| عنوان: | اسلام اور قربانی |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی پرنسپل الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور |
| پیش کش: | محمد کامران رضا گجراتی |
نسل آدم کا وجود جس وقت سے ہوا تقریباً اسی وقت سے نسل آدم کے ساتھ قربانی کا تعلق بھی چلا آرہا ہے مالک حقیقی کی بارگاہ میں سرخ رو ہونے اور تاج عزت و کرامت حاصل کرنے میں قربانی کو ہمیشہ سے بڑا دخل رہا ہے بلاشبہ قربانی تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر دور، ہر طبقہ میں راز کامرانی و کامیابی سمجھی جاتی رہی ہے۔ بنی نوع آدم جب بھی کسی بلند مرتبے کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے حسب مراتب کچھ نہ کچھ قربانیاں ضرور پیش کرنا پڑتی ہیں۔ حالات زمانہ اور تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روشن ہوتی ہے کہ امت محمدیہ سے پہلے جتنی قوموں نے جنم لیا اور جتنی بھی امتیں روئے زمین پر ابھریں اللہ عزوجل نے سب کو قربانی کا حکم دیا ہے۔
ارشاد خداوندی ہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا
ترجمہ کنز الایمان: ”اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو۔“ (پارہ: ۱۷، سورۃ الحج، آیت: ۳۴)
مالک حقیقی محبوب سے محبوب تر قربانیوں کا حکم فرماکر اپنے نیک اور مخلص بندوں کا امتحان لیتا رہا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پہلی اولاد ہابیل و قابیل نے اقلیما سے نکاح کے سلسلے میں نزاع کیا۔ تو اس وقت بھی بارگاہ خداوندی میں قربانیاں پیش کی گئیں۔ اور قربانی کی قبولیت ہی کو مقصد میں کامرانی و کامیابی کا معیار سمجھا گیا۔
امت محمدیہ کی قربانی
امت محمدیہ کے صاحب نصاب ہر فرد پر ہر سال بارگاہ خداوندی میں ایک مخصوص طریقے پر مخصوص جانور کو خاص ایام میں ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ یہ قربانی درحقیقت ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ جس وقت پیغمبر اسلام نے قربانی کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا تھا: مَا هَذِهِ الْأَضَاحِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ترجمہ: ”یہ قربانیاں کیا ہیں؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔“ ارشاد فرمایا: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ”تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت۔“ (امام ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ، ص: ۵۱۰، ح: ۳۱۲۶، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم کی یاد باقی رکھنے کے لئے اپنی امت کے صاحب نصاب ہر شخص پر سال میں ایک بار مخصوص عمر کے کچھ مخصوص جانوروں کی قربانی واجب فرمائی۔ ایسا اس لئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی وہ جلیل القدر پیغمبر ہیں، جن کی زندگی میں دین اسلام کا مکمل نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلام کے معنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔ اور اسی کا دوسرا نام قربانی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں قربانی کا ہر ہر مرحلہ طے کیا۔ خاندانی تعلقات کی قربانی، وطن کی قربانی، جان کی قربانی، رشتہ ازدواج کی قربانی، بیٹے کی قربانی، گویا آپ کی زندگی میں پوری ایک امت کی اطاعت شعاری کا حصہ موجود ملتا ہے۔
آزمائش ہے نشان بندگان محترم
جانچ ہوتی ہے اسی کی جس پہ ہوتا ہے کرم
اسی لئے قرآن حکیم نے فرمایا:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا
بیشک ابراہیم ایک امام تھا اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا اور مشرک نہ تھا۔ (پارہ: ۱۴، سورۃ النحل، آیت: ۱۲۰)
زندگی کا یہ منظر چونکہ اسلام کی حقیقت کاملہ کی صحیح عکاسی کر رہا تھا۔ اس لئے اللہ نے پسند فرماتے ہوئے اسے اسلامی تصور حیات کا نمونہ قرار دیا۔
پھر چونکہ اللہ کا پسندیدہ اور ابدی دین دین اسلام ہی تھا۔ اس لئے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی یادگار باقی رکھنے کے لئے انہیں کی اولاد میں انہیں کی دعا کے مطابق ایک قوم پیدا فرمائی جسے خود حضرت ابراہیم نے امت مسلمہ کے نام سے پکارا تھا چنانچہ اسلام میں عبادات کا جو نظام جاری ہے اس میں زیادہ تر ابراہیمی شریعت کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔
اسلامی عبادات
