Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اسلامی فکر کی تعمیرِ نو

اسلامی فکر کی تعمیرِ نو
عنوان: اسلامی فکر کی تعمیرِ نو
تحریر: شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

جامعہ ملیہ دہلی میں 15 دسمبر 1976ء کو ایک سیمینار منعقد ہونے والا تھا۔ اس میں اسلامی فکر کی تعمیرِ نو کے عنوان پر ایک مقالہ پڑھا جانے والا تھا۔ اس سلسلے میں ایک صاحب نے وہاں سے یہ چند سوالات بھیجے تھے۔ باوجود گوناگوں مصروفیتوں کے، قلم برداشتہ جو جوابات ارسال کیے گئے ہیں، وہ ہدیۂ ناظرین ہیں، اس امید پر کہ ہو سکتا ہے یہ مضمون اسلامی مفکرین کو بہت سی غلط فہمیوں سے بچا لے۔ (فقیر امجدی)

  1. کیا اسلام فکر کی اجازت دیتا ہے؟
  2. اگر جواب اثبات میں ہے تو کوئی مثال دیجئے کہ اسلامی تاریخ کے ارتقائی کن مراحل پر فکر سرگرمِ عمل رہی؟ آزادیِ فکر کن حدود کی پابند رہی؟
  3. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسلامی فکر میں جمود آ گیا ہے؟
  4. اگر جمود آ گیا ہے تو کب سے؟
  5. جمود کے لیے کون سے مخصوص حالات ذمہ دار قرار دیے جا سکتے ہیں؟ ذمہ داری فکر کی ہے یا سماجی حالات کی؟
  6. کیا اجتہاد کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتائیے اجتہاد کا حق کس کو دیا جائے اور اس کا نفاذ کس طرح کیا جائے؟
  7. کیا موجودہ دور میں اسلامی فکر کے احیا کی ضرورت ہے؟
  8. اگر جواب اثبات میں ہے تو بتائیے وہ کون سی سمتیں ہیں جن میں اسلامی فکر کی تعمیرِ نو، اسلامی معیشت اور انسانیت کی ترقی کے لیے معاون ہو سکتی ہے؟
  9. اسلامی فکر کی تعمیرِ نو کے سلسلے میں کون سے مسائل یا مشکلات حائل ہو سکتے ہیں؟ کیا انہیں دور کیا جا سکتا ہے؟

جوابات:

  1. فکر مبہم لفظ ہے۔ آپ کی مراد کیا ہے، واضح کریں۔ عرفِ عام میں کسی الجھے ہوئے معاملے کو سلجھانے کے لیے غور کرنے کو فکر کہتے ہیں۔ منطقی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں: جو باتیں معلوم ہوں ان کو منضبط قواعد کے تحت اس طرح ترتیب دینا کہ ان کے ذریعے وہ بات معلوم ہو جائے جو معلوم نہیں تھی۔ لیکن سوال 6 سے شبہ ہوتا ہے کہ فکر سے آپ کی مراد اجتہاد ہے۔ یہ ایک خالص شرعی لفظ ہے اور مخصوص شرعی معنی کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی ایک شے کا حکمِ شرعی دوسری شے کے لیے ثابت کرنا، اس بنا پر کہ اس حکمِ شرعی کی علت دوسری شے میں بھی پائی جاتی ہے، بشرطیکہ شےِ ثانی کا حکم منقول نہ ہو۔

    فکر سے آپ کی مراد کچھ بھی ہو، اس نمبر کا جواب اثبات میں ہے۔ اسلام نے بڑی فراخ دلی سے فکر کی اجازت ہی نہیں، حکم دیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

    فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

    ترجمہ: اے بصیرت والو! غور کرو۔ [الحشر: 2]

    فَاعْتَبِرُوا، اعتبار مصدر کا امر ہے۔ اعتبار کے دو معنی ہیں: عبرت حاصل کرنا، غور کرنا۔ الفاظِ قرآنیہ کے اگر چند معانی ہوں اور وہ آپس میں مزاحم نہ ہوں تو دونوں معتبر ہیں۔ یہاں دونوں معانی مراد ہیں: عبرت حاصل کرو اور غور و فکر کرو۔

