| عنوان: | بد مذہبوں کا رد کیجیے |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
آج کے دورِ فتن میں معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے ہیں جو علمائے کرام کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ گمراہ سوچ رکھنے والوں کی غلطیوں کی نشاندہی نہ کریں، ان کے عقائد کا علمی جائزہ نہ لیں، اور جو بات غلط ہے اسے غلط نہ کہیں بلکہ جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ کسی بد عقیدہ شخص کو نماز پڑھتے یا تلاوتِ قرآن کرتے دیکھ کر فوراً یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں کہ ”سب ہی حق پر ہیں“ اور ”سب ٹھیک ہے“۔
یہ طرزِ فکر دراصل دین کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرنا اہلِ سنت کا ہمیشہ سے امتیازی وصف رہا ہے۔ باطل کو حق کا لباس پہنانا نہ صرف گمراہی کو تقویت دیتا ہے بلکہ عوام کو دھوکے میں مبتلا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے میں آج اس موضوع پر چند سطور لکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں کہ بد عقیدہ نظریات اور گمراہ فرقوں کا علمی و اصولی رد کرنا کیوں ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ.
ترجمہ: ”اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔“ [الانعام: 68]
”ظالمین“ سے مراد صرف ظاہری ظلم کرنے والے نہیں، دینی ظلم کرنے والے بھی ہیں۔ قرآنِ کریم میں سب سے بڑا ظلم شرک اور ایمان و عقیدہ میں بگاڑ کو کہا گیا ہے: ”إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ“۔ لہٰذا عقیدے میں گمراہی پھیلانے والے، سنت کے خلاف بدعات گھڑنے والے، دین کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے والے، یہ سب ”قومِ ظالمین“ کے حکم میں داخل ہیں۔ قرآن بد مذہبوں کا رد کر رہا ہے، قرآن ان کے پاس بیٹھنے سے منع کر رہا ہے۔ تو ہم بھی اسی قرآنی راستے پر چلتے ہوئے اپنی قوم کو سمجھائیں، انہیں بد مذہب سے دور کریں، اور بے خوف ہو کر حق کا دفاع کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ.
ترجمہ: ”تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔“ [صحیح مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء، ج: 1، ص: 33، مطبوعہ لاہور]
حدیثِ پاک اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ باطل کا رد کرنا ضروری ہے، کیونکہ: گمراہی سے بچانے کے لیے رد واجب ہے، فتنہ سے روکنے کے لیے رد ضروری ہے، دوسروں کے ایمان کی حفاظت کے لیے رد لازم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قدریہ کے بارے میں فرمایا:
فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ، فَإِنَّهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
ترجمہ: ”پس جب تم ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو اور اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں شرکت نہ کرو کیونکہ وہ دجال کا گروہ ہیں اور اس امت کے مجوس ہیں۔“ [مسند الامام الاعظم، ص: 70]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ: بد عقیدہ کے ساتھ تعلق ختم کرنا واجب ہے، ان کی گمراہی کو واضح کرنا سنتِ نبوی ہے، امت کو ان کے شر سے بچانا فرض ہے، ان کے باطل عقائد پر خاموش رہنا ایمان کے لیے خطرہ ہے، لہٰذا باطل کا رد کرنا صرف اجازت نہیں بلکہ شرعاً ضرورت اور سنت ہے۔
ایک اور روایت پیشِ خدمت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال فرمانے پر بعض لوگ اسلام کے سارے احکام کے منکر ہو کر مرتد ہو گئے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ یعنی اس کی فرضیت کے منکر ہو گئے اور زکوٰۃ کی فرضیت چونکہ نصِ قطعی سے ثابت ہے تو اس کے منکر ہو کر وہ بھی مرتد ہو گئے۔ اسی لیے شارحینِ حدیث و فقہائے کرام مانعینِ زکوٰۃ کو بھی مرتدین میں شمار کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے جہاد کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے کہا کہ اس وقت منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا مناسب نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! اگر وہ لوگ ایک رسی یا بکری کا ایک بچہ بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ دیا کرتے تھے اور اب اس کے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔“
