کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

احترامِ والدین

احترامِ والدین
عنوان: احترامِ والدین
تحریر: خدیجہ خاتون
پیش کش: جامعہ اہلِ سنت امداد العلوم سدھارتھ نگر، یوپی

والدین ربِ کریم کی عطا کردہ ایسی عظیم نعمت ہیں کہ دنیا کی تمام نعمتیں مل کر بھی اس نعمت کا بدل نہیں ہو سکتیں۔ والدین دل کا سکون، روح کی راحت، جگر کا چین، آنکھوں کی ٹھنڈک، وجہِ فرحت و انبساط اور غم و الم کے وقت میں بہترین غمگسار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو اولاد کی خوشیوں میں ان سے زیادہ خوش اور ان کی تکلیفوں میں ان سے زیادہ رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ زندگی میں والدین کی موجودگی گویا ہر ایک نعمت کی موجودگی ہے اور زیست میں ان کے نہ ہونے کا تصور ہی اندھیرا، تکلیف، مایوسی اور ہر چہار جانب سے ٹھوکریں کھانے کا سبب نظر آتا ہے۔ یعنی والدین زندگی کی بہار اور گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک نبی کی دعا اس کی امت کے حق میں ربِ کریم قبول فرماتا ہے، یوں ہی والدین کی دعا ان کی اولاد کے حق میں قبول فرماتا ہے۔ دنیا میں آنے والا ہر فرد والدین کے احسان تلے دبا ہوا ہے۔ یہ دونوں وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کا ادب و احترام بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر انسان لازم سمجھتا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ایسا نہیں جو والدین کے ادب و احترام کا قائل نہ ہو۔

چونکہ ہم مسلمان ہیں، اور مذہبِ اسلام پر عمل اور اس کے تمام احکام کی بجا آوری ہم پر لازم ہے۔ اس طور پر جب ہم مذہبِ مقدس کی تعلیمات میں والدین کے حقوق کے متعلق جستجو کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنے مقدس کلام میں سات مقامات پر صراحت کے ساتھ اپنی وحدانیت کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اور متعدد مقامات پر بالواسطہ اور مفہومی انداز میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی فرماں برداری کا حکم دیا ہے۔

سورۂ بنی اسرائیل، آیت نمبر 23 اور 24 میں خالقِ کائنات نے ارشاد فرمایا:

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاْہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلَاھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَآ قَوْلًا کَرِیْمًا ؕ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ؕ

ترجمہ کنز العرفان: ”اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ’ہوں‘ نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔“

ان آیاتِ بینات میں واضح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ والدین کی بارگاہ میں ادب سے پیش آؤ، ان سے اس طرح کلام کرو جیسے کوئی خادم اپنے آقا سے کرتا ہے۔ ان کے ہر حکم کو ان کی زبان سے نکلتے ہی بجا لاؤ۔ خلافِ شرع کاموں کے علاوہ ہر کام میں والدین کی رضا و خوشنودی کو ملحوظِ خاطر رکھو۔ تم کتنی ہی ان کی خدمت کر لو، ان کے احسان کا بدلہ پورا نہیں کر سکتے، اس لیے ان دونوں کے لیے دعا کرنا اپنے معمولات میں شامل کرو۔

والیِ دو جہاں، سیدِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے متعدد احادیث میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی فرماں برداری کا حکم ارشاد فرمایا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم، سب سے زیادہ حسنِ صحبت (حسنِ سلوک) کا مستحق کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ (یعنی تمہاری ماں کا حق سب سے زیادہ ہے)۔ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ ارشاد فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ۔“ [بہارِ شریعت، حصہ شانزدہم، ص: 554]

ایک اور حدیث میں والدین کی عظمت و احترام سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اولاد اپنے والدین کی طرف نظرِ رحمت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حجِ مبرور کا ثواب لکھتا ہے۔“ صحابہ نے عرض ک: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اگرچہ دن میں سو مرتبہ نظر کرے؟ ارشاد فرمایا: ”ہاں! اللہ عزوجل بڑا ہے، اطیب ہے۔“ (یعنی اسے سب کچھ قدرت ہے، اس سے پاک ہے کہ اسے دینے سے عاجز کہا جائے)۔ [بہارِ شریعت، حصہ شانزدہم، ص: 557]

اس کے علاوہ بھی کئی احادیثِ مبارکہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے والدین کے ادب و احترام کو اجاگر فرمایا، والدین کی ناشکری و نافرمانی کو گناہِ کبیرہ شمار فرمایا اور ان کی بے ادبی پر شدید ترین وعیدیں بھی ارشاد فرمائیں۔

والدین کی قربانیاں:

والدین خصوصاً والدہ کی ذات ہے جس نے ہمیں اس دنیا میں لانے کے لیے کس قدر تکالیف برداشت کی ہیں۔ حمل، ولادت اور تربیت میں جو دشواریاں وہ اٹھاتی ہے اس کا احسان چکانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ والد اپنی محنت و مشقت کی کمائی سے اولاد کی تربیت کرتا ہے۔ تعلیم و تربیت میں والدین جو کردار ادا کرتے ہیں، ساری زندگی ہم ان کی خدمت و اطاعت کر کے بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ والدین کا جس قدر شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔

ان کی اطاعت و فرماں برداری اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضا و خوشنودی کا سبب ہے، اور ان کی فرماں برداری اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک رزق و عمر میں اضافے کا باعث ہے۔ ان کی دعائیں ہر بلا و مصیبت سے مضبوط آڑ ہیں، ان کا سایہ اولاد کے سر پر اللہ عزوجل کی رحمت ہے، اور ان کی موجودگی اولاد کے لیے ہر چین و سکون کا باعث ہے۔ غرضیکہ والدین وہ تناور درخت ہیں جس کی چھاؤں میں اولاد پرسکون سانس لیتی ہے، اور بہترین زندگی گزارتی ہے۔

اس کے برخلاف والدین کی نافرمانی اللہ و رسول کی ناراضگی اور عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کی وجہ ہے، ان کے ساتھ بدسلوکی دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی کا ذریعہ ہے، اور ان کی دل آزاری تنگیِ رزق کا سامان ہے۔ دنیا کی زندگی میں والدین کی دعاؤں کے بغیر جینا گویا لق و دق صحرا میں بے یار و مددگار بھوکا پیاسا رہنا ہے۔

مولیٰ کریم کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ربِ کائنات ہمیں والدین کی طاعت و فرماں برداری کی توفیق عطا فرمائے۔ انہیں راضی رکھنے اور ان سے راضی رہنے والا دل عطا فرمائے۔ اپنے پیارے حبیب کے صدقے میرے والدین کو صحت و عافیت کے ساتھ درازیِ عمر بالخیر عطا فرمائے۔ ان دونوں کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

9 رجب المرجب 1447ھ / 30 دسمبر 2025ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!