| عنوان: | اسلامی شناخت ۔۔۔۔کچھ باتیں |
|---|---|
| تحریر: | محمد عابد چشتی |
| پیشکش: | بشیر مدنی |
سترہویں صدی میں سائنس اور کلیسا کے درمیان کشمکش کی تان کھنچتے کھنچتے خدا سے بغاوت اور الحاد و انکار پر جا کر ٹوٹی، اور یہیں سے انسانی برادری ایک نئے زاویے سے دو خانوں میں تقسیم ہو گئی، جس میں ایک وہ طبقہ ہے جو مذہب اور مذہبیات پر یقین کرتا ہے اور یہ جانتا اور سمجھتا ہے کہ مذہب پر عمل پیرا رہ کر ہی ایک خوشگوار زندگی گزاری جا سکتی ہے، جب کہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مذہب کو فرسودہ اور اس کی روایات و تعلیمات کو آج کی دنیا اور جدید حالات کے تناظر میں قابلِ عمل و تطبیق ہی نہیں سمجھتا ہے، اور نہ ہی مذہب اس کی نظر میں کسی مسلّمہ حقیقت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ طبقہ اپنی مرضی کے مطابق اجتماعی یا انفرادی طور پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے، جس میں کوئی خارجی دباؤ یا مذہبی قانون کسی صورت میں گوارا نہیں ہے، اور اس ردِ عمل اور مطمحِ نظر نے اچھے خاصے انسانوں کو کس طرح حیوانیت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے، آئندہ سطور میں ہم اس کے چند نمونے پیش کریں گے۔ مگر اس سے پہلے ہم یہ بتا دیں کہ آنے والے تمام حقائق اور واقعات کے ذریعے کسی طرح کی اطلاع یا معلومات کی فراہمی کے بجائے ان سے اخذ شدہ کچھ نتائج اور جہتوں پر دعوتِ فکر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس نوجوان نسل کو، قوم جن کی مذہبی قیادت کا انتظار کر رہی ہے مگر وہ خود دینی شناخت اور اسلامی تہذیب کو بڑی تیزی کے ساتھ ان غیر ضروری تاویلات کی آڑ میں ترک کر رہے ہیں کہ ”یہ فرض تھوڑی ہے“ یا ”سنت تو چھوڑ سکتے ہیں نا“، جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔
اس لیے کہ بات یہاں آ کر رکتی ہے کہ جو چیز آپ کے اسلام کی واضح اور نمایاں شناخت ہے، اس سے اجتناب کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے اور کس زاویۂ فکر کے تحت؟ اگر واقعی اس اجتناب کے پیچھے مسائل کی مختلف نوعیت اور اس کے نتیجے میں احکام میں نرمی و سہولت اور فرقِ مراتب کا اسلامی تصور پیشِ نظر ہے تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ جس چیز میں شرعِ مطہرہ نے نرمی کا گوشہ رکھا ہو ہم اس میں سختیِ بے جا سے کام لیں، مگر یہ اجتناب اگر ماڈرن تہذیب، مغربی کلچر، ایکسٹرا فیشن، اور آس پاس کے فلمی ماحول سے متاثر ہونے کی بنیاد پر ہے، تو پھر ہمیں اعتراض ہی نہیں، بلکہ ایسے لوگوں کی فکری تنگی اور مرعوبیت و بے چارگی پر افسوس اور سخت اعتراض بھی ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ اپنی تہذیب سے دوری کا سبب مذکورہ بالا امور ہی ہیں۔
خاص کر دہلی میں آنے کے بعد اسلامی مدارس سے آنے والے باصلاحیت طلبہ کے اندر جو زبردست بدلاؤ، اور فکری سطحیت دیکھنے کو ملی، اس سے ہم نے راست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اچانک آئے اس تہذیبی بدلاؤ کا محرک مسئلے کی نوعیت، فکری بلندی یا وقت کی چاپ سے چاپ ملا کر چلنے کا جذبہ نہیں ہے، بلکہ گرد و پیش کے حالات سے مرعوبیت اور خود اعتمادی کی انتہائی کمی اور غلط تاثر کا نتیجہ ہے، جس کو چھپانے کے لیے ان کے ذہنوں نے یہ سطحی دلائل ایجاد کیے ہیں۔ ایسے حالات میں تنبیہ اور خود اعتمادی کی اسپرٹ پیدا کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مرعوبیت ہمارے علما اور طلبہ کو کسی اور مرض میں مبتلا کر دے۔ مضمون تحریر کرنے کے پیچھے ہمارے عزائم جاننے کے بعد ہم اپنی گفتگو کا سرا تمہید سے جوڑتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں، یعنی کہ دنیا میں ان لوگوں کی بھی کثیر تعداد ہے جو مذہب اور مذہبی روایات سے بالا تر ہو کر زندگی گزار رہے ہیں، جسے ہم اپنی زبان میں ”من مانی زندگی“ کہہ سکتے ہیں۔ ان کے سوچنے کے انداز اور نظریات بالکل الگ ہیں۔ ان کی تعداد ہمارے ملک کی بنسبت دیگر ممالک میں زیادہ ہے، ہاں فکری سپورٹ کرنے والے ہمارے یہاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ ان میں سے چند کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جن سے اخذ شدہ نتائج کی روشنی میں ہم چند معروضات پیش کریں گے۔
فطرت پرست:
مغربی ممالک میں تیزی کے ساتھ پھیلتا یہ ایک گروہ ہے جو اپنے نظریات کو ”نیچرازم“ کا نام دیتے ہیں یعنی کہ فطرت پرستی۔ اس گروہ کی تاریخ بہت زیادہ قدیم نہیں ہے۔ 1778ء میں پہلی مرتبہ فرانس میں کچھ مخصوص فکر کے لوگ پیدا ہوئے جن کا مطمحِ نظر ہم آگے بتائیں گے، اور پھر دھیرے دھیرے اس فکر کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ اور اب امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، اسپین جیسے بڑے ممالک میں یہ قدم جما چکے ہیں۔ اس گروہ اور ان کے بانیوں کا ماننا ہے کہ دنیا میں بدامنی، لوٹ کھسوٹ، اور خاص کر عورتوں پر ہو رہے زنا، چھیڑ خانی وغیرہ مظالم کی بنیادی وجہ فطرت سے روگردانی ہے جس میں کپڑوں کو خاص طور سے فوکس کیا گیا ہے کہ کپڑے پہننے کی وجہ سے لڑکیوں کے ساتھ زبردستی زنا کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں کپڑے وغیرہ کا معاملہ ختم کر کے اسی طرح زندگی گزارنا چاہیے جس طرح ہمارے خالق نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے۔ یعنی اس گروہ کے نزدیک فطرت سے روگردانی کی دوسری تعبیر ”کپڑے پہننا“ ہے۔ اور اس فکر کے نتیجے میں ان لوگوں نے اپنی ایک الگ دنیا بسائی ہے جہاں پیدائشی بچوں سے لے کر 20 سال کے جوان لڑکے، لڑکیاں اور بوڑھے مرد و عورت سبھی برہنہ رہتے ہیں اور ہمیشہ رہتے ہیں۔ ان کے کاروبار، بازار، کلب، ہسپتال وغیرہ اسی حالت میں چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر اور مریض، بائع و مشتری سب مادر زاد برہنہ ہی رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے اپنے گاؤں اور قصبات ہیں جس کی سرحد پر "clothe prohibited" یعنی کپڑے پہننا ممنوع ہے کا بورڈ آویزاں رہتا ہے۔ انتہا یہ کہ اس گروہ کی باقاعدہ تنظیم بھی ہے جو مسلسل اس فکر کو عام کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ خیر بتانا یہ ہے کہ اپنے مخصوص نظریات کے ساتھ یہ لوگ عام طور سے خوشی سے رہ رہے ہیں اور انہیں فی الحال اپنی زندگی سے کوئی شکوہ و شکایت نہیں ہے۔
ہم جنس پرست:
یہ بھی ہماری سوسائٹی میں ہی رہنے والے وہ لوگ ہیں جن کی سوچ عام انسانوں کی سوچ سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنسی رابطوں کے لیے اگر وہ ہم جنس تعلقات بنانا چاہیں تو انہیں بھی اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کی تعداد تو بہت کم ہے مگر آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ سال پہلے انہوں نے اس فعل کی منظوری کے لیے وبال کر دیا تھا اور سرکار کو دستورِ ہند میں دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ فی الحال ہندوستان کے متعلق تو مجھے نہیں معلوم مگر دیگر بہت سے ممالک میں ان لوگوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ شادی کر کے رہ رہے ہیں۔ حیرانی ہو گی کہ خود براک حسین اوباما اسی نظریے کے حامی ہیں اور اس کی زبردست طرفداری کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی بظاہر خوشی کے ساتھ آپس میں رہ رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، بزنس چلا رہے ہیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
