کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تکبر کی قرآنی مذمت

تکبر کی قرآنی مذمت
عنوان: تکبر کی قرآنی مذمت
تحریر: محمد عاشق رضا برکاتی

تکبر ایک انتہائی قبیح عمل ہے جو بندے کے اعمال کو برباد کر دیتا ہے اور اس کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ تکبر حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ تکبر کرنے کی وجہ سے بندے کی آخرت تو برباد ہوتی ہی ہے، دنیا میں بھی اللہ پاک اسے رسوا فرما دیتا ہے، کیونکہ کبریائی صرف اللہ پاک کی شان ہے نہ کہ عاجز و کمزور بندے کی۔ تکبر کرنے والے کو اللہ عزوجل پسند نہیں فرماتا۔

چنانچہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:

اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان: ”بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔“ [سورۃ النحل: 23]

یہ آیت بھی اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ تکبر اللہ پاک کو پسند نہیں ہے۔ قرآنِ پاک میں مختلف جگہوں پر اس کی مذمت اور اس کا ہلاکت خیز انجام بیان کیا گیا ہے۔

چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ

ترجمہ کنز العرفان: ”بیشک اللہ کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔“ [سورۂ لقمان: 18]

اور ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ

ترجمہ کنز العرفان: ”بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں جائیں گے۔“ [سورۂ المؤمن: 60]

اسی طرح قرآنِ پاک میں ان قوموں کی ہلاکت اور ان کے انجام کو بھی بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا اور تکبر کیا۔ انہی قوموں میں سے قومِ عاد بھی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ؕ

ترجمہ کنز الایمان: ”تو وہ جو عاد تھے، انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور۔“ [سورۂ حٰمٓ السجدۃ: 15]

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ، مفسرِ قرآن، مصنفِ کتبِ کثیرہ، مفتیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ ”تفسیر صراط الجنان“ میں ”تفسیر خازن“ اور ”تفسیر روح البیان“ کے حوالے سے نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

”قومِ عاد کے لوگ بڑے طاقتور اور شہ زور تھے، لیکن اس کے ساتھ ناحق تکبر بھی کیا کرتے تھے۔ جب حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے اپنی قوت پر غرور کرتے ہوئے کہا: ’ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں اور اگر عذاب آیا تو ہم اسے اپنی طاقت سے ہٹا سکتے ہیں۔‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا یہ لوگ غافل ہیں اور ان لوگوں نے اس بات کا مشاہدہ نہیں کیا کہ جس اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے، وہ ان سے زیادہ قوت والا اور قدرت والا ہے۔“

قومِ عاد کا تکبر اور عبرتناک انجام:

قومِ عاد تکبر و سرکشی کے باعث ہلاک و برباد ہو گئی۔ آخرت تو ان کی برباد ہو ہی گئی، دنیا میں بھی انہیں عبرت کا نشانہ بنا دیا گیا۔ چنانچہ قومِ عاد کا مختصراً واقعہ کچھ یوں ہے کہ قومِ عاد احقاف میں رہتی تھی۔ احقاف، عمان اور حضر موت کے درمیان علاقۂ یمن میں ایک ریگستان ہے۔ قومِ عاد نے زمین کو فسق سے بھر دیا تھا۔ یہ لوگ بت پرست تھے، ان کے ایک بت کا نام ”صُدَاء“، ایک کا ”صُمُوْد“ اور ایک کا ”ہَبَاء“ تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ان میں حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ آپ نے انہیں توحید کا حکم دیا، شرک و

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!