کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بندہ اس سے افضل دعا نہیں مانگتا

بندہ اس سے افضل دعا نہیں مانگتا
عنوان: بندہ اس سے افضل دعا نہیں مانگتا
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

بندہ اس سے افضل دعا نہیں مانگتا!

سب سے افضل دعا کو ذکر کرنے سے قبل ایک واقعہ تقریبِ فہم کے لیے سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے۔

میں نے عافیت کا سوال نہیں کیا تھا:

امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے جب حفظِ قرآن مکمل کر لیا، تو ان کے دل میں تحصیلِ احادیثِ نبویہ کی خواہش اجاگر ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ جب حدیثِ نبوی سیکھنے میں مشغول ہوئے، تو آپ نے محسوس کیا کہ قرآنِ کریم جو آپ نے حفظ کیا تھا اس میں کچھ کمزوری آ گئی ہے، وہ پختگی جو ابتدا میں تھی وہ اب نہیں ہے۔ تو آپ بارگاہِ خداوندِ متعال میں یوں دعا گو ہوئے: ”اے ربِ کریم! میرے حفظِ قرآن میں مضبوطی اور استحکام عطا فرما۔“

اب ذرا غور سے پڑھیے! آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ دعا تو قبول ہوئی، لیکن اس کی صورت یوں بنی کہ مجھے جیل میں خلقِ قرآن کے مسئلے کو لے کر قید کر دیا گیا، تو اسی دوران میں نے اپنے حفظ کو مضبوط کر لیا۔ آپ علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں: چونکہ میں نے دعا میں صرف اتنا کہا تھا: ”اے اللہ پاک! میرا حفظ مضبوط فرما دے“، اس دعا میں، میں نے ربِ کریم سے عافیت نہیں طلب کی تھی۔ اسی لیے میرے حفظ کی مضبوطی کی صورت تو بنی، لیکن عافیت والی نہیں بلکہ مجھے جیل میں قید کر دیا گیا اور یوں میرا حفظ مضبوط ہو گیا۔

امام احمد بن حنبل اور ہم سب کو نصیحت:

اب آپ علیہ الرحمہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرو تو ساتھ میں عافیت بھی مانگا کرو۔ یعنی یوں دعا کیا کرو کہ: ”اے اللہ پاک! میرا حفظِ قرآن عافیت کے ساتھ مضبوط و مستحکم بنا۔“ [مخلصاً مدنی مذاکرہ، 8 فروری 2026ء]

اب آئیے! اس دعا کو نوکِ قلم کیا جاتا ہے جس کو نبیِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سب سے افضل دعا قرار دیا ہے۔

حدیث میں وارد دعائے عافیت اور افضل دعا:

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ اس سے افضل کوئی دعا نہیں مانگتا:

اللّٰهُمَّ اِنّى أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

ترجمہ: ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ [ابن ماجہ، ج: 4، ص: 273، حدیث: 3851]

امیرِ اہلِ سنت اور دعائے مذکور:

امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے بھی کل 8 فروری 2026ء کے مدنی مذاکرے میں یہ دعا یاد کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔ اب ہم مریدین، معتقدین اور محبین کے لیے تو پیر کا فرمان ہی عمل کرنے کے لیے کافی ہے۔

قارئینِ ذی وقار!

ہم میں کون ہے جو دعا نہ مانگتا ہو، لیکن شاید ہی ہم میں کوئی ایسا بھی ہوگا جو اپنی دعاؤں میں عافیت کا سوال کرتا ہو۔ قارئینِ ذی اکرام! ہمیں بھی چاہیے کہ دعائے سابق یاد کر لیں اور اپنی ہر دعا میں اس کو شامل رکھیں۔ اللہ پاک ہمیں اپنی ہر دعا میں عافیت کا سوال کرنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!