تبدیلیِ جنس:
تبدیلیِ جنس کو اپنا حق کہنے اور کرنے والوں کی بھی اپنی دنیا ہے جہاں لڑکی اپنی دوشیزگی اور لڑکا اپنی مردانگی سے راضی نہیں ہے، بلکہ دونوں ایک دوسرے کے اندر ہونے والے جنسی احساسات کو پرکھنے کے لیے اپنی جنس کی تبدیلی کرا رہے ہیں، اور اس غیر فطری عمل کے لیے قانونی اجازت حاصل ہے کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کسی تیسرے کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ان کی تعداد میرے خیال سے کم ہی ہوگی مگر جتنی ہوگی بہرحال ہمارے درمیان اور سوسائٹی کا حصہ بن کر ہی رہ رہے ہوں گے۔ معاشرے سے کٹ کر رہنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔
ہماری اپنی ہی دنیا میں رہنے والے کئی طرح کے افراد کا تذکرہ اختصار کے ساتھ ہم نے کیا ہے جن میں سے کچھ لوگوں سے آپ خود بھی پہلے سے واقف ہوں گے اور ہو سکتا ہے ان کے علاوہ اور بھی ایسے لوگوں کو جانتے ہوں جن کے متعلق ابھی تک ہمیں معلوم نہ ہو، مگر ہم نے ان کا تذکرہ ان کے تعارف کے لیے نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ ہمارا مقصود ہے، بلکہ ہم ان افراد کی جدوجہد اور زندگی کے کچھ ایسے پہلوؤں کو چھیڑنا چاہتے ہیں جو ہمارے اندر اپنی تہذیب و ثقافت، کلچر اور سب سے اہم دینی شعائر کے ساتھ ہماری محبت اور اس کے احیائے جدید کا جوش و جذبہ پیدا کر دیں، یعنی نہ صرف یہ کہ ہم اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھیں، بلکہ اس شناخت کے ساتھ خود اعتمادی کی ایک عالمگیر مہم چھیڑیں جس کا آغاز آپ سے اور ہم سے ہونا ہے۔ دراصل مذکورہ بالا نظریات کے حامل لوگ ہماری اپنی دنیا کے ہی افراد ہیں، مریخ یا کسی دوسرے سیارے سے آنے والے نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے اس طرزِ حیات اور پوری زندگی کا سب سے اہم پہلو ”خود اعتمادی“ اور اپنے نظریات سے محبت و حد درجہ دلچسپی ہے، جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ انہوں نے پہلے ایک نظریہ قائم کیا اور پھر یہ یقین کر لیا کہ ہم جس مطمحِ نظر کو اپنانا چاہتے ہیں ہمارے معاشرے اور زندگی کے لیے بہتر ہو گا، اور نہ صرف اس کے مطابق خود کو بدل دیا بلکہ پوری دنیا میں اپنی فکری نہج پر استوار انقلاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی کوششیں اور جدوجہد اس کا واضح ثبوت فراہم کر رہی ہیں، اور پھر فطرت سے بغاوت سے لے کر اپنی تہذیب میں خود اعتمادی کا وہ نمونہ پیش کیا اور کر رہی ہیں کہ ہزار اختلاف اور لعنت کے باوجود کم سے کم نفسِ خود اعتمادی تو لائقِ تحسین کہی جا سکتی ہے، جس سے ہمیں ہوش کے ناخن لینا چاہیے کہ ان لوگوں کی تعداد اگر فیصد میں جوڑی جائے تو ہو سکتا ہے پوائنٹ کے بعد ہی دو تین نمبر [0.03٪] کا تناسب ہو مگر یہ مٹھی بھر لوگ ساری دنیا کے عام روش اور نظریات، طرزِ معاشرت سے ہٹ کر سینہ تانے اپنی الگ اور منفرد تہذیب لیے دنیا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر شوق سے جی رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے اور بخوبی معلوم ہے کہ عام لوگ ہمیں تعجب سے دیکھتے ہیں اور ہمارے اوپر درپردہ ہنستے بھی ہیں مگر وہ کسی کے دباؤ کے تحت جینے کے بجائے اپنی زندگی خود اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتے ہیں اور جی رہے ہیں۔ ”فطرت پرست“ مادر زاد برہنہ ہو کر اپنی بستیوں میں رہ رہے ہیں اور بلا جھجھک اسی حالت میں اسکرین پر آتے ہیں اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ روش بالکل صحیح ہے لہٰذا شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم جنس پرست شادیاں رچا رہے ہیں اور یہی حال جنس تبدیل کرنے والوں کا ہے۔
