| عنوان: | غیروں کے ساتھی بنتے اپنے لوگ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
اورنگ زیب عالمگیر کے وصال کو ابھی نصف صدی ہی گزری تھی کہ نااہلی اور داخلی کمزوریوں کی بنیاد پر سلطنت مغلیہ کا اقبال ڈھلتا چلا گیا۔ جس کا فائدہ اٹھا کر مختلف گورنروں/منصب داروں اور باغیوں نے جہاں تہاں خود مختار ریاستیں قائم کر لیں، انہی میں ایک ریاست خطہ کیتھل تھی۔ (کیتھل آج ہریانہ کا ایک ضلع ہے جو کرنال اور پٹیالہ شہر کے قریب ہے) کیتھل کسی زمانے میں صوبہ سرہند کے ماتحت شہر ہوا کرتا تھا لیکن مغلوں کی کمزوری کی بنیاد پر نعمت خان نامی سردار نے یہاں اپنی خود مختار ریاست قائم کر رکھی تھی۔
اس زمانے میں کیتھل میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی، بڑے بڑے صوفیا اور مبلغین یہاں کی زینت ہوا کرتے تھے، سلسلہ قادریہ کے مشہور شیخ، شاہ کمال قادری (981-895ھ) کا حلقہ اثر اسی شہر میں تھا اور یہیں آپ کی وفات بھی ہوئی۔ خود مختاری کے بعد اس ریاست کا دہلی دربار سے رسمی سا تعلق تھا، انھیں بس سالانہ خراج پیش کر دیا جاتا تھا، شاہ عالم ثانی اتنے پر ہی مطمئن تھے، اس لیے کسی کو جواب دہی کا ڈر تھا نہ معزول ہونے کا خوف! رویے اور طور طریقے صحیح رکھے جاتے تو ریاست کیتھل کو کوئی خطرہ نہیں تھا کہ کمزور ہی سہی مغل سلطنت کی ہیبت کی بدولت کسی کو بھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی لیکن خود مختاری کے خمار میں یہاں کے حکمرانوں کی زیادتی اور ظلم بڑھتا گیا۔ غیر تو غیر اپنے بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔ عرصہ دراز تک لوگ ظلم و ستم برداشت کرتے رہے۔
جب حدیں پار ہونے لگیں تو مسلمان بھی بددل ہونے لگے، مناسب تھا کہ ان کی بے اطمینانی کو دور کیا جاتا، انھیں قریب کر کے ان کی شکایات سنی جاتیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ شہر کے سرآوردہ لوگوں نے بھیچو (بھٹنڈا کی قریبی ریاست) کے حاکم دیسو سنگھ عرف بھائی بھگتو کو یہاں قبضہ کرنے کی دعوت دے ڈالی، دیسو سنگھ نے بھاری فوج کے ساتھ کیتھل پر حملہ کر دیا مگر مسلم حکمرانوں کی عیاشی کا عالم یہ تھا کہ انھیں دفاع کا ہوش تھا نہ حملے کی اطلاع، اس لیے بڑی آسانی کے ساتھ کیتھل پر دیسو سنگھ کا قبضہ ہو گیا، مغل بادشاہ کی مداخلت کا خوف تھا اس لیے دیسو سنگھ نے دستور سابق کے مطابق مغل بادشاہ کو سالانہ خراج ادا کرنے میں کوئی آناکانی نہیں کی۔ اس لیے مسلم ریاست کے خاتمے سے شاہ عالم کو بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔
تخت دہلی کو خراج ملتا رہا اور دیسو سنگھ کیتھل پر حکومت کرتا رہا۔ مسلمانوں کے تئیں دیسو سنگھ کا رویہ ٹھیک ہی تھا لیکن مسلمانوں کے ہاتھ سے یہ ریاست ہمیشہ کے لیے نکل گئی تھی، حالانکہ جس ظلم سے بچنے کے لیے دیسو سنگھ کا ساتھ دیا، دیسو کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اودے سنگھ کی طرف سے اسی ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی حکمرانی میں ظلم تھا مگر مذہبی تعصب نہیں تھا لیکن اودے سنگھ کی جانب سے ظلم اور مذہبی تعصب دونوں برداشت کرنا پڑے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں اور ریاست مسلمانوں سے بہت دور جا چکی تھی۔ کیتھل کی تاریخ سامنے رکھی ہے اور میرے ذہن میں ملک کی وہ خبریں گردش کر رہی ہیں جہاں مسلمان اپنوں کے ظلم و ستم سے عاجز آ کر یا انتقام کی خاطر غیروں کی ٹولی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مسجد و مدرسہ کو نقصان پہنچانے والے ہوں یا قوم کا سودا کرنے والے، ہر ایک کے پاس تقریباً ویسے ہی عذر اور جواب ہیں جو کبھی کیتھل والوں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ لیکن جس طرح اہل کیتھل کا زمانہ راحت لمبا نہیں چل سکا۔ موجودہ لوگ بھی عیش و عشرت کا دور زیادہ لمبا نہیں چلا سکتے، اس لیے سماجی حکمران ہوں یا مذہبی حکمران، دونوں ہی طبقات کو چاہیے کہ عوام پر اتنا ظلم اور استحصال نہ کریں کہ لوگ عاجز آ کر غیروں کے ساتھی بن جائیں۔ دوسری جانب عوام کو بھی ضبط و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے تا کہ بعد میں کف افسوس نہ ملنا پڑے۔ تاریخ محض پڑھنے کا نہیں سیکھنے کا نام ہے کاش ہمارے قائدین اور عوام بھی کچھ سیکھ پائیں۔ [سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2025ء، ص: 33]
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
