| عنوان: | سورہ فاتحہ کے فضائل(قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ |
| پیش کش: | معراج فاطمہ زہراوی، ممبئی |
”رَبِّ“
یہ مصدر ”تربیت“ کے معنی میں ہے۔ کسی چیز کو رفتہ رفتہ اس کے کمال تک پہنچانے کو تربیت کہتے ہیں، جسے اردو میں ”پالنا“ کہتے ہیں۔ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، یعنی پالنے والا۔ عرب کے عرف میں ”رب“ بلا اضافت اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے، البتہ اضافت کے ساتھ دوسرے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قول مذکور ہے:
”ارْجِعْ اِلٰی رَبِّكَ“ اور ”فَيَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا“
دونوں جگہ بمعنی آقا ہے، مگر اردو میں ”رب“ یا ”پروردگار“ اضافت کے ساتھ بھی مخلوق کے لیے نہیں بولا جاتا۔
”الْعٰلَمِيْنَ“
یہ ”عالم“ کی جمع ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے، جس کے معنی ہیں ”سب“۔ عالم اصل میں ”عَلِمَ يَعْلَمُ“ کا آلہ ہے، جیسے ”خَتَمَ يَخْتِمُ“ سے ”خاتَم“ ہے۔ عالم کے معنی ہیں: جاننے کا ذریعہ۔ دنیا کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز اپنے صانع اللہ عزوجل کو جاننے کا ذریعہ ہے۔
(فارسی شعر)
برگِ درختاں سبز در نظرِ ہوشیار
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار
ترجمہ: ”ہوش والوں کی نگاہ میں درختوں کے سبز پتے، اللہ عزوجل کی معرفت کے دفتر کا ایک ورق ہیں۔“
اور حقیقت تو یہ ہے کہ صرف سبز پتے ہی نہیں، سوکھا پتہ بھی، صرف ورق ہی نہیں بلکہ کائنات کا ہر ہر ذرہ اس کی معرفت کا دفتر ہے۔ اس معنیِ اشتقاق کی مناسبت سے، اللہ عزوجل کے ماسوا کو عالم کہتے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے جمع لانے کی ضرورت نہ تھی، مگر چونکہ عالم کی انواع کثیر ہیں، اگر واحد ہوتا تو اس کا شائبہ تھا کہ کوئی کسی قسم کی تخصیص کا پہلو نکالتا۔ اس کے ازالے کے لیے الف لامِ استغراق کے ساتھ جمع لایا گیا تاکہ جمیع عالم کے احاطے پر نص ہو جائے اور کسی طرح کسی تخصیص کا پہلو نہ نکلے۔
”العالمین“ جمعِ سالم ہے، اور جمعِ سالم پر الف لام، جمعِ قلت کی علامت ہے۔ حالانکہ عالم کثیر ہے، یہاں جمعِ کثرت لانی مناسب تھی۔ یہاں جمعِ قلت لانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالم کتنا ہی کثیر ہو مگر اللہ عزوجل کی شانِ ربوبیت کے آگے قلیل ہے۔ اس لیے کہ اللہ عزوجل کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح غیر متناہی بالفعل ہے اور عالم کتنا ہی کثیر ہو، بہرحال متناہی ہے۔ اور غیر متناہی کے سامنے متناہی کی کیا حیثیت؟ عالم کتنا ہی کثیر ہو، اقلِ قلیل ہوگا۔
اس کلام کی خوبی یہ ہے کہ یہ اللہ عزوجل کی اعلیٰ درجے کی حمد بھی ہے اور سننے والے کو اللہ کی حمد پر ابھارنے والی بھی۔ اس طرح کہ جب اللہ ہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور سننے والا بھی اس عالم کا ایک فرد ہے، تو اپنے پالنے والے کی حمد و ستائش انسانیت کا مقتضیٰ ہے، لامحالہ اس کے دل میں ولولہ پیدا ہوگا کہ وہ اللہ عزوجل کی حمد کرے۔
