| عنوان: | فیضانِ شعبان المعظم |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضانِ مفتی اعظم ہند، شاہجہاں پور |
شعبان المعظم باعتبارِ ماہِ اسلامی آٹھواں مہینہ ہے، جو ہر سال رجب المرجب اور رمضان المبارک کے درمیان آتا ہے۔
حضرت ابو معمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ماہِ شعبان نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے رب! تو نے مجھے دو عظمت والے مہینوں (رجب اور رمضان) کے درمیان رکھا ہے، تو تو نے میری کیا فضیلت رکھی؟ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میں نے تجھ میں قرآنِ پاک کی تلاوت رکھ دی۔“ [الامالی المطلقۃ، ص: 125]
وجہِ تسمیہ:
شعبان، شِعْبٌ سے ماخوذ ہے جس کا معنی گھاٹی ہے، چونکہ اس مہینے میں خیر و عافیت کا نزول ہوتا ہے، اسی لیے اسے شعبان کہا جاتا ہے۔ جس طرح گھاٹی پہاڑ کا راستہ ہوتی ہے اسی طرح یہ مہینہ خیر و برکت کا راستہ ہے۔ [مکاشفۃ القلوب، ص: 303]
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”اس مہینے کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ رکھنے والے کے لیے بہت سی بھلائیاں (شاخوں کی طرح) پھوٹتی ہیں یہاں تک کہ وہ جنت میں جا پہنچتا ہے۔“ [التدوین فی اخبار قزوین، ج: 1، ص: 153]
- حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ماہِ شعبان آتا تو مسلمان قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کر دیتے تاکہ کمزوروں اور مسکینوں کو بھی رمضان کے روزوں کی طاقت ملے۔“ [ماذا فی شعبان، ص: 44]
- حضرت سلمہ بن کہیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ماہِ شعبان کو تلاوتِ قرآن کرنے والوں کا مہینہ کہا جاتا تھا۔“
- حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ آمدِ شعبان پر اپنی دکان بند کر دیتے اور تلاوتِ قرآنِ کریم کے لیے فارغ ہو جاتے۔ [ماذا فی شعبان، ص: 44]
ماہِ شعبان المعظم چونکہ رمضان المبارک سے قبل آتا ہے تو جس طرح ماہِ رمضان میں روزے اور تلاوتِ قرآن کا حکم ہے، اسی طرح ماہِ شعبان میں بھی اس کی بڑی اہمیت ہے کہ لوگ اس ماہ میں روزوں، تلاوتِ قرآن، عبادتوں و اذکار اور نیکیوں کا اہتمام کریں۔
اس عظمت والے مہینے کی اہمیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس بارے میں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي“ یعنی ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب اس بابرکت مہینے میں روزے، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادتوں میں مشغول رہیں۔ مولیٰ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس ماہ میں ہم سب کو مذکورہ امور پر استقامت نصیب فرمائے۔
براءت دے عذابِ قبر سے نارِ جہنم سے
مہِ شعبان کے صدقے میں کر فضل و کرم مولیٰ
