| عنوان: | وحدت الوجود — مشائخِ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
وحدت الوجود ایک خالص عرفانی مسئلہ ہے جسے سید الکاشفین، شیخِ اکبر محمد بن علی بن محمد حاتمی طائی معروف بہ محی الدین ابنِ عربی قدس سرہٗ (560ھ–638ھ) نے اپنی تصانیف میں شرح و بسط سے بیان کیا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ وجود صرف ایک ہے جو عینِ ذاتِ باری تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے مظاہر اور پرتو ہیں۔
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”مرتبۂ وجود میں صرف حق عزوجل ہے کہ ہستی حقیقۃً اسی کی ذات سے خاص ہے۔ وحدتِ وجود کے جس قدر معنی عقل میں آ سکتے ہیں کہ وجود واحد، موجود واحد، باقی سب مظاہر ہیں کہ اپنی حدِ ذات میں اصلاً وجود و ہستی سے بہرہ نہیں رکھتے۔ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ۔“
اور حاشا یہ معنی ہرگز نہیں کہ من و تو، زید و عمرو ہر شے خدا ہے۔ یہ اہلِ اتحاد کا قول ہے جو ایک فرقۂ کافروں کا ہے، اور پہلی بات اہلِ توحید کا مذہب ہے جو اہلِ اسلام و ایمانِ حقیقی ہیں۔ [کشف حقائق و اسرار و دقائق، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی، ص: 15]
وحدت الوجود اور معیارِ عقل
مشائخِ قادریہ و چشتیہ وغیرہم مسلکِ وحدت الوجود کے قائل رہے اور اہلِ ظاہر نے اس پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کے جوابات بھی دیے اور ثابت کیا ہے کہ یہ معنی قرآن و سنت کے خلاف نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ مسئلۂ وحدت الوجود عقولِ متوسطہ کے فہم و ادراک سے ماورا ہے اور صرف کشف و شہود کے ذریعے اس سے آگاہی ہو سکتی ہے، لیکن علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے خاص معقولی طرز پر بحث کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ صوفیہ کے اسرار و اصول سے قطع نظر، نگاہِ عقل میں بھی حق یہی ہے کہ مصداقِ وجود صرف ایک حقیقتِ واجبہ ہے، باقی سب اس کے مظاہر اور تعینات ہیں۔
اس بارے میں انہوں نے ایک مفصل رسالہ ”الروض المجود“ تحریر فرمایا جس کا تذکرہ میں نے اپنے کئی مضامین میں کیا ہے۔ یہاں چاہتا ہوں کہ مختصراً اس کے چند اقتباسات بھی پیش کروں تاکہ اس کی حقیقت سے کسی قدر آشنائی ہو سکے۔
علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ (1212ھ–1278ھ) فرماتے ہیں:
”نظر جتنی زیادہ دقیق اور صاف ہوگی اس سے حاصل ہونے والا علم بھی اتنا ہی زیادہ حق اور کامل ہوگا، اور صوفیائے کرام کا حصہ وقتِ نظر (دقتِ نظر)، پاکیزگیِ اسرار اور درستیِ افکار میں دوسروں سے زیادہ ہے، تو رب سے متعلق ان کا اعتقاد بھی کسی انحراف سے بعید تر ہے، اور قبول و ایمان کے لیے مناسب و لائق تر ہوگا۔ ان سے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا عقیدہ اسلام کے برخلاف، یا تقاضائے عقل کے برعکس ہے۔ یہ بات کسی طرح لائقِ التفات نہیں کہ صوفیہ کا مذہب عقل کے احکام و طریق سے ماورا ہے۔ اس لیے اس کی تائید یا تردید میں مصروف ہونا مناسب نہیں۔ صوفیہ کا طریقہ خلافِ عقل نہیں ہوگا۔“
چنانچہ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ (450ھ–505ھ) احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
”یقین رکھو کہ طریقِ ولایت میں کوئی ایسا امر ظاہر نہیں ہو سکتا جسے عقل محال قرار دے۔ ہاں طریقِ ولایت میں ایسی بات ظاہر ہو سکتی ہے جس سے عقل قاصر و عاجز ہو، یعنی وہ ایسی بات ہے کہ صرف عقل سے اس کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ ایک وہ امر ہوتا ہے جسے عقل محال قرار دیتی ہے اور ایک امر وہ ہوتا ہے جو عقل کی دسترس میں نہیں۔ دونوں میں بڑا فرق ہے، جو اس فرق کو سمجھنے سے قاصر ہو وہ ہمارے خطاب کے لائق نہیں۔“ [علامہ فضل حق خیر آبادی، الروض المجود]
اس تمہید کے بعد فرماتے ہیں کہ واضح ہو گیا کہ صوفیہ کا طریقہ عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل کی میزانِ صحیح پر تلا ہوا ہے۔ اس لیے پہلے ہم اسے دلیلِ عقلی سے بیان کریں گے تاکہ کسی تشدد پسند فلسفی کے لیے شک کی گنجائش نہ رہے، پھر اسے نقلی دلائل سے مضبوط کریں گے تاکہ کسی تکلف پسند متکلم کے لیے طعن و تشنیع کا موقع نہ رہے۔
حقیقتِ واحدہ اور اس کے تعینات
آگے رقم طراز ہیں:
”وجودِ حقیقی ایک حقیقتِ واحدہ ہے جس میں اقسام و انواع حاصل کرانے والی فصلوں اور اشخاص بنانے والے عوارض کے ذریعے اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ بالذات مطلق رہتے ہوئے خود ہی متعین ہوتی ہے۔ اس کا تعین اس کی حقیقت سے زائد نہیں ہوتا کہ اعتباری طور پر یہ بالذات واجب بھی ہے، کسی اور کی معلول نہیں، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی موجود نہیں۔“
”اور جب یہ بالذات مطلق رہتے ہوئے خود ہی متعین ہوتی ہے تو یہی ما بہ الاشتراک ہے ان اشیاء میں جو ایک دوسرے کا غیر اور باہم جداگانہ ہیں۔ اسی طرح وہ ان اشیاء کے درمیان بالذات ما بہ الامتیاز بھی ہے، بغیر اس کے کہ کوئی امر اس کی طرف مضاف ہو یا کوئی معنی اس پر زائد ہو۔“
اس کے تعینات ممکن ہیں اور خود وہ حقیقتِ واجب ہے۔ جیسے تعینات باہم متغایر ہیں اور وہ واحد ہے۔ وہ حقیقتِ حقہ ایک تعین میں محدود یا ایک تشخص میں محصور نہیں۔ یہ اپنے تعینات میں بہت سے اطوار رکھتی ہے۔ وحدت کے باوجود کثرت میں نمایاں ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
اے کہ ذاتِ خویش را مطلق مقید ساختی
رنگ ہائے مختلف را صورتِ خود ساختی
اس کے متعلق تفصیلی دلائل ان شاء اللہ عزوجل قسطِ دوم میں رقم کیے جائیں گے...