اسلام کی عظیم الشان اور اہم ترین عبادت نماز کی ادائیگی کے انداز ابراہیمی نماز کی یاد دلاتے ہیں۔ اسی طرح زکوۃ بھی وہ عبادت ہے جو ابراہیمی شریعت میں موجود تھی۔ اور حج بیت اللہ تو محتاج بیان ہی نہیں کہ ایام حج میں جگہ جگہ حضرت ابراہیم اور ان کی آل کی سنت ادا کر کے ان کی یاد تازہ کی جاتی ہے اسی طرح موجودہ قربانی بھی اسی جلیل القدر پیغمبر اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگار ہے۔ لیکن ایام حج میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کی یادگار صرف مخصوص مقامات میں منائی جا سکتی ہے۔ لیکن قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ یادگار ہے جسے مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکناف عالم کے ہر ہر فرد مسلم کے لئے عام فرما دیا تاکہ شعار ابراہیمی عالمگیر حیثیت اختیار کر سکے۔
قربانی حج اصغر ہے
زمانہ حج میں حجاج پر قربانی لازم قرار دی گئی اور جملہ مسلمانان عالم کے ہر صاحب نصاب شخص پر بھی قربانی واجب قرار دی گئی۔ دونوں قربانیوں کے اکثر مسائل و احکام بھی یکساں ہیں۔ بلکہ حاجیوں کے بعض خاص احکام ان مسلمانوں کے لئے بھی جاری کر دیئے گئے ہیں جو زمین کے کسی بھی حصے میں ہوں۔ اور قربانی ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
مثلاً حضور نے ارشاد فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا
ترجمہ: ”جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ آجائے پس اگر تم میں سے کسی کو قربانی ادا کرنا ہو تو وہ اپنے بال و جلد کو نہ چھوئے۔“ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وہو مرید التضحیۃ ان یاخذ من شعرہ او اظفارہ شیئا، ص: ۷۸۵، ح: ۳۹، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ناظرین جانتے ہیں کہ یہ حکم حجاج کرام کے لئے لازم ہے کہ ایام حج میں بال و ناخن وغیرہ نہیں کاٹ سکتے لیکن بانی اسلام نے اسے ہر مسلمان کے لئے عام فرمایا۔ معلوم ہوا کہ اللہ سے محبت، وارفتگی اور تسلیم و ایثار جیسے جذبات حج سے مقصود ہوتے ہیں۔ شارع اسلام کی نظر میں وہی جذبات قربانی سے بھی مقصود ہیں۔ حج اور قربانی کے اس تعلق سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قربانی دراصل ایک حج صغیر ہے۔ جو بڑے حج کا نائب بن کر جملہ مسلمانان عالم کے لئے عام رکھی گئی تاکہ اسلام کی دیگر عبادات کی طرح حج کے فیوض و برکات بھی آفاقی اور عالمگیر بن جائیں۔ جن دنوں میں حجاج ارکان حج سے فارغ ہو کر منی میں قربانی کر کے اپنے خدا کے حضور اپنی انتہائی وارفتگی اور فداکاری کا عہد پیش کرتے ہیں۔ بالکل ٹھیک ان ہی دنوں میں اور ان ہی ساعتوں میں مشرق و مغرب کے تمام مسلمان بھی اپنی اپنی بستیوں میں بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کہ اپنے اپنے قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں۔
قربانی کا نماز سے تعلق
ارشاد خداوندی ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمہ کنز الایمان: ”تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“ (پارہ: ۳۰، سورۃ الکوثر، آیت: ۲)
آیت کریمہ میں قربانی اور نماز کو ایک ساتھ رکھا گیا جس سے دونوں کے درمیان کسی گہرے تعلق کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ بندہ جب اپنی مصروفیات کے اوقات سے کچھ وقت نکال کر بارگاہ رب العزت میں اپنی جبین نیاز کو خم کرنے کے لئے حاضر ہوتا ہے تو گویا اللہ کے لئے ایثار و تسلیم کا عہد لے کر حاضر ہوا کہ بار الہ میں نے اپنا سب کچھ ترک کرکے تیری بارگاہ میں سر تسلیم و رضا جھکا دیا ہے یعنی میں نے اب تک جو کچھ کیا ہے تیری بارگاہ میں نثار ہے۔
اسی طرح قربانی ایثار و تسلیم کا وہ عہد ہے کہ بندہ خدا کے دین کے لئے آج وقت آنے پر اپنے جانوروں کو ذبح کرکے مال کی قربانی پیش کرتا ہے۔ تو اگر کبھی جان عزیز کی قربانی کی باری آئی تو اس میں بھی پیچھے نہ رہے گا۔ گویا نماز اور قربانی دونوں محبت الہی اور ایثار و للہیت کی سرشاریوں کا دریا بہا رہے ہیں۔ اس لئے بندہ مومن کو قرآن حکیم نے یہ نعرہ عطا فرمایا کہ کہہ:
إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
یعنی میں اللہ کی راہ میں ابتداء سے انتہا تک ایثار کے ہر مرحلے طے کرنے کے لئے تیار ہوں اور وقت کی قربانی سے لے کر جان کی قربانی بھی پیش کرنے سے دریغ نہ کروں گا۔ (پارہ: ۸، سورۃ الانعام، آیت: ۱۶۲)
بندہ مومن کی زندگی کی جملہ سرگرمیاں نشست و برخاست اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا سب اللہ کے لئے ہوں گے۔ جس کو ایک نمازی مسجد کی طرف قدموں کو بڑھا کر روزانہ پانچ وقت اپنی نماز کے حرکات و سکنات، قیام، قراءت قعود، جلوس، رکوع ادا کر کے اپنی زندگی کے جملہ علامات کو اللہ کی راہوں میں قربان کرنے کا عہد کرتا ہے۔ اور سال میں ایک بار اللہ کی راہ میں اپنے جانور کو ذبح کر کے اس بات کا بھی عہد کرتا ہے کہ میری زندگی تو اللہ کے لئے ہے ہی، موت بھی اللہ کے لئے ہے۔ گویا عبادت سے مراد زندگی اور موت سے مراد قربانی ہے۔
قربانی کی عظمت