    ترمذی، ابو داؤد اور دارمی کی یہ حدیث اس پر نصِ صریح ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے لیے قاضی مقرر فرمایا تو ان سے دریافت کیا:

    معاملات کا فیصلہ کیسے کرو گے؟

    عرض کیا: کتاب اللہ سے۔

    فرمایا: اگر اس میں نہ ملے تو؟

    عرض کیا: پھر رسول اللہ کی سنت سے۔

    فرمایا: اگر اس میں بھی نہ ملے تو؟

    عرض کیا: غور و خوض کر کے اپنی رائے سے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا:

    الْحَمْدُ للهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ لِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ.

    ترجمہ: اس اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جو رسول اللہ کو پسند ہے۔

    صحیحین یعنی بخاری و مسلم میں دوسری حدیث حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ”حاکم خوب غور کر کے فیصلہ کرے اور صحیح کرے تو اسے دونا ثواب ہے، اور اگر چوک جائے تو ایک ثواب کا مستحق ہے۔“

  1. اسلامی فکر کی ایک نہیں، سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ عہدِ رسالت میں جو باتیں باہمی غور و خوض سے طے ہوتیں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے متفق ہوتے تھے، اس لیے وہ بہ فحوائے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ وہی ہے، اس لیے اس کو جانے دیجئے۔ عہدِ رسالت کے بعد کی مثال لیجئے:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جانشینی کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ کتنا اہم تھا۔ اسلام کی ترقی و تنزلی، بقا و فنا کا مدار اسی مسئلے پر تھا۔ اس وقت پوری دنیا کا مزاج شاہنشاہی تھا۔ مرنے والے حکمران کے بعد اس کے عصبات رشتہ دار، الاقرب فالاقرب کی ترتیب سے جانشین ہوتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے سلسلے میں ایک رجحان یہ بھی پیدا ہوا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی بنا پر اس کے خواہش مند بھی ہوئے، مگر کامل بحث و تمحیص اور مکمل غور و خوض کے بعد جملہ صحابۂ کرام نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین منتخب کیا۔ خلافتِ راشدہ کی تیس سالہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ اس سے موزوں تر کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔ صدیوں سے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے قانون کے خلاف ایک نئی راہ نکالنا اسی کا ثمرہ تھا کہ اسلام نے اپنے پرستاروں کو مکمل آزادیِ فکر کی اجازت دی ہے۔

    یہ دوسری بات ہے کہ اسلامی فکر بہرحال قرآن و حدیث کی پابند ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ اسلامی فکر کی جولانگاہ وہ ہے جہاں کتاب و سنت سے کوئی حکم منقول نہ ہو، جس پر دلیلِ قاطع اوپر گزری ہوئی حدیثِ معاذ ہے۔ یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔ خلافتِ راشدہ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ عہدِ صحابہ کے بعد تابعین کا دور آیا۔ قرآن مجید گھر گھر پہنچا، احادیث کا سلسلۂ اشاعت پورے بلادِ اسلامیہ میں پھیل گیا۔ قرآن مجید میں تاریخ بھی ہے، منسوخ بھی، عام بھی ہے، خاص بھی، مطلق بھی ہے، مقید بھی، ظاہر البیان بھی ہے، خفی البیان بھی، یہی حال احادیث کا ہے۔ علاوہ ازیں احادیث میں صحیح بھی تھیں اور سقیم بھی، بلکہ ناخدا ترسوں کی من گھڑت تراشیدہ خرافات بھی بنامِ احادیث عوام تو عوام، کتنے خواص کی زبانوں پر جاری اور صحائف میں مسطور تھیں۔

    اب تک کا مزاج یہ تھا کہ کسی معاملے میں اتنا کہہ دینا کافی تھا: قال رسول اللہ کذا، فعل رسول اللہ کذا وغیرہ وغیرہ، مگر اب اس میں دشواریاں بھی تھیں اور خطرے بھی۔ اب اہلِ حل و عقد علما نے ایک نیا راستہ اپنی صواب دید سے نکالا۔ مقتدایانِ اسلام دو گروہ میں منقسم ہو گئے:

    ایک تو احادیثِ کریمہ کی حفاظت و صیانت، نشر و اشاعت، نقد و جرح میں مصروف ہو گیا، یہ محدثین کہلائے۔ دوسرا گروہ ان احکام کی تدوین و ترتیب میں مشغول ہو گیا جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہوئے، یہ فقہا و مجتہدین کہلائے۔ اگر اس وقت ملت کے ذمہ داروں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو یہ یقین کر لیجئے کہ اسلام کا بھی وہی حال ہوتا جو یہودیت اور نصرانیت کا ہوا۔ جو کچھ ہوا، علما نے اپنی صواب دید سے کیا، مگر ہوا کتاب و سنت کی روشنی میں، ان کی مقرر کی ہوئی حدود میں۔ اس لیے اس نکتے سے کبھی غفلت نہیں کی جا سکتی کہ اسلامی فکر کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قرآن و سنت سے بھی آزاد ہے۔

  1. اسلامی فکر سے مراد اگر اجتہاد ہے تو بلا شبہ اس میں جمود ہے۔ اور عرفی و منطقی فکر مراد ہے تو اس میں نہ اب جمود ہے اور نہ رہ سکتا ہے۔

  1. اجتہاد میں کب سے جمود ہے، اس کی صحیح تاریخ بتانا مشکل ہے۔ اندازہ ہے کہ تیسری صدی کے بعد کوئی مجتہد نہیں پیدا ہوا۔

  1. اجتہاد کے بند ہونے کے اسباب نہیں، صرف ایک سبب ہے، یعنی صرف مجتہدین کا فقدان ہے۔ اور یہ اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے کہ شرائطِ اجتہاد معلوم ہوں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:

    • کتاب اللہ کے اس حصے کا عالم ہونا جس کا تعلق احکام سے ہے۔ کتاب اللہ کے عالم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید کے الفاظ و تراکیب کے اپنے شرعی، عرفی معنی بخوبی جانتا ہو۔
    • اسی تفصیل کے ساتھ احادیثِ کریمہ کا بھی عالم ہو۔ مزید یہ کہ احادیثِ صحیحہ و غیر صحیحہ، ضعاف، حسان میں تمیز کی صلاحیت رکھتا ہو، نیز احادیث سے متعلق جملہ علوم پر مکمل حاوی ہو۔
    • قیاس کے طریقے جانتا ہو، نہ صرف جانتا ہو بلکہ اس کا ملکۂ تامہ رکھتا ہو، قیاسِ صحیح و فاسد میں امتیاز کی پوری مہارت رکھتا ہو۔
    • مسلمان صحیح العقیدہ ہو۔
    • تقویٰ، خداترسی، دیانت میں اعلیٰ درجے پر فائز ہو۔
    • اعلیٰ درجے کا ذہین، طباع، نکتہ رس ہو۔

    یہ کہنے کے لیے چھ شرطیں ہیں، لیکن اگر ان کی تفصیل کی جائے تو دفتر کے دفتر تیار ہو جائیں۔ اندازے کے لیے ایک جھلک دیکھ لیں:

    قرآن و حدیث کے معانیِ لغویہ و عرفیہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ عہدِ رسالت میں ان الفاظ و تراکیب کے کیا معانی تھے، اس کو کما حقہ جانے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس عہد میں اہلِ حجاز خصوصاً قریش کے کلام کا پورا ذخیرہ اس کی معلومات کے احاطے میں ہو، اور آج یہ ممکن نہیں۔ آج قریش اور اہلِ حجاز کے کلام کا جو سرمایہ موجود ہے، وہ چند اشعار اور گنتی کے مقولوں کے سوا کچھ نہیں۔ یہ شرط ضروری ہے یا نہیں، اس کا اندازہ اس واقعے سے کیجیے:

    قرآن کریم میں ایک جگہ ”لَنْ يَحُورَ“ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، جو آج ہی کے نہیں اپنے دور کے بھی سید المفسرین ہیں، فرماتے ہیں: میں اس کا معنی نہیں جانتا تھا۔ ایک دفعہ ایک بدویہ کو سنا، اپنی لڑکی سے کہہ رہی تھی: ”حُورِي“ یعنی لوٹ، تو میں نے جانا کہ اس کے معنی کیا ہیں۔