پھر آپ رضی اللہ عنہ مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر اعراب کی طرف نکل پڑے اور جب وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو آپ امیرِ لشکر بنا کر واپس آ گئے، انہوں نے اعراب کو جگہ جگہ گھیرا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر جگہ فتح عطا فرمائی۔ اب صحابہ کرام خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی رائے کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ”خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ حق ہے۔“ [صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ... الخ، الحدیث: 32]
اور واقعتاً یہی حقیقت ہے کہ اگر اس وقت منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی نہ کی جاتی اور انہیں کھلی آزادی دے دی جاتی، تو نتیجہ یہ ہوتا کہ کچھ لوگ نماز کے بھی منکر بن جاتے، بعض روزے کا انکار کر دیتے، اور کچھ لوگ دین کی دوسری ضروری اور بنیادی باتوں کو بھی جھٹلانے لگتے۔ یوں اسلام، جو اپنی ہیبت، شان و عظمت اور مضبوط نظام کے ساتھ قائم تھا، کمزور ہو جاتا، اس کا وقار مجروح ہوتا، اور پورا دینی ڈھانچہ انتشار کا شکار ہو کر کھیل تماشا بن جاتا۔
یہاں سے مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر حال میں حق کا ساتھ دیں اور باطل کی مخالفت میں کبھی سستی نہ کریں۔ جو قوم باطل کی مخالفت میں کمزور پڑ جائے، وہ جلد تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ آج کے دور میں بھی کچھ سادہ لوگ باطل فرقوں کے رد سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت داخلی اختلافات کو موقوف رکھا جائے۔ لیکن انہیں چاہیے کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے طریقِ عمل سے سبق لیں۔ آپ نے انتہائی نازک دور میں بھی باطل کی سرکوبی میں کوئی توقف نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس، پوری قوت و استقامت کے ساتھ اسلام کے دشمن عناصر کا مقابلہ کیا۔
جو گروہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے وجود میں آئے ہیں، ان سے غفلت برتنا درحقیقت خود اسلام کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا باطل کے خلاف کھڑے ہونا اور اس کی جڑ کاٹ دینا امتِ مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ صرف زبانی کلمہ پڑھ لینا یا بظاہر نماز ادا کر لینا انسان کو مسلمان نہیں بناتا۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تمام بنیادی تعلیمات اور ضروریاتِ دین کو دل سے سچا مانا جائے اور ان پر ایمان رکھا جائے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص بقیہ تمام احکامِ اسلام کو مانتا ہو، مگر ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک قطعی اور واضح حکم کا بھی انکار کر دے تو وہ دائرہِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مانعینِ زکوٰۃ نے بھی ایک ہی ضروری حکم ”زکوٰۃ“ کا انکار کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ کافر و مرتد قرار دیے گئے۔
اگر انسان عقلِ سلیم رکھتا ہو تو وہ فوراً سمجھ سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی ماں یا والد کے خلاف گستاخی یا بدسلوکی برداشت نہیں کرتا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اور مرتبہ کے خلاف گستاخی کسی مسلمان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
ترجمہ: ”تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے لیے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔“
یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ ایمان کی بنیاد میں رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت اور تعظیم بنیادی شرط ہے۔ لہٰذا جو شخص ان کے خلاف گستاخی کرے، ان کے علم، شفاعت یا مرتبہ میں کمی کا دعویٰ کرے، وہ باطل اور گستاخی کا مرتکب ہے۔
گستاخوں کی حقیقت مندرجہ ذیل اشعار میں دیکھیے:
شرک و بدعت والا وہابی نکلا
آخر پردہ اٹھا تو فتنہ گر ہی نکلا
ہم سنی کو کہتا تھا مشرک وہ
خود امکانِ کذب کا دعوے دار ہی نکلا
چہرہ دیکھ کے شرمائے آئینہ بھی
کیونکہ باطن مکمل شیطانی نکلا
شور مچایا بہت میں سچا، میں پاک
پر اعمال کا دفتر اس کا خالی نکلا
ہر محفل میں کرتا تھا تقویٰ کی باتیں
تنہائی میں وہ خواہشِ نفسانی نکلا
الغرض یہ ہے کہ جس فرد کے پاس علم و فہم و استعدادی قابلیت موجود ہو اور وہ بد عقیدہ افراد کے باطل نظریات کا مؤثر رد کر سکے، اسے رد کرنا واجب ہے، چاہے وہ رد تقریر کے ذریعے ہو یا تحریر کے ذریعے، کسی بھی وسیلہ سے۔ اور جس کے پاس یہ صلاحیت نہ ہو، اس کے لیے حکم ہے کہ وہ ایسے بد عقیدہ افراد سے دوری اختیار کرے، انہیں سلام نہ کرے، کلام میں شریک نہ ہو، ان کے کلپ یا ویڈیو مواد نہ دیکھے، تاکہ اس کا ایمان و فکر متاثر نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہلِ سنت پر ثابت قدم اور قائم دائم رکھے، اور وہ تمام افراد جو گمراہ کن نظریات کے حامل ہیں، انہیں ہدایت عطا فرمائے۔
