Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

امام احمد رضا قدس سرہ کے حافظے پر اعتراض کا جواب

امام احمد رضا قدس سرہ کے حافظے پر اعتراض کا جواب
عنوان: امام احمد رضا قدس سرہ کے حافظے پر اعتراض کا جواب
تحریر: شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ
پیش کردہ: محمد اکرم رضا رضوی شراوستی

سوال: تم لوگ اپنے پیرِ مغاں احمد رضا خان کے حافظے کا بہت ڈھنڈورا پیٹتے ہو، اور زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہو۔ مگر انہیں صحیح قرآن مجید بھی یاد نہ تھا۔ ثبوت میں ان کی تصنیفات سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں، تم لوگ یہ بھی کہہ کے جان نہیں چھڑا سکتے کہ یہ کاتب کی غلطی ہے، اس لیے کہ ترجمہ بھی اسی کے مطابق ہے جو عبارت بنامِ آیت کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔

(عبد الرحیم۔ متعلم دارالعلوم دیوبند، سہارن پور)

الجواب:

بے شک یہ سب ایک وہابی کاتب کی غلطی ہے۔ وہابیوں نے سازش کر کے مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کو بدنام کرنے کے لیے ایک وہابی کاتب کو مطبع اہلِ سنت بریلی شریف میں بھیجا جو تقیہ کر کے سنی بنا، اور وہاں ملازم ہو گیا۔ جو انتہائی مکار دجال تھا، اس نے ان آیاتِ کریمہ کو اس طرح محرف کر کے لکھا کہ پروف ریڈنگ کرنے والوں کا ذہن بھی اس طرف نہ جائے کہ یہ آیت غلط لکھی ہے۔ پھر ایک کاتب جب بے ایمانی پر اتر آئے تو کتاب کا صحیح چھپنا مشکل ہے۔ تصحیح کرنے والوں نے تصحیح کر کے درست کرنے کے لیے کاتب کو دیا۔ اور جب کاتب کے دل میں بے ایمانی ہے تو جہاں اس نے بالقصد تحریف کی ہے وہاں درست نہیں کرے گا۔

اس قسم کا قصہ میرے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ مقالاتِ امجدی میں ایک جگہ امام بخاری کا یہ فتویٰ مذکور ہے: ”اگر ایک لڑکا اور لڑکی ایک بکری کا دودھ مدتِ رضاعت میں پی لیں تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔“ اس کا کاتب غیر مقلد تھا۔ اس نے ’بکری‘ کو ’عورت‘ سے بدل دیا۔ تصحیح کے بعد بھی درست نہیں کیا۔ میرا رسالہ ”مسائلِ حج و زیارت“ و عرفات میں یومِ عرفہ کے جو مستحبات ہیں، ان میں یہ ہے، ایک یہ ہے کہ روزہ نہ رکھنا۔ اس کا کاتب دیوبندی تھا، اس نے ’نہ‘ اڑا دیا، اور تصحیح کے بعد بھی درست نہ کیا۔ یہی سب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی ان تصنیفات کے بارے میں ہوا جن میں بعض آیتیں غلط چھپ گئی ہیں۔ چنانچہ اس کاتب نے وصایا شریف میں مشہور تحریف کی۔ ”جس سے شبہ ہوا، اور تحقیق کی تو وہ کٹر وہابی نکلا، پھر اسے نکال دیا گیا۔“

اس دیوبندی معترض کا یہ کہنا کہ ”اگر یہ کاتب کی غلطی ہے ترجمہ کیوں اسی کے مطابق ہے“، آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ جو شاطر کسی کو بدنام کرنے کے لیے قرآن کی آیت میں تحریف کرے گا، وہ ترجمے میں تحریف کیوں چھوڑے گا؟ کیا وہ عیار یہ نہیں جانتا کہ صحیح ترجمہ لکھنے کے بعد یہ بلا میرے سر آئے گی، اور مصنف کا دامن بے داغ رہے گا۔ ایسا چالاک دشمن ایسی کوتاہی کیوں کرے گا، اس نے بہت سوچ سمجھ کر پوری عیاری کے ساتھ آیت میں تحریف کی اور اسی کے مطابق ترجمے میں بھی تاکہ جن لوگوں نے اس کو اس مشن پر بھیجا ہے ان کو جواب نہ دینا پڑے۔