    حضرت ابن عباس حجازی قریشی ہیں، علم و فضل، ذہانت و ذکاوت میں اپنے اقران ہی نہیں، بہت سے اسلاف پر بھی فائق ہیں، مگر وہ قرآن کریم کے معنی جانتے نہیں، ان لوگوں کے دست نگر ہیں جن کی لغت میں قرآن اترا ہے، تو آج کے ما و شما، زید و عمر کیسے مستغنی ہو سکتے ہیں۔

    معانیِ لغویہ جاننے کے بعد کیا کیا دشواریاں ہیں، ان کا بھی ایک منظر ملاحظہ کریں:

    قرآن مجید نے طلاق کی عدت تین قروء بتائی ہے، ارشاد ہے:

    وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ

    ترجمہ: طلاق والیاں اپنے کو تین قروء روکے رکھیں۔ [البقرۃ: 228]

    قروء، قرء کی جمع ہے۔ قرء کے دو متضاد معنی ہیں: حیض اور طہر۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہاں طہر مراد ہے، اور امام اعظم فرماتے ہیں حیض مراد ہے۔ دونوں اپنی اپنی تاویل پر جو قرائن پیش قلم کرتے ہیں، وہ اتنے ٹھوس اور مضبوط ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اتنی نکتہ رسی اس زمانے میں محالِ عقلی نہیں تو محالِ عادی کے قریب ضرور ہے۔

    قرآن کریم کا ارشاد ہے:

    وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا

    ترجمہ: اللہ نے بیع حلال فرمائی اور سود حرام۔ [البقرۃ: 275]

    ربا کا ترجمہ سود ہے، اس کے لغوی معنی نفع کے ہیں، اور یہ قطعاً مراد نہیں، ورنہ بیع بھی حرام ہوتی۔ لامحالہ متعین ہے کہ ربا کا شرعی معنی مراد ہے۔ شرعی معنی کیا ہیں؟ یہ وہ اہم سوال ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور ربا کے ابواب کو شافی طور سے بیان نہیں فرمایا۔

    سود کے معنی کے تعین میں مجتہدین کو کتنی کدو کاوش کرنی پڑی ہے، وہ وہی جان سکتا ہے جو شروحِ حدیث، اصولِ فقہ اور فقہ کی کتابوں میں اس باب کا مطالعہ کرے۔ سود کے بارے میں وارد تمام احادیث کا استقصا، ان سب کو سامنے رکھ کر اس جامع علت کو معلوم کر لینا جو سود کی حرمت کا مدار ہے، جس کی رو سے سود دیگر بیوع سے ممتاز ہوتا ہے، پھر اس سے متعلق جزئیات کی تفصیل، یہ وہ ہفت خواں ہے کہ اگر مجتہدین نے ان سب کو طے نہ کرایا ہوتا تو آج سود اور بیع میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا، کہ قوتِ فیصلہ جواب دے جاتی۔

    پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض الفاظِ قرآنیہ کے بارے میں طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس سے مراد لغوی معنی ہیں یا شرعی، جیسے یہ آیتِ کریمہ ہے:

    إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ

    ترجمہ: یہی چیزیں تم پر اللہ نے حرام کی ہیں: مردار، خون، سور کا گوشت، اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ جو لاچار ہو اور بغیر خواہش کے ضرورت سے زیادہ نہ کھائے، اس پر کوئی گناہ نہیں۔ [البقرۃ: 173]

    یہاں ”باغٍ“ کے بارے میں سخت معرکہ ہے کہ اس کے لغوی معنی مراد ہیں یا شرعی۔ باغی کے لغوی معنی خواہش کرنے والے کے ہیں، اور شرعی معنی امام و سلطانِ عادل کی طاعت سے باہر ہونے والا۔ شوافع کہتے ہیں کہ یہاں شرعی معنی مراد ہے، احناف کہتے ہیں کہ لغوی معنی مراد ہے۔ ہر ایک کے الگ الگ دلائل ہیں۔ ان دلائل تک از خود آج کے بڑے سے بڑے عالم کی رسائی نہیں ہو سکتی، کم از کم یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔

