Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

تجارت میں قسم کھانے کے نقصانات (قسط: دوم)

تجارت میں قسم کھانے کے نقصانات (قسط: دوم)
عنوان: تجارت میں قسم کھانے کے نقصانات (قسط: دوم)
تحریر: خواجہ اکرام مصباحی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

تجارت میں قسم کھانے کے نقصانات (قسط: دوم)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ [آل عمران: 77]

بے شک جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو ان سے کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

مذکورہ آیت میں جھوٹی قسم کھا کر مال لینے والے کے بارے میں بھی وعید آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا نہ ان کی طرف نظر کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور حدیث شریف میں ہے:

وعن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ”ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم“ قال: فقرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرار. قال أبو ذر: خابوا وخسروا من هم يا رسول الله؟ قال: ”المسبل، والمنان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب“

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے پیار و محبت کی گفتگو نہیں فرمائے گا اور نہ ان کو نظرِ رحمت سے دیکھے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ آپ نے تین دفعہ آل عمران کی مذکورہ آیت پڑھی۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا ناکام ہو گئے اور نقصان سے دو چار ہوئے، اے اللہ کے رسول یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: کپڑا نیچے لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کو رواج دے دینے والا۔

کسی سے گفتگو کرنا اور اس کی طرف دیکھنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کو اہمیت دی جارہی ہے اور اس پر توجہ ہے اور ان دونوں چیزوں سے کسی کو محروم کرنا اس سے اعراض و انحراف کی علامت ہے کہ ایسے لوگوں کو کوئی اہمیت و حیثیت حاصل نہیں اور مسلمانوں کے لیے آگ گناہوں سے پاکیزگی اور تطہیر کا باعث ہوگی لیکن آیت اور حدیث میں مذکور گناہ ایسے شدید ہیں کہ آگ بھی ان سے پاک نہیں کرے گی جب تک کہ توبہ نہ کی جائے لہذا ان سے بچنا ضروری ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے:

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنِ اقْتَطَعَ حَقَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ“ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ“ [رواه مسلم]

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اللہ نے اس کے لیے دوزخ کو لازم کر دیا اور جنت کو اس کے لیے حرام ٹھہرایا ہے، ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ حقیر چیز ہو اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی شاخ ہو۔

زیرِ بحث حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قسم کے ذریعہ تجارت میں کثرت ہو جاتی ہے مگر اس کثرت کا کوئی فائدہ نہیں کہ دین کی نظر میں برکت والی کثرت کی اہمیت ہے کیونکہ برکت کے بغیر کثرت سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو برکت کی دعا کی تلقین فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وضو کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي في رزقي۔

(اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما دے اور میرے گھر میں وسعت فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما)

اور برکت کا مفہوم یہ ہے کہ شے خواہ مقدار میں کم ہو لیکن اس میں افادہ اس قدر زیادہ ہو کہ وہ کم ہونے کے باوجود ضرورت پوری کر دے اور یہی اصل ہے، تاجروں کو اسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج لوگ برکت سے زیادہ کثرت کو اہمیت دیتے ہیں لہذا اپنی تجارت کو فروغ دینے اور مال کو فروخت کرنے کے لیے قسم کا سہارا لیتے ہیں ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کا یہ عمل اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے برخلاف ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا کریں اسی میں ان کا فائدہ ہے۔

تجارت میں قسم کھانے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ لوگ تاجر کی جھوٹی قسم کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے دھوکا کھا کر، اس وقت خرید تو لیتے ہیں اور مال تو چل پڑتا ہے مگر آئندہ اس جھوٹے تاجر کا کبھی اعتبار نہیں کرتے ہیں اور اس طرح تاجر صرف اسی خریدنے والے کے نزدیک نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے سامنے بھی بے اعتبار ہو جاتا ہے، افسوس کہ یہ سبق آج کے مسلمان بھول چکے ہیں جس کے نتیجے میں آج وہ تجارت میں سب سے پیچھے ہیں۔ اس لیے کوشش ہر ایک کی یہی ہونی چاہیے کہ وہ امانت و دیانت کے ساتھ اپنے کاروبار کو فروغ دیں نہ کہ جھوٹ، مکرو فریب اور جھوٹی قسم کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کریں۔ اللہ سب کو ہدایت دے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!