ناظرین کے اطمینانِ خاطر کے لیے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ دیوبندی جماعت بڑی محنت اور جانفشانی کر کے اب تک اعلیٰ حضرت کی ہزاروں صفحات کی مطبوعہ کتابوں میں چند غلط آیات کی نشاندہی کر سکی ہے۔ مگر دن رات کی، برسہا برس کی ایک صدی کی، چھوٹوں اور بڑوں سب کی تلاش و جستجو کے باوجود آج تک کسی حدیث کے متن یا ترجمے یا کتابوں کے حوالہ جات کی عبارتوں اور ان کے حوالے میں ایک غلطی بھی نہیں نکال سکی۔ جبکہ اعلیٰ حضرت کے رسائل میں 100، 200 نہیں ہزاروں نہیں ہزارہا ہزار احادیث عربی متن اور اس کے ترجمے کے ساتھ چھپ چکی ہیں۔ اور تفاسیر، شروحِ حدیث، عقائد و کلام، فقہ، لغت، تاریخ، جغرافیہ کی ہزاروں کتب کے لاکھوں حوالے چھپ چکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت کی کتابیں ایک صدی سے چھپ رہی ہیں اور دیوبندیوں، غیر مقلدوں کے چھوٹے بڑے مولوی ان کتابوں کو اس نیت سے پڑھتے ہیں کہ ان میں کوئی غلطی ملے اور ہم اس کی تشہیر کریں مگر آج تک احادیث اور عباراتِ کتب میں کوئی شخص ایک غلطی نہیں نکال سکا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کئی کئی ہزار صفحات کی عبارتوں میں کوئی غلطی نہ ہونا اور صرف چند آیتوں میں غلطی ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا قرآن مجید کے 30 پارے بنسبت ہزاروں صفحات کی کتابوں کے یاد رکھنا زیادہ مشکل ہے؟ یہ کس کی سمجھ میں آنے کی بات ہے کہ قرآن مجید جو اپنے اعجاز کی وجہ سے ایک جاہل کو بھی صحیح یاد رہتا ہے، وہ اتنے زبردست عالم کو جو امام العلماء ہوں صحیح یاد نہ ہو اور ہزاروں صفحات کی کتابیں یاد ہوں۔ اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ ان چند آیات میں جو غلطیاں ہیں وہ اعلیٰ حضرت کی نہیں بلکہ کسی عیار کاتب ہی کی ہیں۔

اور اگر کوئی یہ کہے کہ کتابوں کی عبارتیں کتاب دیکھ کر لکھتے ہیں اس لیے اس میں غلطیاں نہیں ہوئیں، اور آیات زبانی یادداشت سے لکھتے تھے جو حافظے کی خرابی کی وجہ غلط یاد رہیں اور لکھ گئیں، اس پر گزارش ہے کہ یہ وہی کہہ سکتا ہے جس نے کتابوں سے مطلب کے مطابق عبارت تلاش کرنے کا بھی کام نہیں کیا ہے۔ مسائلِ عقائد، فقہ اور ان کے جزئیات ہزاروں کتابوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان جزئیات کو بغیر حفظ کے کتابوں سے تلاش کرنا کتنا مشکل کام ہے، یہ وہی جانتا ہے جس کا اس سے سابقہ پڑا رہتا ہے۔ اس کی مثال حاضر ہے، فتح القدیر میں داڑھی کے بارے میں ہے:

ترجمہ: ”داڑھی جب ایک مشت سے کم ہو تو اس سے کچھ بھی کترنے کو کسی نے جائز نہیں کیا۔“

کسی کے پاس جائیے اور پوچھیے کہ یہ عبارت فتح القدیر میں کہاں ہوگی، وہ صاف کہہ دے گا کہ کتاب الکراہیۃ میں ہے۔ بہت اونچی اڑان اڑے گا تو کہہ دے گا کہ کتاب الحج، باب الجنایات میں ہوگی۔ ناظرین کو حیرت ہوگی کہ یہ عبارت کتاب الصوم میں ہے۔ اب سوچیے روزے کا داڑھی سے کیا تعلق۔

اس قسم کی صدہا نظیریں ہیں۔ اب جس کا حافظہ اتنا کمزور ہو بقول دیوبندیوں کے کہ اسے قرآن مجید بھی یاد نہ ہو، وہ لاکھوں مسائل میں ہزاروں کتابوں کی لاکھوں عبارتیں پوری کتاب پڑھ پڑھ کر اگر جزئیات نہ نقل کرے تو کیا وہ اتنی کثرت کے ساتھ نقل کر سکتا ہے جتنی اعلیٰ حضرت کی کتابوں میں موجود ہیں؟ ساری تصانیف کو جانے دیجیے۔ صرف اب تک کے مطبوعہ فتاویٰ رضویہ میں جتنی عباراتِ کتب حدیث و فقہ وغیرہ کی ہیں، ان سب کو اصل کتاب سے ملا کر اور اس پر کتاب، باب اور صفحہ کا حوالہ تلاش کر کے دیکھیے تو اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ ایک نہیں کئی پشت گزرنے کے بعد زندگی بھر کی محنت پر شاید کوئی جماعت اس میں کامیابی حاصل کر سکے، ویسے اس کی بھی امید نہیں۔