نیز کسی کی عیال داری میں بہت زیادہ افراد ہوں تو جو سنتا ہے، عش عش کرتا ہے کہ کمال ہے اتنے لوگوں کو پالتا ہے! اللہ عزوجل چونکہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، وہ بھی اس حسن و خوبی سے کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے، تو اس صفت کا تصور آتے ہی بے ساختہ زبان پر آئے گا: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“۔
ایک شخص جب بہت سے لوگوں کی پرورش کرتا ہے تو ہزار شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں، اور ہمیشہ غلط نہیں ہوتیں، کبھی کبھی صحیح بھی ہوتی ہیں۔ ماں باپ کی شفقتِ اولاد مسلّم ہے، لیکن ہزار ایسے واقعات ہیں کہ ماں باپ کا رجحان بعض اولاد کی جانب زیادہ اور بعض کی جانب کم ہوتا ہے، پھر اس رجحان کا اثر داد و دہش پر بھی پڑنے لگتا ہے۔ میاں بیوی کا تعلق نسلِ انسانی کی بقا کا ضامن ہے مگر یہاں میاں بیوی کے کتنے لطیف حقوق کی ادائیگی سے متعلق شکوے جنم لیتے رہتے ہیں۔ بھائی بھائی کی محبت بھی ضرب المثل ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مثل بھی ہے:
”سگ باش، برادرِ خرد مباش“ (فارسی)
(یعنی کتا بن جا مگر چھوٹا بھائی نہ بن)
اس لیے یہاں کوئی یہ شبہ کر سکتا تھا کہ اللہ عزوجل اکیلا سارے جہانوں کا پالنے والا ہے تو کہیں یہاں بھی اس قسم کی بے اعتدالی تو نہیں؟ اس لیے اس کے بعد فرمایا: ”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“۔ نہیں! یہاں کسی بے اعتدالی کا گزر نہیں، اس لیے کہ وہ رحمٰن سب سے بڑا مہربان بھی ہے اور رحیم رحمت والا بھی۔ کسی کو دینا، کسی کو محروم کرنا، کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دینا—یہ رحمت اور مہربانی کے منافی نہیں۔ وہ دیتا سب کو ہے مگر بقدرِ ظرف دیتا ہے۔ اس لیے کہ داد و دہش میں ظرف کا لحاظ نہ کرنا کبھی رحمت کے بجائے ظلم بن جاتا ہے۔
مثلاً ایک باپ کے دو بیٹے ہیں: ایک سعید اور صالح، دوسرا شقی، شریر، جواری اور شرابی۔ ظاہر ہے تقاضائے شفقت یہ ہے کہ سعید و صالح پر جتنی ہو سکے داد و دہش کی جائے، اور دوسرے کو ایک پھوٹی کوڑی نہ دی جائے۔ پہلے کو نہ دینا رحمت کے مقتضیٰ کے خلاف ہے اور دوسرے کو دینا رحمت کے منافی۔ اس باریک نکتے کا جلوہ اللہ عزوجل کی شانِ ربوبیت میں قدم قدم پر موجود ہے۔
”مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ“
یومِ جزا کا مالک ہے۔ مالک اسے کہتے ہیں جو اپنی ملکیت میں جو چاہے، جیسے چاہے اور جب چاہے تصرف کرے۔ یہ تصرف بجا بھی ہو سکتا ہے اور بے جا بھی۔ مگر جو مالک عاقل و دانا ہوگا وہ اپنی ملکیت میں کبھی بے جا تصرف نہیں کرے گا۔ پہلے معلوم ہو چکا کہ اللہ عزوجل تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے۔ اسے لازم ہے کہ تمام صفاتِ غیر کمالیہ سے پاک ہو، خصوصاً صفاتِ نقص سے۔ اس لیے وہ ظلم و لغو سے منزہ ہے اور حکمت والا ہے۔ اس لیے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوگا۔