    اس کے قریب قریب ”عَادٍ“ بھی معرکہ ہے۔ اگر مجتہدین نے ان گتھیوں کو نہ سلجھایا ہوتا تو آج کیا ہوتا، نہیں کہا جا سکتا۔

    پھر آج دیانت کا معاملہ بہت اہم ہے۔ جب کہ بندگانِ غرض نے لاکھوں حدیثیں گھڑ لیں، علما کی کتابوں میں الحاقات کر دیے، حتیٰ کہ قرآن کریم میں تبدیل و ترمیم کرنے سے نہیں چوکے، تو قرآن و احادیث کے معانی بیان کرنے میں کیا کیا گل کھلاتے، وہ ظاہر ہے۔ پھر بھی جو گل کھلائے جا رہے ہیں، وہ کم عبرت آموز نہیں۔

    ابھی جو میں نے آیتِ کریمہ لکھی ہے، اس میں یہ ہے کہ سور کا گوشت حرام ہے۔ ایک صاحب نے تحقیق کی کہ سور کی چربی حلال ہے، صرف گوشت حرام ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے تمہاری مائیں تم پر حرام ہیں، ایک صاحب نے فتویٰ دیا کہ دادی اور نانی سے نکاح حلال ہے۔

    ابھی چند دن کی بات ہے کہ ایک بزرگ، جنہیں لوگ نعمانِ زماں، جنیدِ عصر کہتے تھے، ان کی یہ کرامت مع دستاویز موجود ہے۔ ایک حدیث لوگوں کی زبان پر تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ”بخدا! میں نہیں جانتا، اس دیوار کے پیچھے کیا ہے۔“

    اس کے بارے میں حضرت محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ نے مدارج النبوۃ جلدِ اول میں فرمایا ہے:

    ”این سخن اصلی ندارد و روایت بدآں صحیح نہ شده است۔“

    ترجمہ: اس کی کوئی اصل نہیں، یہ روایت صحیح نہیں ہے۔

    ان بزرگ نے اپنے عقیدے کے اثبات میں لکھ دیا:

    ”شیخ عبد الحق روایت کرتے ہیں کہ مجھے دیوار کے پیچھے کا علم نہیں۔“

    انہی بزرگ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک سوال کے جواب میں زید کو کافر لکھ دیا، مگر جب پتا چلا کہ یہ زید ان کے بزرگ ہیں تو گول ہو گئے۔

    ابھی چند دن کی بات ہے کہ ایک بہت مشہور درسگاہ کے مفتی نے زید پر اس کی ایک عبارت سے متعلق بہت بھیانک فتویٰ دیا۔ یہ زید، کفری عبارت لکھنے والا، اس درسگاہ کا افسرِ اعلیٰ تھا۔ جب بات ظاہر ہوئی اور افسرِ اعلیٰ نے مفتی صاحب سے مواخذہ کیا تو فتویٰ تو بدل ہی گیا، معذرت بھی کرنی پڑی کہ میں نہیں جانتا تھا یہ عبارت آپ کی ہے اور آپ ہی وہ زید ہیں۔

    جب ان لوگوں کی دیانت کا یہ حال ہے، جو اس دور میں مذاہب کے ٹھیکے دار جانے جاتے ہیں، تو اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس زمانے میں کوئی شخص ان تمام علوم کا جامع بھی پیدا ہو جائے جو اجتہاد کے لیے لازم ہیں، تو کیا مذکورہ صورتِ حال میں اس کی دیانت پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ کسی کو حیرت ہو تو ہو، مگر واقعہ یہ ہے کہ جس عالم میں جتنی ہی زیادہ دینداری، خدا ترسی ہوگی، وہ اتنا ہی تقلید میں راسخ ہوگا اور اجتہاد سے بچے گا۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے، مگر اجتہاد کے لیے جن شرائط کی ضرورت ہے، وہ صدیوں سے کسی شخص میں پائی نہیں گئیں اور نہ اس دور میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے صدیوں سے مجتہد کوئی نہیں ہوا اور نہ آج ہے۔

    اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بالفرض اگر کوئی ہستی شرائطِ اجتہاد کی جامع پیدا ہو جائے تو کیا اسے بھی اجتہاد کی اجازت نہ ہوگی؟

