کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تلخ کلامی

تلخ کلامی
عنوان: تلخ کلامی
تحریر: عالمہ محمدی صالحہ بنت محمد ساجد

کسی انسان سے بے وجہ سخت الفاظ اور جارحانہ انداز میں گفتگو کرنا، اس کو ڈانٹنا، جھڑکنا، اس پر طنز کرنا یا کسی اور طرح الفاظ کے تیر برسانا، ایسا اندازِ گفتگو ”تلخ کلامی و بدکلامی“ کہلاتا ہے۔ تلخ کلامی ایک ایسا تیر ہے جس کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ خنجر کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر تلخ کلامی کے ذریعے دیا جانے والا زخم اتنی آسانی سے نہیں بھرتا۔ لہٰذا آپ کسی پر لفظوں کے تیر چلانے سے پہلے توجہ کریں، پل بھر یہ ضرور سوچیں کہ اگر وہی تیر جیسے الفاظ کا رخ آپ کی جانب ہوتا تو آپ پر اس کا کتنا اثر ہوتا۔

یاد رکھیں محترم! حقوق العباد میں سے یہ بھی ہے کہ انسان دوسرے مسلمان سے محبت و نرمی کے ساتھ پیش آئے اور اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی صورت میں بھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ ہمارے پیارے آقا محمدِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“

بعض لوگ صرف اس لیے بھی لوگوں کو پسند نہیں ہوتے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے بولنے کے عادی ہوتے ہیں، جو ان کے دل میں آئے بول دیتے ہیں۔ اگر وہ اچھی بات بھی بولیں تو اتنی تلخی سے کہ سامنے والا تلخ کلامی کی وجہ سے ماننے والی بات بھی نہیں مانتا اور اگر وہی بات اگر اچھے انداز میں پیار و محبت سے بولی جائے تو سامنے والا خوش بھی ہوتا ہے اور اسے تسلیم بھی کر لیتا ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جو کام نرمی سے ہوتا ہے وہ گرمی سے نہیں ہو سکتا۔ نرمی دلوں کو جیت لیتی ہے چاہے وہ گفتگو میں ہو یا معاملات میں، نرمی دل جیتنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کوئی سامان لینے بازار جاتے ہیں تو ان کی طلب کردہ چیز اگرچہ کافی ساری دکانوں پر دستیاب ہوتی ہے مگر وہ اس دکاندار سے چیز لینا پسند کرتے ہیں جس کا برتاؤ اور بات چیت کا انداز اچھا ہو۔ اسی کے برعکس ایسی دکان پر جانا کوئی پسند نہیں کرتا جہاں غیر مہذب رویے اور تلخ گفتگو کا سامنا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خوش اخلاق اور خوش کلام دکاندار نے اپنی مہذب باتوں اور خوش کلامی سے اپنے گاہک کا دل جیت لیا اور صرف خریدار کا دل ہی خوش نہیں ہوا بلکہ اس کی تجارت کو بھی فائدہ پہنچا، وہ بھی بغیر پیسہ خرچ کیے۔ جب کہ بدکلام دکاندار اپنی تلخ کلامی اور کڑوے لہجے کے تحت کاروبار کو ہی نقصان پہنچاتا ہے کہ لوگ تو کسی اور دکان سے بھی یہ چیز لے سکتے ہیں پھر اس کی تلخ باتیں کیوں برداشت کریں؟

مشہور مقولہ ہے کہ ”میٹھی زبان والے کی مرچیں بھی بک جاتی ہیں جب کہ کڑوی زبان والے کا شہد بھی نہیں بکتا۔“

حدیثِ مبارک میں ہے: ”اللہ پاک اس پر رحم فرمائے جو بیچے تو نرمی کرے، خریدے تو نرمی کرے اور جب اپنے حق کا تقاضا کرے تب بھی نرمی کرے۔“

لہٰذا ہر ایک کو گفتگو میں نرمی اختیار کرنی چاہیے خصوصاً نیکی کی دعوت دینے والوں کو، کہ جب تک شریعت واجب نہ کرے نیکی کی دعوت کا انداز نرمی والا ہو۔ نرم اور محبت بھرے انداز سے دی جانے والی نیکی کی دعوت تلخ اور ڈانٹ ڈپٹ والے اندازِ گفتگو سے کئی گنا زیادہ پر اثر ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے ظالم کافر کو بھی ابتدائاً نرمی سے نصیحت فرمانے کا حکم کچھ یوں ارشاد فرمایا:

فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ

ترجمہ کنز الایمان: ”تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا ڈرے۔“ [طٰہٰ: 44]

اسلام نے بھی نرمیِ گفتگو کی بڑی تاکید کی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اندازِ گفتگو ہمیشہ نرم اور شائستہ تھا۔ نرمی سے بات کرنے سے جھگڑے ختم ہوتے ہیں اور محبت بڑھتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم گھر، مدرسہ اور معاشرے میں نرمی سے گفتگو کریں تاکہ امن اور بھائی چارہ قائم رہے۔

اللہ رب العزت ہم سب کو تلخ کلامی و بدکلامی سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!