وہ رحمٰن اور رحیم ہے۔ اس لیے بھی اس کا تصرف ظلم و تعدی سے پاک ہوگا۔ اب اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ عزوجل یومِ جزا کا مالک ہے، جو عدل و انصاف کے ساتھ بلکہ رحمت و کرم کے ساتھ اس دن لوگوں کو بدلہ دے گا۔ نہ کسی کی حق تلفی ہوگی، نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کوئی مستحق محروم رہے گا۔
اللہ عزوجل آج بھی سارے جہانوں کا مالک ہے اور یومِ جزا کا بھی مالک رہے گا، پھر یومِ جزا کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟
آج (یعنی اس دنیا میں) بھی اگرچہ ملکیتِ حقیقی اللہ عزوجل ہی کی ہے مگر بہت سے ایسے ہیں جو خدا کے وجود کے منکر ہیں۔ یہ خدا کی ملکیت کے کیسے قائل ہوں گے؟ بہت سے خدائی میں شرکت کے دعویدار ہیں، اور اپنی اپنی (اگرچہ مجازی اور عارضی ہی سہی) ملکیت کے دعویدار تو سبھی ہیں۔ مگر یومِ جزا کے دن کا معاملہ ایسا ہوگا کہ ملحدین و مشرکین بھی مان لیں گے کہ اس کا وجود ہے اور صرف وہی مالک ہے۔ نیز اس دن سب کی عارضی اور مجازی ملکیت بھی ختم ہو جائے گی، خالص اللہ عزوجل ہی کی ملکیت باقی رہے گی۔
لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
ترجمہ کنز الایمان: ”آج کس کی بادشاہی ہے؟ ایک اللہ سب پر غالب کی۔“ [سورۂ غافر، آیت: 16]
اس خصوصیت کی وجہ سے اسے یومِ جزا کا مالک فرمایا۔
حمدِ الٰہی کے حوالے سے انسان کی پانچ قسمیں:
اول: وہ جو ذہین، فطین اور فراخ دل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ صاحبِ کمال کو اس کے کمال سے پہچان لیتے ہیں اور اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔
دوم: جو انعام و اکرام کے بعد ہی کسی کے کمال کو جانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
سوم: وہ جو انعام و اکرام پا کر بھی اس شبہے میں گرفتار رہتے ہیں کہ شاید یہ انعام و اکرام کسی غرض کی وجہ سے ہے، غرض نکل جانے کے بعد بند ہو جائے گا۔ ایسے لوگوں کو اگر یہ توقع ہو کہ آئندہ بھی یہ فیضانِ کرم جاری رہے گا تو ممدوح کی مدح و ستائش میں لگے رہتے ہیں۔
چہارم: وہ سافل سرشت اور غافل لوگ جو کسی باکمال کے کمال کو صرف کمال سے پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور صلاحیت رکھتے بھی ہیں تو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ حد یہ ہے کہ داد و دہش بھی انہیں اعترافِ کمال پر آمادہ نہیں کرتی۔ ان کی افتادِ طبع یہ ہے کہ جب تک انہیں مار کا ڈر نہ ہو، سیدھے نہیں ہوتے۔
پنجم: وہ اسفل و ارذل جو مار کی دھمکی سے بھی راہِ راست پر نہیں آتے۔
پہلی قسم کے لوگوں کو حمدِ الٰہی پر آمادہ کرنے کے لیے اللہ عزوجل کا تصور ہی کافی ہے۔ دوسری قسم کے لوگوں کے لیے اس کی صفتِ ربوبیت و رحمت کا اعتقاد حمدِ الٰہی بجا لانے کے لیے کافی ہے۔ رہ گئے تین اخیر قسم کے لوگ، تو ان کے لیے فرمایا گیا: ”وہ یومِ جزا کا مالک ہے۔“ اگر اس کی حمد کرو گے، تو اس کا اس دن بھی اچھا صلہ پاؤ گے، اور اگر اس کی حمد نہیں کرو گے، اس کا شکر نہیں کرو گے، تو ناشکری کی سزا پاؤ گے۔ اور جو اس پر بھی اس کا شکر گزار بندہ نہ ہو سکا، وہ ضرور ناشکری کی سزا پائے گا۔
(جاری ہے...)
