| عنوان: | علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ — ایک عظیم شخصیت |
|---|---|
| تحریر: | ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی |
نام و نسب
آپ کا اسمِ گرامی "فضل رسول" ہے۔ آپ کے القابات میں امام العلماء المحققین، مقدام الفضلاء المدققین، زبدۃ المفسرین، عمدۃ المحدثین، کشّاف حقائق المعقول والمنقول، حلّال دقائق الفروع والأصول، سیف اللہ المسلول، معین الحق اور مفتیِ اعظم ہند شامل ہیں۔
آپ کا سلسلۂ نسب کچھ اس طرح ہے:
"شاہ فضل رسول بن شاہ عین الحق بن شاہ عبد الحمید بن شاہ عبد المجید بدایونی" علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا سلسلۂ نسب والدِ ماجد کی طرف سے اسلام کے تیسرے خلیفہ، ذو النورین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے، اسی نسبت سے آپ ”عثمانی“ بھی کہلاتے ہیں۔ اور والدہ محترمہ کی طرف سے یہ سلسلہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جا ملتا ہے۔
ولادتِ باسعادت
علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ولادت صفر المظفر 1213ھ مطابق 1798ء میں ہند کے صوبہ اتر پردیش کے شہر بدایوں میں ہوئی۔
آپ کے والدِ محترم حضرت علامہ شاہ عین الحق علیہ الرحمہ کے ہاں مسلسل صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، لہٰذا والدہ محترمہ آپ کے والد سے کہا کرتی تھیں کہ حضور مرشدِ برحق حضرت شاہ آلِ احمد اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں فرزندِ نرینہ کی دعا کروائیے، مگر آپ کے والدِ محترم ادب کا لحاظ کرتے ہوئے کبھی دعا کے لیے نہ کہہ پاتے تھے۔ ایک بار خود حضور اچھے میاں علیہ الرحمہ نے بیٹے کی ولادت کی بشارت دی تو آپ کی ولادت ہوئی۔ انہی کے ارشاد کے مطابق ”فضل رسول “ نام رکھا گیا۔ دادا بزرگوار حضرت شاہ عبد الحمید بدایونی علیہ الرحمہ نے آپ کا تاریخی نام ”ظہورِ محمدی“رکھا۔
تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم اپنے جدِ امجد حضرت علامہ شاہ عبد الحمید بدایونی علیہ الرحمہ اور والدِ محترم حضرت شاہ عین الحق بدایونی علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے شاہجہاں پور ہوتے ہوئے پیدل ہی لکھنؤ روانہ ہو گئے، اور مسلسل چار دن کا سفر کر کے وہاں پہنچ کر صاحبِ فواتح الرحموت، بحر العلوم علامہ عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ (متوفی: 1235ھ) کے شاگردِ رشید علامہ نور الحق فرنگی محلی علیہ الرحمہ (متوفی: 1283ھ) سے تین سال تک شرفِ تلمذ سے مشرف ہوئے۔
اس کے بعد استاذِ محترم کے حکم پر حضرت شیخ العالم مخدوم احمد عبد الحق ردولوی علیہ الرحمہ کے عرس میں لکھنؤ اور فیض آباد کے درمیان واقع ”ردولی“ حاضر ہوئے۔
دینی خدمات