سنجیدگی، متانت کے ساتھ، تعصب و عناد سے ہٹ کر جو بھی ہماری مذکورہ بالا معروضات پر غور کرے گا اس کو یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اس معاند نے جن آیات کی نشاندہی کی ہے ان میں غلطی مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے نہیں ہوئی، بلکہ اسی تقیہ باز کاتب کی حرکت ہے جو سنی بن کر مطبع اہلِ سنت بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو بدنام کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

چونکہ معاملہ ایسی قوم سے ہے جو ضد و عناد میں ممتاز ہے، اس لیے اسے ان باتوں سے تشفی نہ ہوگی جب تک کہ اسے اس کے گھر کی سیر نہ کرائی جائے۔

لیجئے الایضاح الاولۃ۔ اس کے مصنف کوئی چھوٹے دبلے پتلے عالم نہیں، اپنے عہد میں دیوبندیوں کے سب سے بڑے بوڑھے بھاری بھرکم اور سب سے بڑے مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین اور دیوبندیوں کے شیخ الاسلام جناب حسین احمد ٹانڈوی عرف مدنی کے اور ان جیسے ہزاروں دیوبندی مولویوں کے استاد اور ان کے متفقہ شیخ الہند جناب محمود الحسن دیوبندی ہیں۔ اس کے صفحہ 93 پر ہے:

یہی وجہ ہے کہ یہ ارشاد ہوا:

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ

سارے چھوٹے بڑے دیوبندیوں کو چیلنج ہے کہ وہ یہ آیت قرآن مجید میں دکھائیں۔ آیت کیا دکھا سکیں گے، اپنے شیخ الہند کی نقل کردہ عبارت میں سے وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ دکھا دیں کہ قرآن مجید میں کہاں ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ قراءتِ سبعہ ہی نہیں، شاذ ہی میں سے کون سی قراءت ہے جس میں إِلَى حرفِ جار کے ساتھ أُولِي واؤ کے ساتھ ہے، اور عرب کی کس لغت میں إِلَى اپنے مدخول کو رفع کرتا ہے، یا کس لغت میں أُولِي کا اعراب حالتِ جر میں واؤ کے ساتھ ہوتا ہے یا ہر حال میں واؤ کے ساتھ ہوتا ہے؟

اور آگے بڑھو، یہ ہیں آپ کے شیخ الاسلام عرف مدنی صاحب، اور یہ ہے ان کا مشہور گالی نامہ ”الشہاب الثاقب“، جو صرف 90 صفحے کا کتابچہ ہے جس میں 640 انتہائی مغلظ بازاری قسم کی گالیاں صرف اعلیٰ حضرت کو دی گئی ہیں جن میں ہر گالی عالمی ایوارڈ پانے کی مستحق ہے۔ اس میں صفحہ نمبر 75 پر ہے:

وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ

پر عملِ خلاف، اور آیت كَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ کا مصداق بن کر اپنے آپ کو شیاطینِ انس میں شامل کیا ہے۔ مَنْ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ الْآيَةَ الخ میں داخل ہو کر طوقِ کفر و عناد اپنی گردن میں حسبِ حدیثِ مشہور ڈالا ہے۔ خَذَلَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الدَّارَيْنِ وَسَوَّدَ وَجْهَهُ وَأَتْبَاعَهُ فِي الْكَوْنَيْنِ۔

ترجمہ: اس کو (یعنی اعلیٰ حضرت کو) اللہ تعالیٰ دارین میں رسوا کرے اور اس کے متبعین کے چہرے کو دونوں جگہ کالا کرے۔

ہم سارے جہان کے دیوبندیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ قرآن مجید میں کہیں یہ دکھا دیں: مَنْ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ الْآيَةَ الخ۔

ہاں سورۃُ النسا میں ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا ہے۔

ان شیخ الاسلام صاحب نے ثُمَّ کو مَنْ سے بدل دیا۔

یہ معترضین اپنے شیخ الاسلام کی اس تبدیلی کا کیا جواب دیں گے؟ یہ بھی تاویل نہیں کر سکتے کہ ثُمَّ اور مَنْ ہم معنی ہیں، اس لیے کہ حضرت کو اشتباہ ہو گیا۔

اور لیجیے ان دونوں سے بھی بڑے بوڑھے کی کتاب تذکرۃ الاخوان بقیہ تقویۃ الایمان۔ اس کے صفحہ نمبر 6 پر ہے:

قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَلَا تَكُونُوا مِنَ الَّذِينَ تَفَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ.