قربانی کو شعائر اللہ کہا گیا۔ جس سے اس کی تعظیم کی طرف رغبت دلائی گئی۔ قربانی کو عظمت کی نگاہ سے دیکھنا، دل کے تقوی میں سے ہے۔ قربانی سنت ابراہیمی ہے۔ قربانی پل صراط پر سواری ہے۔ قربانی تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ قربانی کے گوشت پوست قابل قدر ہوتے ہیں۔ ایام نحر میں بنی آدم کا کوئی عمل قربانی سے افضل نہیں۔ قربانی خلوص و للہیت کا شاندار مظہر ہے۔ قربانی اسلام کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔ قربانی صبر و شکر کا شاہکار ہے۔ قربانی کے جانور کے ہر ہر بال پر دس دس نیکی عطا فرمانے اور دس دس گناہ معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ قربانی کے یہ جانور اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔ قربانی جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔ قربانی ماحی خطایا ہے۔
ارشاد خداوندی ہے:
وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
ترجمہ کنز الایمان: ”اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لو ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں گر جائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو۔“ (پارہ: ۱۷، سورۃ الحج، آیت: ۳۶)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عَظِّمُوا ضَحَايَاكُمْ فَإِنَّهَا عَلَى الصِّرَاطِ مَطَايَاكُمْ ”اپنی قربانیوں کو تندرست کرو کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔“ (ابو حامد الغزالی، الوسیط فی المذہب، کتاب الضحایا، ص: ۱۳۱، ج: ۷، دار السلام، الازہر)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قربانی کا حکم صادر فرمایا، اور بتایا کہ یہ قربانیاں تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں تو صحابہ نے پوچھا کہ: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ. قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ. ترجمہ: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانیوں میں ہمارے لئے کیا ہے۔ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی، پوچھا صوف یعنی اون میں؟ فرمایا: اون کے بھی ہر بال میں ایک نیکی ملے گی۔“ (امام ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ، ص: ۵۱۰، ح: ۳۱۲۷، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حدیث میں ہے: مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ ترجمہ: ”یوم نحر کو اللہ کے نزدیک ابن آدم کا سب سے بہتر عمل قربانی کرنا ہے۔“ (امام ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ، ص: ۵۱۰، ح: ۳۱۲۶، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حضرت غوث الثقلین سیدنا عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ والرضوان غنیۃ الطالبین میں ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے دربار الہی میں عرض کی الہی حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو قربانی کا کیا ثواب ملے گا۔ ارشاد ہوا: قربانی کے ہر بال پر دس نیکیاں عطا کروں گا دس گناہ معاف کروں گا۔ اور دس درجے بلند کروں گا۔ اے داؤد کیا تجھے معلوم نہیں: إِنَّ الضَّحَايَا هِيَ الْمَطَايَا وَإِنَّ الضَّحَايَا تَمْحُو الْخَطَايَا ترجمہ: ”قربانیاں (پل صراط پر) سواریاں بنیں گی اور گناہوں کو مٹا دیں گی۔“ (عبد القادر الجیلانی، غنیۃ لطالب حق الطریق، مجلس فی فضائل یوم الاضحی و یوم النحر، فصل فی فضیلۃ یوم النحر ویوم الاضحیۃ، ص: ۷۷، ج: ۲، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
قربانی نہ کرنے والوں کی مذمت
وسعت ہونے کے باوجود اگر کسی نے قربانی نہ کی تو اللہ کے رسول نے اسے عیدگاہ کے قریب بھی آنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
مَنْ وَجَدَ سَعَةً وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
ترجمہ: ”جو وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں ہر گز نہ آئے۔“ (امام ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب الاضاحی واجبۃ ہی ام لا، ص: ۵۰۹، ح: ۳۱۲۳، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
قربانی کی حکمتیں
امت محمدیہ کے ہر صاحب نصاب فرد پر ہر سال جو قربانی واجب فرمائی گئی۔ اس میں انسانیت کی صلاح و فلاح اور تقوی شعاری کا راز مضمر ہے۔ ساتھ ہی دوسروں کی حاجت برآری کا عظیم مقصد ہے۔ جیسا کہ قربانی کے گوشت کو غرباء و مساکین اور دوسرے حاجت مند افراد تک پہونچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اعزہ و اقارب، دوست و احباب کے یہاں بھی بطور تحفہ بھیج کر اسلامی رشتہ اخوت ہمسائگی و بھائی چارگی، باہمی اتحاد و اتفاق کی قوت پیدا کی جاتی ہے۔ گویا قربانی حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کی بھی ادائیگی کا نمونہ ہے۔