ہندوستان میں تحریکِ وہابیت کا تفصیل کے ساتھ رد کرنے والے سب سے پہلے آپ ہی ہیں۔ آپ نے اپنے زمانے میں اٹھنے والے ہر فتنے کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اردو، عربی اور فارسی میں تصنیفات کا سلسلہ دراز کر کے تحفظِ ناموسِ رسالت کا اہم فریضہ انجام دیا۔
عرب و عجم میں آپ کے مریدین کثرت سے ہوئے۔ اسی طرح دکن میں کثیر وہابیہ و شیعہ آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہو کر شرفِ بیعت سے مشرف ہوئے، اور ایک بڑی تعداد میں مشرکین نے بھی آپ کی ہدایت و برکت سے اسلام قبول کیا۔
تصنیفی خدمات
آپ کی تصنیفات اپنی مثال آپ ہیں، جنہوں نے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلانے کے ساتھ ساتھ تصلب فی الدین میں انتہائی مضبوطی فراہم کی۔ ذیل میں آپ کی چند مایہ ناز کتابوں کے نام پیش کیے جاتے ہیں:
- سیف الجبار
- البوارق المحمدیۃ لرجم الشیاطین النجدیۃ
- تصحیح المسائل
- المعتقد المنتقد
- فوز المؤمنین بشفاعۃ الشافعین
- إحقاق الحق
- شرح فصوص الحکم
- الإکمال في بحث شد الرحال
- کلام الفاضل الکبیر علی أہل التکفیر
- تبکیت النجدي
سفرِ حرمین طیبین
آپ علیہ الرحمہ نے دو بار حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔
آپ نے پہلا حج دہلی سے پیدل کیا تھا۔ اسی حج کے دوران حضرت علامہ محمد عابد سندھی مہاجر مدنی علیہ الرحمہ (متوفی: 1257ھ) سے سندِ حدیث حاصل کی، اور ساتھ ہی مکی عالمِ دین حضرت علامہ عبد اللہ سراج مکی نے خود آپ کو مکۂ مکرمہ میں سندِ حدیث عطا فرمائی۔
دوسرا حج اپنے والدِ محترم حضرت علامہ شاہ عین الحق علیہ الرحمہ کے ساتھ کرنے کی سعادت حاصل کی، اسی سفرِ حج میں آپ کو ”معین الحق“ کے لقب سے سرفراز کیا گیا۔
علمائے کرام کے خراجِ تحسین
بطلِ حریت، استاذِ مطلق، علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی: 1278ھ) ”المعتقد المنتقد“ پر تقریظ لکھتے ہوئے آپ کے لیے یوں رقم طراز ہیں:
”مَوْلَانَا الْأَوْدَعُ الْأَوْرَعُ، الْبَارِعُ الْمُتَبَرِّعُ، الْفَارِعُ الْمُتَفَرِّعُ، الضَّارِعُ الْمُتَضَرِّعُ، ذُو الْمَنَاقِبِ الثَّوَاقِبِ الْجَلِيلَةِ، وَالْأَنْظَارِ الثَّوَاقِبِ الدَّقِيقَةِ، الْجَامِعُ بَيْنَ الْعُلُومِ الْعَقْلِيَّةِ وَالنَّقْلِيَّةِ وَمَعَارِفِ الشَّرِيعَةِ وَالْحَقِيقَةِ، طَلَّاعُ الثَّنَايَا وَالنِّجَادِ، ذَائِعُ الصَّيْتِ فِي أَنْجَادِ الْحَقِّ وَفَلِّ قَرْنٍ طَلَعَ مِنَ النَّجْدِ فِي الْأَغْوَارِ وَالْأَنْجَادِ، الْعَرِيفُ الْعَرِّيفُ، الشَّرِيفُ الْغِطْرِيفُ، الصَّفِيُّ الْخَفِيُّ، الْحَصِيُّ الْحَفِيُّ، مَوْلَانَا الْمَوْلَوِي فَضْلُ الرَّسُولِ الْقَادِرِيُّ الْحَنَفِيُّ. مَتَّعَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِينَ بِطُولِ بَقَائِهِ وَصَانَهُ فِي حِرْزِهِ وَوِقَائِهِ، وَجَعَلَ خَيْرَ أَيَّامِهِ يَوْمَ لِقَائِهِ.“
برہان الحق والدین، صدر الصدور، علامہ مفتی صدر الدین آزردہ علیہ الرحمہ (متوفی: 1285ھ) آپ کے اوصاف کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں:
