوشبو کستوری سے بھی بہتر تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
«كُنْتُ قَاعِدَةً أَغْزِلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهٗ، فَجَعَلَ جَبِيْنُهٗ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُهٗ يَتَوَلَّدُ نُوْرًا، فَبُهِتُّ، فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ، بُهِتِّ؟
قُلْتُ: جَعَلَ جَبِيْنُكَ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُكَ يَتَوَلَّدُ نُوْرًا. وَلَوْ رَآكَ أَبُوْ كَبِيْرٍ الْهُذَلِيُّ لَعَلِمَ أَنَّكَ أَحَقُّ بِشِعْرِهٖ.
قَالَ: وَمَا يَقُوْلُ يَا عَائِشَةُ أَبُوْ كَبِيْرٍ الْهُذَلِيُّ؟
فَقَالَتْ يَقُوْلُ:
وَمُبَرَّأٍ مِنْ كُلِّ غُبَّرِ حَيْضَةٍ
وَفَسَادِ مُرْضِعَةٍ وَدَاءِ مُغْيَلِ
فَإِذَا نَظَرْتَ إِلٰی أَسِرَّةِ وَجْهِهٖ
بَرِقَتْ كَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَهَلِّلِ
قَالَتْ: فَقَامَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيَّ، وَقَالَ: جَزَاكِ اللّٰهُ يَا عَائِشَةُ عَنِّيْ خَيْرًا، مَا سُرِرْتِ مِنِّيْ كَسُرُوْرِيْ مِنْكِ.»
ترجمہ: ”میں بیٹھی سوت کات رہی تھی اور حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے نعلین مبارک گانٹھ رہے تھے کہ آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہنے لگا اور آپ کے پسینۂ مبارک سے نور پھوٹنے لگا۔ میں اس (حسین) منظر میں مستغرق ہو گئی تو آپ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مبہوت سی ہو گئی ہو؟“
میں نے عرض کیا: ”(یا رسول اللہ!) آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپک رہا ہے اور وہ پسینہ نور پیدا کر رہا ہے۔ اگر (عرب کا مشہور شاعر) ابوکبیر ہذلی اس وقت آپ کو دیکھ لیتا تو یقیناً وہ جان لیتا کہ اس کے شعر کے اصل حقدار تو آپ ہیں۔“
آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! ابوکبیر ہذلی کیا کہتا ہے؟“
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ وہ کہتا ہے:
”میرا ممدوح حیض و نفاس اور ولادت و رضاعت کی ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک ہے، جب تو اس کے چہرے کے (منور) نقوش دیکھے تو (تجھے محسوس ہوگا) گویا ’عارضِ تاباں‘ ہے جو چمک رہا ہے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میری طرف تشریف لائے اور میری آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اتنا تم مجھ سے کبھی خوش نہیں ہوئیں، جس قدر میں تم سے خوش ہوا ہوں۔“
جبینِ نبوی اور عشقِ امت
یہ جبین صرف خوبصورتی کی علامت نہیں تھی، بلکہ اس جبینِ مبارک نے طائف کی وادی میں لہو بہایا، اُحد کے میدان میں زخم سہے، اور رات کی تاریکیوں میں سجدوں میں گر کر امت کی بخشش کے لیے گریہ و زاری کی۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سجدے میں جاتے، تو وہی جبینِ اقدس زمین کو چھوتی، اور خداوندِ متعال کی بارگاہ میں امت کے لیے عفو و رحمت کی دعائیں مانگتی۔
وہ سرگرمِ شفاعت ہیں عرق افشاں ہے پیشانی
کرم کا عطر، صندل کی زمیں، رحمت کی گھانی ہے
دوسرے مقام پر ہے:
جلوہ فرما ہیں جبینِ پاک میں آیاتِ حق
مصحفِ رخ دیکھیے، تفسیرِ قرآں دیکھیے
جبینِ مصطفیٰ ﷺ کا فیض آج بھی جاری ہے
آج بھی عاشقانِ رسول جب مدینہ منورہ حاضری دیتے ہیں تو روضۂ اطہر کے سامنے کھڑے ہو کر ذہن میں وہی منظر لاتے ہیں کہ یہ وہی جبین ہے جس نے ربِ کریم کو سجدے کیے، جس نے امت کے غم میں خود کو جھکایا، اور جسے دیکھ کر صحابہ کرام علیہم الرضوان کا دل ایمان سے بھر جاتا تھا۔
حواس و عقل و خرد، فہم و دانش و فطنت
جلالِ حُسن سے سب کو ہے عالمِ حیرت
زمین والے کریں کیا کمال کی مدحت
نجوم واصفِ لمعانِ نورِ دندانت
خور از جبینِ پر انوارِ مصطفیٰ حاکی
[ریاضِ نعیم]
حاصلِ کلام
جبینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ صرف جسمانی حسن کا مظہر ہے بلکہ وہ امت کے لیے خداوندِ متعال کی رحمت کا دروازہ بھی ہے۔ اس جبین کو دیکھنے والے خوش نصیب تھے، لیکن آج بھی اس کے تذکرے سے دلوں کو جلا ملتی ہے، ایمان کو تازگی حاصل ہوتی ہے، اور عشقِ رسول کی آگ مزید بھڑکتی ہے۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا زِيَارَةَ جَبِينِ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاجْعَلْنَا مِنْ خُدَّامِهِ الْمُخْلِصِينَ. آمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِين، بِجَاهِ النَّبِيِّ الْأَمِين صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم.