    جواب ظاہر ہے کہ یہی ہوگا کہ اسے اجتہاد کی اجازت ہے۔ یہی نہیں، اسے تقلید جائز نہ ہوگی، مگر کام فرض سے نہیں چلتا، وقوع سے چلتا ہے، اور وقوع کا مسئلہ لاینحل ہے۔ اگر کوئی ادعا کرے یا کسی کے بارے میں دوسرا کوئی دعویٰ کرے تو اس وقت انگلی پکڑ کے بتا دیا جائے گا کہ دیکھیے، ان میں یہ کمی ہے، یہ کمی ہے۔

    آج کل کچھ لوگوں کو اس کا خبط ہوا ہے کہ میں مجتہد ہوں یا ہمارا فلاں بزرگ مجتہد ہے، لیکن جب ان لوگوں کے اجتہادی مسائل سامنے آئے تو پتا چلا کہ اجتہاد کی منزل تو بہت دور ہے، یہ لوگ مترجم ہونے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    لطیفے کے طور پر ایک اجتہاد کا نظارہ کر لیں:

    ان مجتہدین نے دعویٰ کیا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ اگر پانی میں نجاست گر جائے تو جب تک نجاست سے پانی کا رنگ یا مزہ یا بو نہ بدلے، پانی پاک ہے۔ اب ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جو ان مجتہدینِ زمانہ کو بھی تسلیم ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو برتن ناپاک ہے۔ فرض کیجیے ایک برتن میں پانی ہے، اس میں کتے نے منہ ڈال دیا ہے، منہ ڈالتے ہی کسی کی دھتکار پر کتا بھاگ گیا۔ تجربہ کر لیں، اس برتن کے پانی کا نہ رنگ بدلے گا، نہ مزہ بدلے گا، نہ بو۔ مذکورہ بالا اجتہاد کی رو سے پانی پاک رہا، مگر برتن ناپاک۔ اس قسم کے بے شمار لطائف ان مجتہدین کے ہیں۔

    کون سا مسلمان یہ پسند کرے گا کہ اجتہاد کی آزادی دے کر اسلامی احکام کو لطائف و ظرائف کا ایسا میگزین بنا دیا جائے کہ عظیم بیگ چغتائی اور شوکت تھانوی کے جانشینوں کو اپنی طرزِ نگارش کے لیے احکام ہی بہترین مواد ہوں۔ وجوہِ مذکورہ بالا کی بنا پر صدیوں سے پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ اب اجتہاد کی کسی کو اجازت نہیں۔ سب پر ائمۂ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید لازم ہے۔

  1. نہیں۔

  1. اجتہاد کے سوا عرفی منطقی فکر کے احیا کی ضرورت شدید ہی نہیں، اشد ہے۔

  1. مندرجہ ذیل امور ہماری فکرِ نو کی حدود سے باہر ہیں:

    • جو باتیں قرآن مجید سے ثابت ہیں۔
    • جو باتیں احادیث سے ثابت ہیں۔
    • جو باتیں اجماعِ امت سے ثابت ہیں۔
    • جو باتیں ائمۂ اربعہ، امام اعظم، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل یا ان کے جانشینوں کے ارشادات سے ثابت ہیں۔

    ان کو چھوڑ کر ہزاروں مسائل ہیں جن پر غور کرنا ہے، جنہیں حل کرنا ہے۔ سیاسیات، اقتصادیات، معاشیات وغیرہ متعدد راہیں ہیں جو ہماری فکرِ نو کی منتظر ہیں۔

  1. بہت لمبی داستان ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اس راہ میں آپس میں اختلاف، اپنی خود غرضی، کچھ سستی، کچھ کاہلی، کچھ نااہلی، کچھ اسباب کی عدم فراہمی، کچھ اغیار کا دباؤ وہ اسباب ہیں جو رکاوٹ ہیں۔ اگر ہمت کر کے آگے بڑھا جائے تو ضرور کچھ دشوار گزار مرحلے درپیش ہوں گے، لیکن ان کا دور کرنا محال نہیں ہوگا، اگرچہ سخت مشکل مگر؎

    مشکلے نیست کہ آساں نہ شود

[مقالات شارح بخاری، ص: 270 تا 279]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!