”الْحِبْرُ الْمُدَقِّقُ، النِّحْرِيرُ الْمُحَقِّقُ، الْفَاضِلُ الْكَامِلُ، الْعَالِمُ الْفَائِقُ، الْبَحْرُ الْخِضَمُّ، الْأَلْمَعِيُّ اللَّوْذَعِيُّ، الْأَحْوَذِيُّ الْأَصْمَعِيُّ، مَوْلَانَا الْمَوْلَوِي فَضْلُ الرَّسُولِ الْبَدَايُونِيُّ الْقُرَشِيُّ الْقَادِرِيُّ.“
حجۃ الخلف، بقیۃ السلف، علامہ احمد سعید مجددی نقشبندی رامپوری علیہ الرحمہ (متوفی: 1277ھ) تحریر فرماتے ہیں:
”الْفَاضِلُ الْكَامِلُ، الْعَالِمُ الْعَامِلُ، الَّذِي هُوَ جَلِيلُ الشَّأْنِ، الْجَامِعُ بَيْنَ الْمَعْقُولِ وَالْمَنْقُولِ وَالْمَعَانِي وَالْبَيَانِ، وَالْحَاوِي لِعُلُومِ الْأَدْيَانِ، مَوْلَانَا وَبِالْفَضْلِ أَوْلَانَا، الْمَوْلَوِي فَضْلُ الرَّسُولِ الْقَادِرِيُّ.“
جامعِ معقول و منقول، علامہ حیدر علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”الْعَلَّامَةُ الَّذِي لَمْ يُوجَدْ نَظِيرُهُ فِي الْعَالَمِينَ، وَهُوَ إِمَامُ الْعَارِفِينَ، وَنِظَامُ الْعَابِدِينَ، الْمُسْتَغْنِي عَنِ التَّوْصِيفِ وَالتَّبْيِينِ، مَوْلَانَا جَامِعُ الْمَعْقُولِ وَالْمَنْقُولِ، حَاوِي الْفُرُوعِ وَالْأُصُولِ، وَمُقْتَدَانَا الْمُقَدَّسُ الْمَقْبُولُ، كَيْفَ لَا وَهُوَ فَضْلُ الرَّسُولِ. أَيَّدَ اللّٰهُ الْمُسْلِمِينَ بِطُولِ بَقَائِهِ وَشُهْرَةِ إِفَادَاتِهِ وَكَسْرِ ظُهُورِ الْمُتَبَدِّعِينَ بِمُؤَلَّفَاتِهِ.“
امامِ اہلِ سنت، سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ (متوفی: 1340ھ) آپ کی شان میں یوں مدح سرا ہیں:
”خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ، عُمْدَةُ الْمُدَقِّقِينَ، سَيْفُ الْإِسْلَامِ، أَسَدُ السُّنَّةِ، حَتْفُ الظَّلَامِ، سَدُّ الْفِتْنَةِ، مَوْلَانَا الْأَجَلُّ الْأَبْجَلُ، السَّيْفُ الْمَسْلُولُ، مُعِينُ الْحَقِّ، فَضْلُ الرَّسُولِ، السُّنِّيُّ الْحَنَفِيُّ الْقَادِرِيُّ الْبَرَكَاتِيُّ الْعُثْمَانِيُّ الْبَدَايُونِيُّ. أَعْلَى اللّٰهُ مَقَامَهُ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ، وَجَزَاهُ جَزَاءَ الْخَيْرِ الْأَوْفَى عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ.“
وصال
بروز جمعرات 2 جمادی الاولیٰ 1289ھ کو آپ دنیائے فانی سے رخصت ہوئے، اور بروز جمعہ بعد نمازِ مغرب ہزاروں افراد نے نمازِ جنازہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ کا مزارِ مبارک درگاہِ قادریہ، بدایوں میں زیارت گاہِ خواص و عوام ہے۔
مآخذ و مراجع:
- علامہ رضی الدین فرشوری: تذکرۃ الواصلین، ص: 250 (مطبوعہ: نظامی پریس، بدایوں)
- الامام احمد رضا: المعتمد المستند، دیباجہ، ص: 1–8 (مطبوعہ: المجمع الإسلامي، مبارکپور، ہند)
- علامہ محمود احمد قادری: تذکرۂ علمائے اہلِ سنت، ص: 208–210 (مطبوعہ: سنی دار الاشاعت علویہ رضویہ، فیصل آباد)