یہاں ایک اور نقطے کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ ان سب سے معاشرے میں اچھوتوں کی طرح کوئی معاملہ نہیں ہو رہا ہے کہ کمپنیاں انہیں لینے سے انکار کر رہی ہوں، لوگ ان سے دور رہتے ہوں اور تنفر کرتے ہوں یا ان کے ساتھ کچھ امتیازی معاملہ برتا جاتا ہو۔ نہیں، بلکہ ان سب میں ہر ایک جس شعبے کا ماہر ہے کمپنیاں اور ادارے اپنے عام اصولوں کے مطابق انہیں اپنے یہاں جگہ دے رہی ہیں، جس کا بالکل واضح نتیجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں شخصی احوال، ذاتی نظریات اور لباس و پہناوے کو دیکھنے کے بجائے آپ کے اندر کی صلاحیت اور کارکردگی کو مدِ نظر رکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو مشہور کرکٹر ”ہاشم آملہ اور پاکستانی نژاد معین علی“ جیسے نوجوان ایک ایک ہاتھ کی داڑھی رکھ کر عالمی منظر نامہ پر نہیں چھا سکتے تھے اور نہ ہی ان کی مذہب پسندی انہیں عام مقبولیت دلا سکتی تھی، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اپنی مخصوص شناخت کے ساتھ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پوری دنیا ان کے حلیے سے قطع نظر صلاحیتوں کی داد دے رہی ہے، اور لاکھوں کی تعداد میں ان کے چاہنے والے موجود ہیں جس میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ ماڈرن خیالات والی لڑکیاں بھی ہیں۔
گفتگو کے اس موڑ پر پہنچ کر ہم مسلم نوجوان اور بالخصوص مدارس کے طلبہ کی بارگاہ میں اپنی چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ وہ ان پر ایک مرتبہ غور کریں گے اور حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے اس فکر کی توسیع میں اپنا تعاون درج کرائیں گے۔
ہمارا لباس اور ہماری وضع قطع وجوب کے دائرے میں آئے یا نہ آئے مگر اتنا تو ضرور ہے کہ مخصوص لباس ہمارے وقار اور عزت کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب، کلچر، شائستگی، سہل پسندی اور صدیوں سے چلی آ رہی شناخت کا امین اور رازدار ہے۔ لباس ہر قوم کا درپن ہوا کرتا ہے جس میں قوموں کے مزاج و ثقافت کا عکس بالکل صاف نظر آتا ہے اور زندہ قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی تہذیبی شناخت کو خود برقرار رکھے اور نئی نسل تک اسے منتقل کرنے کی کوشش کرے۔ جب کہ وہ قومیں جنہوں نے دوسروں سے متاثر ہو کر اپنی تہذیب سے کنارہ کشی اور دوسروں کے طرزِ عمل کو اپنانا چاہا وہ اکثر دھوبی کا گدھا ثابت ہوئیں اور وہ اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ خود بھی عالمی منظر نامہ سے معدوم ہو گئیں۔
ان حقائق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، دس سال تک اسلامی معاشرے میں دن رات گزارنے کے باوجود صرف چند مہینوں میں جنہیں اپنی شناخت برقرار رکھنا دوبھر پڑا ہوا ہے اور شہروں کی ہواؤں نے جن کے دماغ ماؤف کر کے رکھ دیے ہیں، ان سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ عمل عقل و خرد سے کہاں تک لگا کھاتا ہے۔ کیا لباس کی تبدیلی اور اسلامی شناخت سے تنفر مستقبل میں کسی عظیم کامیابی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟ جس دور میں انسان کے لباس کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر نظر رکھی جا رہی ہو وہاں غیروں کی دیکھا دیکھی اپنے لباس میں قطع و برید کیا احمقانہ عمل نہیں ہے؟؟؟