[الروم: 31، 32]

اس آیت میں وَلَا تَكُونُوا کے بعد مِنَ الْمُشْرِكِينَ تھا جسے ہضم کر گیا۔ دیوبندی بولیں یہ کیا ہے؟

بقول اس معترض کے یہ کتابت کی غلطی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ اس وہابی نے جو ترجمہ کیا ہے اس میں بھی مِنَ الْمُشْرِكِينَ کا ترجمہ چھوڑ دیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ کیا ہے: ”فرمایا اللہ تعالیٰ نے یعنی سورہ روم میں: نہ ہو ان میں سے جنہوں نے پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے بہت گروہ، ہر فرقہ جو اپنے پاس ہے اس پر خوش ہو رہے ہیں۔“ پھر یہ کرامت تصحیح کے بعد بھی کی ہے، تذکرۃ الاخوان کے قدیم نسخوں میں مِنَ الَّذِينَ کی جگہ كَالَّذِينَ تھا، مِن کی بجائے کاف ہے۔

ناظرین! دیوبندیوں کا حال ملاحظہ کریں، اپنے بڑوں کی غلطیاں ٹھیک بھی کرتے ہیں تو ٹھیک نہیں ہو پاتیں، اور دوسروں پر ہنسنے کے لیے سب سے آگے ہیں۔

اس کا امکان تھا کہ کچھ لوگ ہماری اس بات کو بہانہ بازی پر محمول کریں، اور دیوبندی تو محمول کرتے ہی ہیں۔ یہ تائیدِ ایزدی ہی ہے کہ مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے ترجمۂ کلامِ پاک کنز الایمان اور حضرت صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر جو تفسیر خزائن العرفان لکھی ہے، اس کو اب دہلی کے کچھ دیوبندی تاجروں نے بھی چھپوا دیا اور اس میں کھلی ہوئی تبدیلی و تحریف کی ہے۔

  • اول: 12ویں پارہ سورہ ہود 27ویں آیت کا کنز الایمان میں ترجمہ یہ ہے:

    ”تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہو گئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنا ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں۔“

    اس لیے کہ حاشیے پر خزائن العرفان میں یہ تحریر تھا:

    ”اس گمراہی میں بہت سی امتیں مبتلا ہو کر اسلام سے محروم رہیں، قرآن پاک میں جا بجا ان کے تذکرے ہیں، اس امت میں بھی بہت سے بد نصیب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہتے اور ہمسری کا خیالِ فاسد رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں گمراہی سے بچائے۔“

    اب ترکمان گیٹ دہلی والوں اور انِ منزل نے اسے چھپوایا تو حاشیے کو یوں بدل دیا:

    ”اس گمراہی میں بہت سی امتیں مبتلا ہو کر اسلام سے محروم رہیں، قرآن پاک میں جا بجا ان کے تذکرے ہیں، اس امت میں بھی بہت سے بد نصیب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرتے ہیں، اور قرآن و حدیث کے منکر ہیں۔“

    اس وہابی ناشر نے دو تحریفیں کیں۔ عبارت بدلی، اصل عبارت تھی: ”بشر کہتے اور ہمسری کا خیالِ فاسد رکھتے“ اس نے بدل کر یہ بنا دیا: ”بشریت کا انکار کرتے ہیں“۔ دوم، اصل میں یہ نہیں تھا: ”اور قرآن و حدیث کے منکر ہیں“، اس وہابی نے یہ اپنی طرف سے اضافہ کر دیا۔

  • دوم: 15 پارہ سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 57 کا ترجمہ یہ ہے:

    ”وہ مقبول بندے جنہیں کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے۔“

    اس پر خزائن العرفان میں یہ تھا:

    ”مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ مقرب بندوں کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا جائز اور اللہ کے مقبول بندوں کا یہی طریقہ ہے۔“

    ترکمان گیٹ کے مطبوعہ صفحہ نمبر 417 پر اسی آیت کے تحت حاشیہ نمبر 119 یہ ہے:

    ”مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ مقرب بندوں کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا جائز نہیں اور اللہ کے مقبول بندوں کا یہی طریقہ ہے۔“

اگر خدانخواستہ حضرت صدر الافاضل قدس سرہ کا چھپا ہوا اور اہلِ سنت کے چھپوائے ہوئے نسخے نہ ہوتے تو دنیا یہی سمجھتی کہ واقعی خزائن العرفان میں وہی ہے جو ترکمان گیٹ والے نسخوں میں چھپا ہے۔ اس لیے ہر انصاف پسند اسے تسلیم کر لے گا کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی کتابوں میں جو دو ایک آیتیں غلط چھپ گئی ہیں وہابی کاتبوں کی شرارت ہے اور تصحیح کرنے والے کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

[مقالات شارح بخاری، ص: 307، 313]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!