| عنوان: | آداب عشق اور وسائل محبت (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
- ہندوستان کے مسلم سلاطین کی اکثریت متبعِ شرع اور ان میں سے بعض اولیائے کاملین میں سے اور بعض اعلیٰ درجے کے عشاقِ رسول گزرے ہیں۔
سلطان اورنگ زیب عليه الرحمة والرضوان (1028ھ - 1117ھ) کا شمار مجددین میں ہوتا ہے۔
سلطان شمس الدین التمش (م: 633ھ) اولیائے کبار میں شمار کیے جاتے ہیں۔
سلطان محمود غزنوی (361ھ - 421ھ) عشاقِ بارگاہِ رسالت میں سر فہرست ہیں۔
ایک مرتبہ محمود غزنوی نے اپنے مشہور وزیر ایاز کے بیٹے کو اس کے اصلی نام ”محمد“ کی بجائے ”ایاز کے بیٹے“ کہہ کر پکارا۔ ایاز کو یہ راز سمجھ میں نہ آ سکا اور اسے صبر بھی نہ ہو سکا۔ اس نے سلطان محمود غزنوی سے اس کا سبب دریافت کیا۔ سلطان محمود غزنوی نے جواب دیا کہ میں اس وقت باوضو نہیں تھا، اس لیے میں نے یہ مبارک و مقدس نام زبان پر لانا مناسب نہ سمجھا۔
سبحان اللہ! سلاطینِ وقت بارگاہِ نبوی میں اس قدر مؤدب تھے۔ آج کے مفلس قلاشوں کو دیکھو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسری کے دعویدار ہیں، جب کہ وفا کیشانِ دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا ہے:هزار بار بشویم دهن بمشک و گلاب
ترجمہ: مشک و گلاب سے منہ کو ہزار بار دھولوں، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک زبان پر لانا (عشاق کی نظر میں) مکمل بے ادبی ہے۔
هنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است - سلطان شمس الدین التمش (م: 633ھ) کے فرزند اصغر سلطان ناصر الدین محمود نے ہندوستان پر بائیس سال حکومت کی۔ سلطان ناصر الدین محمود (م: 664ھ) کے بارے میں مشہور مؤرخ محمد قاسم فرشتہ (م: 1552ء) نے لکھا:
”کہا جاتا ہے کہ ناصر الدین کے ایک مصاحب کا نام ”محمد“ تھا۔ بادشاہ اسے ہمیشہ اسی نام سے پکارا کرتا تھا۔ ایک روز ناصر الدین نے اس مصاحب کو تاج الدین کہہ کر آواز دی۔ اس مصاحب نے اس وقت تو بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی، لیکن بعد میں اپنے گھر چلا گیا اور تین روز تک بادشاہ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا۔ ناصر الدین نے اس مصاحب کو طلب کیا اور اس کی غیر حاضری کا سبب دریافت کیا۔ مصاحب نے جواب دیا:
آپ ہمیشہ مجھے ”محمد“ کے نام سے پکارا کرتے تھے، لیکن اس دن آپ نے خلاف معمول ”تاج الدین“ کہہ کر پکارا۔ میں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی بدگمانی پیدا ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے میں تین روز تک آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا، اور یہ سارا وقت انتہائی پریشانی اور بے چینی کے عالم میں بسر کیا۔“
بادشاہ نے قسم کھا کر کہا میں ہر گز ہر گز تم سے بد گمان نہیں ہوں، لیکن میں نے جس وقت تم کو ”تاج الدین“ کے نام سے پکارا تھا، اس وقت میں باوضو نہیں تھا۔ مجھے یہ مناسب نہ معلوم ہوا کہ بغیر وضو ”محمد“ کا مقدس نام اپنی زبان پر لاؤں۔ [تاریخ فرشتہ، ج: 1، ص: 189، اشرفی بکڈپو دیوبند]گزاری عمر ساری میں نے آبِ کوثر کی تمنا میں
ارشادِ الٰہی وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کا جلوہ دیکھو کہ سلاطینِ وقت بلا وضو میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک زبان پر نہیں لاتے اور آج کل بدمذہبوں کا ایک بڑا طبقہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جیسا بشر کہتا ہے اور انھیں شرم بھی نہیں آتی: أَعَاذَنَا اللهُ مِنْ شُرُورِهِمْ آمِين۔
زباں جب تک نہ دھلتا نام کیا لیتا پیمبر کادھوکے میں نہ آ جائے کہیں فکر و آگہی
اے بندگانِ الٰہی! ہم تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور ان کی ناموس پر مر مٹنے کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ رب تعالیٰ نے عشقِ مصطفوی اور تعظیمِ نبوی کو اہلِ سنت و جماعت کے خمیر میں مخلوط فرما دیا ہے۔
تاجدارِ کائنات لباسِ بشر میں ہیںہے محبت سے عبادت میری فطرت کا خمیر
مجھے کیوں فکر ہو اختر میرے یاور ہیں وہ یاور
میں وفا کے واسطے ہوں اور وفا میرے لیے
رب تعالیٰ کا کروڑوں شکر کہ ہمارے سروں پر مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ اقدس ہے۔ وہی ہمارے ماویٰ و ملجا ہیں۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں:
وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ. [صحیح البخاری، ج: 1، کتاب الوحی]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کا بوجھ اٹھانے والے اور محتاجوں کے لیے کمانے والے ہیں، یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بے سہاروں کے سہارا ہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
وَاَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ
یعنی آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔
جب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سائل کو محروم نہ فرمائیں گے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ مبارکہ قرآن ہی کی مثل (مطابق) ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ. [مسند احمد بن حنبل، ج: 6، ص: 91 / مستدرک علی الصحیحین للحاکم، ج: 2، ص: 541 / المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 20، ص: 255 / دلائل النبوۃ للبیہقی، ج: 1، ص: 309]
اور قرآن مقدس میں ہے:
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ یعنی آپ کے اخلاق بڑے بلند رتبہ ہیں، اور اللہ تعالی نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت زیادہ عطا فرمایا۔
ارشادِ الٰہی ہے:
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ، اور مزید عطا فرمائے گا۔ فرمانِ خداوندی ہے:
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خزانۂ الٰہی کے مالک ہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائلین بھی خوب پائیں گے۔ ان کی محرومی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ سخی کے دربار سے ہر کوئی اپنا حصہ پاتا ہے۔جو کچھ ملا ان سے ملا جان ہیں وہ جہان کی
چوں کہ ہماری دنیا و آخرت کے تمام امور دربارِ اعظم سے منسلک ہیں۔ نعمتِ خداوندی انہیں کے دستِ مبارک سے کائنات کو ملتی ہے۔ دربارِ اعظم میں جو کوئی بھی ادب و تعظیم کے ساتھ حاضر ہوا، بے حساب پایا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي. [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 16]
یعنی اللہ عزوجل مجھے عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ اب کائناتِ عالم کی ایسی بے مثل و بے مثال اور منفرد و یگانہ ہستی کا تذکرہ شروع ہو تو زبانِ خلق بند نہیں ہوتی۔کبھی جب ذکر چھڑ جاتا ہے ان کا
لیکن ان کی کامل معرفت نہ مجھے حاصل ہے۔ نہ مخلوقات میں سے کسی اور کو، پس انجامِ کار ہم بھی وہی کہتے ہیں جو صدیوں قبل علامہ عبد الرحمن جامی (817ھ - 898ھ) کہہ چکے۔
زباں ہوتی نہیں دو، دوپہر بندیا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجھک المنیر لقد نور القمرلا یمکن الثناء کما کان حقک
ترجمہ: اے حسن و جمال والے! اور اے نوعِ انسانی کے سردار! آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے روشن و منور روئے مقدس سے چاند کو روشنی ملی۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے شایانِ شان ثنا خوانی ممکن نہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ اللہ عزوجل کے بعد سب سے عظمت و بزرگی والے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
حضرت شیخ سعدی شیرازی (589ھ - 691ھ) نے دربارِ اعظم میں عرض کیا:چہ وصفت کند سعدی ناتمام
ترجمہ: نامکمل سعدی شیرازی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصف بیانی کیا کر سکے۔ یا نبی علیک الصلوۃ والسلام آپ پر درود و سلام ہو۔
علیک الصلوٰۃ یا نبی والسلام
اربابِ دل کے لئے اپنے دل کی بات علامہ فضل حق خیر آبادی (1797ء - 1861ء) نے اس طرح بیان فرمائی۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی یہی کیفیت تھی۔يَا سَائِلًا عَنْ شَانِهِ يُغْنِيكَ عَنْ تِبْيَانِهِ
ترجمہ: اے ان کی شان کے بارے میں سوال کرنے والے! ان کی شان کے بیان سے تجھے وہ آنسو بے نیاز کر دے گا جو ان کی شان میں لگاتار بہا اور اس کی آہ و زاری بہت بڑھ گئی۔
دَمْعٌ جَرَى فِي شَانِهِ هَمْلًا وَفَرْطُ أَنَانِهِ
اس ذاتِ ستودہ صفات کی وصف بیانی کرتے ہوئے مجھے جو مسرت و شادمانی محسوس ہو رہی ہے، الفاظ کے ذریعے ان احساسات کی نقاشی نہیں کی جا سکتی اور حروف و کلمات ان کیفیات کی صورت گری نہیں کر سکتے۔
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں بزبانِ عربی ایک قصیدہ مدحیہ میں نے بھی نظم کیا ہے جو ہماری کتاب ”قانونِ شریعت (شافعی)“ میں طبع ہو چکا ہے۔ اسی طرح میں نے اپنی کتاب ”البرکات النبویہ فی الاحکام الشرعیہ“ میں بھی منظوم و منثور مدحت سرائی کی ہے۔
بفضلہ تعالیٰ و بعطاء حبیبہ الاعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تا دمِ تحریر میری تصانیف کی تعداد پچھتر (75) سے زائد ہو چکی ہے اور بتوفیقِ الٰہی میری اکثر تصنیف کا مقدمہ و ابتدائیہ ”مدحِ مصطفوی“ پر مشتمل ہوتا ہے، تاکہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما کر اپنے دریوزہ گر کو انعاماتِ شاہانہ سے سرفراز فرمائیں، حالاں کہ تصنیف و تالیف کے قواعد و قوانین اس طرزِ بدیع سے متصادم ہوتے ہیں، لیکن ان اصول و ضوابط کی پابندی سے مجھے کیا فائدہ؟ جب کہ دوسری جانب (إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي) کا جلوہ سدا بہار غلاموں کا کشکول خالی نہیں ہونے دیتا: فَالْحَمْدُ لِرَبِّي عَلَى ذَلِكَ حَمْدًا وَافِرًا، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى حَبِيبِي دَائِمًا أَبَدًا، وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَتْبَاعِهِ سَرْمَدًا. [عشق نبوی کے آداب و وسائل، ص: 24]