آج پوری دنیا اپنی مرضی کے مطابق جینے کو ترجیح دیتی ہے، وہ وہی کھاتے ہیں جو انہیں پسند ہے اور وہی پہنتے ہیں جو انہیں اچھا لگتا ہے، مگر آخر ترقی کا وہ کون سا ایسا نسخہ ہمارے ہاتھ لگ گیا جس کا پہلا فارمولا دوسرے کی بے جا تقلید سے شروع ہوتا ہے؟ فطرت سے بغاوت اور عام انسانی اصولوں کے برخلاف کوئی برہنہ رہ رہا ہے اور اگر اپنے گرد و پیش میں دیکھ لیں تو فیشن کے نام پر پھٹے پینٹ، بے ہودہ جانور کٹ بال، کانوں کی بالیاں پہنے اکثر نوجوان دیکھنے کو ملیں گے جن کے پاس اپنی تاویلیں ہیں، مگر اہم یہ ہے کہ ایک ٹوپی اور کرتا جو بہرحال احترام کی نگاہ ہی سے دیکھا جاتا ہے، پہننے میں ہچکچا رہے ہیں اور خواہ مخواہ کے دلائل دیے جا رہے ہیں، اور خود اعتمادی سے کوسوں دور دوسروں کا ”تہذیبی اترن“ پسند کر رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ اترن کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو کمتری کا احساس ہمیشہ دلاتا رہتا ہے۔ کیا ہمارے لباس کو دقیانوسیت کی علامت کہہ کر ہنسنے والوں کے لیے ہمارے ذہن نے ابھی تک کوئی معقول جواب نہیں سوچا ہے کہ نوبت خود اپنی تہذیب سے تنفر تک جا پہنچی؟
ایک دو مثالیں اور ملاحظہ کریں: ”بابا رام دیو مشہور یوگا گرو“ اپنی لال دھوتی اور ایک کپڑا پہن کر پوری دنیا کا سفر کر کے آتے ہیں۔ پی چدمبرم دھوتی اور شرٹ کا بے ہنگم لباس پہن کر کیبنیٹ میں آ کر بیٹھتے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اپنی قومی شناخت کے ساتھ عالمی میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں، تو کیا ہم ٹوپی کرتہ اور اسلامی شناخت کے ساتھ کسی کالج یا یونیورسٹی میں نہیں پڑھ سکتے؟؟ پڑھ سکتے ہیں اور ضرور پڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ بہت سے طلبہ اسی تہذیب کو گلے لگائے زیرِ تعلیم ہیں اور اپنوں اور بیگانوں میں یکساں مقبول ہیں اس لیے کہ وہ زمانے کے مزاج کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ اب ہوا کا رخ کدھر ہے۔ دراصل ہم ان باتوں پر زور صرف اس لیے دے رہے ہیں کہ آج گلوبلائزیشن کے نام پر ساری دنیا کو ایک تہذیب میں رنگنے کی سازش کئی دہائیوں سے کی جا رہی ہے، ”نیو ورلڈ آرڈر“ (New World Order) کی اصطلاح بھی اسی پیش قدمی کی نئی صورت ہے۔ ایسے میں ہماری اپنی شناخت اور تہذیب سے روگردانی درحقیقت اسلام مخالف فکر کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے جس کی امید کم سے کم مدارس کے طلبہ سے تو نہیں کی جا سکتی۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں اسلامی تہذیب کا انقلاب آئے، خاص کر مسلم سماج مغربی کلچر اور طرزِ معاشرت کو چھوڑ کر اپنی اسلامی وضع قطع اپنائیں، لباس سے لے کر ہر پہلو سے اسلام پسند ہوں اور نئی نسل تک ہماری ثقافت کی خوشبو پہنچے تو اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں ہی آغاز کرنا ہو گا اور زبردست خود اعتمادی کے ساتھ۔ سنت و واجب سمجھ کر نہ سہی کم از کم اپنی وراثت سمجھ کر ہمیں اس شناخت سے محبت کرنی ہوگی۔ موہن داس کرم چند گاندھی یعنی بابائے قوم گاندھی جی نے کہا تھا کہ:
”جس انقلاب کو تم دنیا میں دیکھنا چاہتے ہو پہلے خود وہ انقلاب بن جاؤ۔“
میں پورے احترام کے ساتھ آواز دیتا ہوں اپنے ان طلبہ کو جن کو مدرسے کی آب و ہوا نے نکھارا ہے اور بزرگوں کے سایۂ عاطفت میں جنہوں نے شعور و آگہی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے کہ دنیا کا کیا کوئی ایسا شعبہ نہیں جسے آپ سر نہیں کر سکتے۔ آگے آئیے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیجیے اور دنیا کے حالات اور قوموں کی روش سے اگر متاثر ہونا ہی ہے تو پہلے ان کی خود اعتمادی سے متاثر ہوئیے اور اپنی شناخت میں تصلب اور نئی روح پیدا کیجیے۔ میرا یقین ہے کہ آنے والی نسل تمہیں اپنا آئیڈیل بنانے میں فخر محسوس کرے گی۔
[ماہنامہ اشرفیہ، جنوری 2014ء]
