| عنوان: | مزاحیہ پوسٹ اور بھیانک نتیجہ |
|---|---|
| تحریر: | بنتِ عبد الرحیم صدیقی |
جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے سہولتیں مہیا ہو رہی ہیں، اسی طرح لوگوں کے دلوں سے ایمان کا اجلال و وقار بھی بآسانی رخصت ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں ہر طرف ایمان کے شکاریوں کے جال بچھے ہوئے ہیں، وہیں ایمان سے وابستگی ظاہر کرنے والے بھی اس کی اہمیت کو فراموش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جس پلیٹ فارم پر چہاروں جانب سے اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی پلیٹ فارم پر کچھ مسلمان کہلانے والے بھی اس کے لیے مضر ثابت ہو رہے ہیں۔
جی ہاں! نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ غیر تو غیر، ہمارے کچھ مسلمان کہلانے والے سوشل میڈیا کارکن خود اسلام کی وقعت و بلندی کو کمتر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، خواہ عمداً ایسا کر رہے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ یقیناً آپ کو بھی حیرت ہو رہی ہوگی کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ کیا کوئی انسان جس دین پر فخر کرے، اسی کو ابتر کرنے کا قصد کر سکتا ہے؟ تو ہم آپ سے یہی کہیں گے کہ نہیں، مگر فی الحال ایسا ہی ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا کا ایک جائزہ
آئیے ذرا آپ کو ایک مرتبہ سوشل میڈیا کا سفر کراتے ہیں، بات مزید واضح ہو جائے گی:
آپ کسی غیر مسلم کی نہیں، بلکہ کسی مسلمان کی آئی ڈی (ID) کھولیں۔ ان میں اسٹیٹس اور اسٹوری وغیرہ اپلوڈ کرنے والوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کے پیجز (Pages) پر عموماً مزاحیہ ویڈیوز (Videos) اپلوڈ ہوتی ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان ویڈیوز میں مذاق کس کا بنایا گیا ہے؟ کسی میں علماء و حفاظ کا، کسی میں وعظ و نصیحت کا، کسی میں نماز و عبادات کا اور کسی میں عربی زبان کا۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اب دعاؤں کا بھی مذاق بن رہا ہے، شرعی مسائل کو بھی نشانۂ تمسخر بنایا جا رہا ہے، حتیٰ کہ قرآنی آیات تک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
اس وقت جو سوال آپ کے ذہن میں آ رہا ہے، اس کا جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ویڈیو بنانے والے کا مقصد اسلام کو حقیر ثابت کرنا اور (معاذ اللہ) اسے نیچا دکھانا ہے۔ مگر آپ خود ہی غور کریں کہ کیا اس سے ہمارے لوگ اسلام جیسی نعمت کی قدر کر سکیں گے؟ کیا اس سے غیروں کو اعتراض کا مزید موقع فراہم نہیں ہوگا؟ کیا اس سے لوگوں کے دلوں میں اسلام کی اہمیت کم نہیں ہوگی؟ اور افسوس کہ ایسا ہو بھی رہا ہے۔
مذاق کے تباہ کن اثرات
مثلاً آج انہی ویڈیوز کو دیکھنے والے ایک چھوٹے بچے کو جب افطار کی دعا پڑھائی جاتی ہے، تو ویڈیو میں بنایا گیا اس دعا کا مزاحیہ جملہ بچے کے ذہن میں پہلے آتا ہے۔ اگر کوئی شرعی مسئلہ معلوم کرنا چاہے، تو ان ویڈیوز کو دیکھنے والا شخص پہلے ہنسی کے طور پر وہی مزاحیہ جواب دیتا ہے۔ قرآن کی جس آیت کا (معاذ اللہ) مذاق بنایا گیا (مثال کے طور پر ایک ویڈیو بنی جس میں ایک عربی شیخ کو سورۂ فاتحہ کے ذریعے راستہ بتایا گیا ہے)، تو قرآن پڑھتے وقت نہ جاننے والوں کا خیال عموماً اس ویڈیو کی طرف چلا جاتا ہے اور وہ آیت پڑھ کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ وعظ و نصیحت کا مذاق بنانے سے علمائے کرام کی باتوں کی قدر و قیمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسی ڈھیروں مثالیں ہیں جو آپ سے بھی مخفی نہیں۔
اب آپ بتائیں جس شریعت کی خاطر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اتنی سخت تکلیفیں اٹھانی پڑیں، جن مسائل و اذکار کو ہم تک پہنچانے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شدید مشکلات کا سامنا کیا، جن کو حاصل کرنے کے لیے تابعینِ عظام، اولیائے کرام اور علمائے ذوی الاحترام نے اتنی مشقتیں جھیلیں، کیا چند فالوورز (Followers) وغیرہ بڑھانے کے چکر میں انہی کا مذاق بنانا رہ گیا ہے؟ بلکہ بعض پوسٹس تو (معاذ اللہ) کفر کی حد تک بنائی جا رہی ہیں۔ ذرا سوچیں! کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان پوسٹس سے کتنی تکلیف پہنچتی ہوگی۔
ایک مؤدبانہ گزارش
میری سوشل میڈیا کے تمام مسلم صارفین اور کارکنان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی ایسی ویڈیوز یا ایسی باتیں اسٹوری، اسٹیٹس وغیرہ پر اپلوڈ کرنے سے احتراز کریں۔ اسلام کی اہمیت کو سمجھیں۔ یہ کوئی عام مذہب نہیں، بلکہ راہِ حیات کا سب سے اہم رہنما ہے جس کے بغیر بندوں کے لیے منزل تک پہنچنے کی کوئی سبیل نہیں۔ اس عظیم راستے پر آپ ثابت قدمی کے ساتھ چلیں۔ دھیان دیں کہ آپ کی ایک پوسٹ سے کسی کے دل سے ایمان کی اہمیت ختم نہ ہو جائے۔ غیروں کی روش کے چکر میں اپنے ایمان کو ضائع نہ ہونے دیں۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا شعر ہے کہ:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
